Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / دیہی معیشت کو ترقی دینے کلکٹرس کو مکمل اختیارات

دیہی معیشت کو ترقی دینے کلکٹرس کو مکمل اختیارات

ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر میں تیزی کی ہدایت ۔ کلکٹرس کانفرنس سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 مارچ ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے دیہی معیشت کو ترقی دینے کیلئے کلکٹرس کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے سرکاری اسکیمات کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کا مشورہ دیا ۔ بے قاعدگیوں کو ہرگز معاف نہ کرنے کا انتباہ دیا ۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں کلکٹرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں ترقی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ۔ بھیڑ بکریوں کی تقسیم کے معاملہ میں کلکٹرس سے رائے طلب کی ۔ ریاست میں ویٹرنری ڈاکٹرس کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ۔ بھیڑ بکریوں کی تقسیم کیلئے امدادی تنظیموں میں 51روپئے سے رکنیت سازی کرائے ‘ جن علاقوں میں امدادی تنظیمیں نہیں ہیں وہاں نئی تنظیمیں قائم کرنے کی کلکٹرس کو ہدایت دی ۔ 20جون سے بھیڑ بکریوں کے بچوں کو خریدنے کی شروعات کرنے کا مشورہ دیا ۔ بھیڑ بکریوں کے تقسیم کی کلکٹرس کو نگرانی کرنے پر زور دیتے ہوئے بھیڑ بکریوں سے آئندہ 2سال میں ریاست کو 20ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی بڑھ جانے کی توقعات کا اظہار کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ کو گوشت کی پیداوار کا مرکز بنایا جائے گا ۔ انہوں نے عہدیداروں سے تعاون کرنے کی خواہش کی ۔ایس کے ایس سروے کے مطابق ریاست میں 44لاکھ بھیڑ بکریاں ہیں ‘ ایک یونٹ کو 21بھیڑ بکریاں تقسیم کی جائیں گی جس سے یون کی قدر 1.25 لاکھ ہوجائے گی ۔ حکومت 75فیصد (93.750) روپئے کی سبسیڈی فراہم کرے گی ۔ استفادہ کنندگان کو 25 فیصد مصارف برداشت کرنی ہوگی ۔چیف منسٹر نے بتایا کہ ایم پی ڈی اور تحصیلدار اور ویٹرنری ڈاکٹرس کا وفد دوسری ریاستوں سے بھیڑ بکریاں خریدنے روانہ ہوگا ۔ استفادہ کنندگان کو وفد میں شامل رکھا جائیگا ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیری سرگرمیوں میں مزید شدت پیدا کرنے کی کلکٹرس کو ہدایت دی ۔ ایم پی ڈی او اور تحصیلدار کو قرعہ اندازی کے ذریعہ مکانات کے استفادہ کنندگان کا انتخاب کرنے اور انتخاب میں کسی بھی سیاسی دباؤ کو قبول نہ کرنے کا کلکٹرس کو مشورہ دیا ۔ سیاسی دباؤ ڈالنے والوں کی ان سے شکایت کرنے کی ہدایت دی ۔کے چندر شیکھرر آؤ نے بتایا کہ ریاست میں تقریباً 3لاکھ تنہا خواتین ہیں جنہیں اسرا پنشن اسکیم سے فائدہ پہنچایا جائے گا ۔ مزید 81ہزار بیڑی ورکرس کو وظائف کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے ریاست کی شرح ترقی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سال 2016-17ء میں شرح ترقی 21فیصد ریکارڈ ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر نے ریاست کے مالیہ کی ترقی کی شرح کبھی بھی 15فیصد سے کم نہ ہونے کاد عویٰ کیا ہے ۔ اضلاع کی تقسیم جدید کے بعد نئے وجود میں آنے والے اضلاع میں کلکٹرس اور ایس پیز کے نئے دفاتر کی تعمیرات کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا ۔ تعمیراتی کاموں کے بارے میں کلکٹرس سے معلومات حاصل کی ۔ آئندہ سال سے نئے دفاتر میں کام شروع کرنے پر زور دیا ۔ تلنگانہ میں پولیس ہاؤزنگ کارپوریشن ‘ پولیس بھونس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ۔ نئے اضلاع میں ترقی کو اہم ایجنڈہ بناتے ہوئے آگے بڑھنے کا کلکٹرس کو مشورہ دیا ۔ کے سی آر ریاست کے شہری علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دیہی علاقوں کی ترقی کو بھی تیز کرنے پر زور دیا ۔ چیف منسٹر نے کسانوں کو 9 گھنٹے اور دوسروں کو 24گھنٹے برقی کی سربراہی پر عہدیداروں کی ستائش کی اور کہا کہ نارتھ گرڈ سے برقی کو مربوط کرنے کا کام مکمل ہوگیا ہے ۔ ریاست میں برقی کے کوئی مسائل نہ ہونے کی امید کا اظہار کیا ۔

TOPPOPULARRECENT