Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / دیہاتی عوام احتجاجوں پر قانونی جنگ کی فوقیت کے خواہاں

دیہاتی عوام احتجاجوں پر قانونی جنگ کی فوقیت کے خواہاں

سی پی آئی ایم کی دادری پر ’’نفرت انگیز‘‘ عزائم کیلئے بی جے پی کی مذمت

گریٹر نوئیڈا ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) پولیس کی جانب سے زدوکوب کرکے ہلاک کردینے والے شخص کے ارکان خاندان کے خلاف مبینہ ذبیحہ گاؤ اور بیف استعمال کرنے کے الزام میں تحقیقات کا پولیس کی جانب سے آغاز سے ایک دن قبل بشاڑا کے دیہاتیوں نے سڑکوں پر احتجاج پر قانونی جنگ کو فوقیت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ مقامی عوام نے دیگر دیہاتوں سے بھی ربط پیدا کیا ہے تاکہ ایک مہاپنچایت منعقد کی جائے۔ محمد اخلاق مرحوم کے خاندان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ اخلاق کو 9 ماہ قبل اس کے خاندان کی جانب سے مکان میں بیف کا ذخیرہ کرنے اور اسے کھانے کی افواہوں کی بناء پر زدوکوب کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ ایک ملزم وشال رعنا کے والد سنجے رعنا نے کہا کہ دیگر دیہاتوں سے ربط پر ہمیں تائید حاصل ہوئی ہے۔ اخلاق کے خاندان کے  خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے جبکہ اندرون 20 دن اگر کوئی ایف آئی آر درج نہ کروائی جائے تو معاملہ کی یکسوئی کیلئے سڑکوں پر احتجاج کے بجائے مہاپنچایت منعقد کی جاتی ہے۔ مسلم برادری کے ارکان جو بشاڑا دیہات میں رہتے ہیں، ان کا کہنا ہیکہ کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں تھی۔

ان کے ہندو پڑوسیوں نے انہیں تحفظ فراہم کیا تھا۔ دھرم سنگھ نے کہا کہ تاہم ہم نے مقدمہ عدالت میں پیش کردیا ہے تاکہ ملزمین کی بے قصوری ثابت کی جاسکے۔ دیگر کئی دیہاتی عوام نے بھی اسی خیال کا اعادہ کیا۔ تاہم بعض افراد نے جارحانہ موقف اختیار کرنے کی تائید کی۔ ریاستی حکومت پر جانبدارانہ کارروائی اور ملزمین کی تائید کا الزام عائد کرتے ہوئے سورج سنگھ اور دیگر مقامی عوام نے کہا کہ جب تک ہم جارحانہ رویہ اختیار نہ کریں اخلاق کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ سینئر عہدیدار استغاثہ دیاشنکر رام ترپاٹھی نے آج کہا کہ دفعہ 156(3) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی اس لئے نہیں کی گئی کیونکہ بعض اظہارتعزیت کے جلسے ہورہے تھے اور وکلاء کام سے غیرحاضر تھے۔ دریں اثناء عہدیداروں نے دیہات کی صورتحال کو حسب معمول قرار دیا اور کہا کہ دیہی عوام انتظامیہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں تاکہ غیرسماجی عناصر کے تشدد کا انسداد کیا جاسکے۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب سی پی آئی ایم نے بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دادری میں فرقہ وارانہ جذبات ابھار رہے ہیں اور حکومت یوپی کو چاہئے کہ تشدد کیلئے اشتعال انگیزی کرنے والے ’’عناصر‘‘ سے سختی سے نمٹیں۔ سی پی آئی ایم کے پولیٹ بیورو سے جاری کردہ بیان میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT