Sunday , September 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / دیگلور پنچایت سمیتی صدر و نائب صدر کا انتخاب

دیگلور پنچایت سمیتی صدر و نائب صدر کا انتخاب

صدارتی عہدہ کے لئے شیواجی دیشمکھ اور گریدھر پیٹل اہم دعویدار

دیگلور۔ 12 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع ناندیڑ میں دیگلور تعلقہ ہی ایسا کانگریسی گڈھ کا ثبوت دیا ہے کہ جہاں پر ضلع پریشد کے پانچ حلقہ جات سے چار کانگریس کے حق میں اور صرف ایک بی جے پی نے جیتی جبکہ شیوسینا کی ضمانت بھی بچ نہ سکی ۔ اسی طرح سے تقریباً دس پندرہ سال بعد پنچایت سمیتی دیگلور پر کانگریس نے پھر سے اپنا قبضہ جمایا۔ جس کی کل ملا کر دس کے منجملہ 7 پر کانگریس نے جیت حاصل کی ہے ۔ تو صرف تین پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ جبکہ شیوسینا کو یہاں بھی ضمانت بچانا دشوار رہا ہے ۔ ریاست مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حکومت رہنے کے باوجود میونسپلٹی کی دونوں ہی زعفرانی پارٹیوں کو دیگلور میں کوئی موقع نہیں ملا ہے ۔ جبکہ حلقہ اسمبلی دیگلور پر شیوسینا کے ایم ایل اے براجمان ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ عوام الناس نے شہر دیگلور کی بلدیہ کے ساتھ ساتھ تعلقہ میں بھی کانگریس کا بھرپور ساتھ دیا ہے ۔ پنچایت سمیتی کے لئے صدارتی عہدہ کے حقدار معتبر قائد یوتھ لیڈر جو ضلع ناندیڑ کانگریس کمیٹی کے نائب صدر بھی ہیں ‘ مسٹر شیواجی دیشمکھ بلیگاونکر دعویدار ہیں جبکہ دوسرے دعویدار مسٹر گریدھر پٹیل سوگانرنکر جو کہ تعلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ لیکر خانہ پور حلقہ سے جیتے ہیںاگر چیکہ یہ مسٹر امر راجورکر کے حلقہ بگوش ہم نشین ضرور ہیں تو مسٹر شیواجی دیشمکھ ابتداء ہی سے سابق وزیر اعلی مسٹر اشوک راؤ چوہان (ریاستی صدر پارٹی) کا سیدھا ہاتھ رہے ہیں ۔ البتہ درمیانی دہے میں جب کانگریس میں اقتدار کی لڑائی چل رہی تھی دیشمکھ طبقہ کو پیٹل طبقہ کانگریس پارٹی پر بڑھتا ہوا غاصبانہ قبضہ اور ’’داماد‘‘ کا ظلم نہ برداشت کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے قدرآور قائد مسٹر کنگادھر دیشمکھ کنٹورکر ( سابق ایم پی و زیر کی قیادت میں یہ دیشمکھ طبقے کے ساتھ راشٹر وادی کانگریس پارٹی میں شرکت کی تھی ۔ جب مہاراشٹرا میں شیوسینا کا زور تھا اور ’’داماد‘‘ کی پالیسی بھی زعفرانی طاقتوں کو اندرونی طورپر قوت پہنچانا ٓٓآستیں کا سانپ ثابت ہو رہا اس لئے یہ طبقہ برداشت نہ کیا ۔ آخر معلوم ہی ہوگیا کہ وہ ’’داماد‘‘ آستیں کا سانپ ہی نکلا ۔ پانچ سال پہلے اس اقتدار کے بھوکے نے بی جے پی میں داخل ہوا ہی نہیں بلکہ ریاستی نائب صدر کا عہدہ بھی انہوں نے پالیا تو یہاں کے تمام اشوک راو چوہان (ایم پی ) کے رفیق شیواجی دیشمکھ نے اپنے سینکڑوں نوجوانوں رفقاء کے ساتھ پانچ سال قبل کانگریس میں شرکت کی صرف شرکت ہی نہیں کی دیگلور بلدیہ میں اورضلع پریشد و پنچایت سمیتی انتخابات میں پارٹی کی حکومت قائم کرنے میں مددگار ثابت کر دکھایا۔ پنچایت سمیتی نائب صدر کے عہدہ پر کون براجمان ہوگا تو یہاں پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ تعلقہ میں شیواجی دیشمکھ کے کاندھے کو کاندھا لگا کر ساتھ دینے والے ۔ پارٹی کے ضدی یوتھ کارکنان کا سننا بھی یہاں ضروری پڑتا ہے ۔ اس لئے قیادت اگر شیواجی دیشمکھ کو صدر بناتی ہے تو مسٹر گریدھر پیٹل سوگاونکر کو نائب صدر بنا کر خاموشی کراسکتی ہے یا پھر دیگلور بلدیہ کی طرح او بی سی طبقہ نوجوانوں کی محنت اگر پارٹی قیادت واقعی قدر کرسکتی ہے تب ہنے گاوں سرکل کے وجھر کے ساکن یوتھ لیڈر سنجے ول کلے کو موقع دے سکتی ہے ۔ 14 مارچ کو پنچایت سمیتی صدر و نائب صدر عہدہ کے انتخابات کا اعلان ہو کر تمام ہی اراکین کو پریسائیڈنگ آفیسر مسٹر وٹھل کولی نے نوٹس جاری کر دی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT