Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دیہی علاقوں میں خانگی کالجس کے قیام کا منصوبہ

دیہی علاقوں میں خانگی کالجس کے قیام کا منصوبہ

نئے کالجس کے لیے 50 درخواستیں وصول ، کونسل اعلیٰ تعلیم کے عہدیدار کا بیان
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں طلباء کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے خاص کر دیہی علاقوں کے طلباء میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے حکومت تلنگانہ نئے خانگی کالجس قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ ریاست میں ایک سال کے لیے نئے خانگی ڈگری اور پی جی کالجس کے داخلہ پر غیر سرکاری طور پر پابندی عائد کرنے کے بعد حکومت تلنگانہ اضلاع میں مزید کالجس کے قیام کی اجازت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن ( ٹی ایس سی ایچ ای ) نے بتایا کہ یہ نئے کالجس ضلع ہیڈکوارٹرس کے باہر قائم کئے جائیں گے ۔ جہاں اعلیٰ تعلیم کی زبردست مانگ ہے ۔ تلنگانہ میں زیادہ تر ڈگری کالجس ضلع سنٹرس پر اور ٹاونس میں قائم ہیں ۔ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کو پتہ چلا ہے کہ ضلع سنٹرس پر ڈگری کالجس کے پاس زیادہ نشستیں ہیں ۔ اہل امیدواروں سے زائد نشستیں ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں کے طلباء کے تعلیمی عزائم محدود ہورہے ہیں ۔ ضلع سنٹرس پر تقریبا 1278 خانگی اور 120 سرکاری ڈگری کالجس کا 70 فیصد ضلع سنٹرس پر قائم ہیں ۔ ان میں سے تقریبا 300 کالجس کو گذشتہ 3 سال کے دوران قائم کیا گیا ۔ اعلیٰ تعلیم کو غیر مرکوز کرنے کی غرض سے تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن نے دیہی علاقوں میں مزید کالجس کے قیام کی اجازت دیئے جانے پر غور کیا ہے ۔ اب تک اس سلسلہ میں زائد از 50 درخواستیں وصول ہوئی ہیں ۔ سینئیر عہدیدار نے کہا کہ ٹی ایس سی ایچ ای نے نئے کالجس کی اجازت نہیں دی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ نئے کالجس کے لیے کوئی تقاضہ نہیں ہورہا ہے ۔ ایک سال بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ کالجس میں طلباء کی اکثریت کا جائزہ لیا جائے جہاں پر طلباء کی تعداد کم ہے ۔ ان کالجس کے الحاق کو ختم کردیا جائے ۔ ریاستی یونیورسٹیوں سے ان کا الحاق ختم کرنے سے خانگی کالجس کا مستقبل ختم ہوجائے گا ۔ اس طرح جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی ، ٹی ایس سی ایچ ای نے ڈگری اور خانگی کالجس کا معائنہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ جن کالجس میں طلباء کی تعداد کم ہوگی اور جو کالجس یو جی سی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جائیں گے ان کے الحاق کو ختم کردیا جائے گا ۔ معائنہ کاروں کی ٹیم میں ریاستی یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ارکان شامل ہوں گے ۔ جو خانگی ڈگری اور پی جی کالجس کا دورہ کر کے معائنہ کرے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT