Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / دیہی معیشت کے فروغ اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کا بجٹ

دیہی معیشت کے فروغ اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کا بجٹ

بجٹ تیاری میں دور اندیشی ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے سنہرے تلنگانہ ریاست کی تشکیل دیہی معیشت کے فروغ اور غریب عوام کے فلاح و بہبود کے لیے بجٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اسمبلی میں بجٹ کی پیشکشی کے بعد کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر نے کہا کہ ریاست کی ترقی اور سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجٹ تیار کیا گیا بجٹ کی پیشکشی سے قبل تمام پہلوؤں کا باریکی سے جائزہ لیا گیا کہ جس کی ملک بھر میں مثال نہیں ملتی ۔ انہیں امید ہے تلنگانہ کے لیے یہ انقلابی بجٹ ثابت ہوگا ۔ بجٹ میں زراعت ، تعلیم ، فلاح و بہبود ، صنعتوں کی ترقی ، ملازمتوں کی فراہمی ، آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے علاوہ دوسرے امور پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر تعلیم یافتہ کو سرکاری ملازمت فراہم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ صرف 5 فیصد افراد کو ہی سرکاری ملازمتیں ملتی ہیں ۔ 95 فیصد تعلیم یافتہ نوجوان خانگی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا مناتے ہیں ۔ زراعت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جو کسان عوام کے لیے غذائی اجناس تیار کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ ان کی اراضیات کو پانی سربراہ کرنے کے لیے آبپاشی پراجکٹس پر خاصی توجہ دی جارہی ہے ۔ زرعی شعبہ مستحکم ہونے سے دیہی معیشت مستحکم ہوگی ۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی سے ہی دیہی عوام خوشحال رہیں گے ۔ گھریلو پیداوار کی شرح ترقی میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ ایمپلائز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تنخواہوں کے اضافہ کے معاملے میں انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ جاریہ سال زرعی پیداوار حوصلہ افزاء ہونے کے امکانات ہیں ۔ نوٹ بندی کے باوجود سوائے اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن اور موٹر وہیکل ٹیکس کے دوسرے ٹیکس کی وصولی متوازن ہے ۔ نوٹ بندی کا اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے ۔ اتنے مسائل ہونے کے باوجود حکومت نے 4 ہزار کروڑ سے زائد فاضل بجٹ پیش کیا ہے ۔ جی ایس ٹی کی عمل آوری سے ریاست کو کوئی نقصان ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو مرکزی حکومت اس کی پابجائی کرے گی ۔ نوٹ بندی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس مرتبہ اراضی فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بتایا ہے ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم کے تحت دئیے جانے والے معاوضہ کو فی کس 51 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپئے کردیا گیا ہے ۔ سبسیڈی پر حکومت کی جانب سے خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شرح ترقی کے اعداد و شمار غلط پیش کرنے کے سوال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نشانہ مرکز کی ایجنسی طئے کرتی ہے ۔ ڈھائی سال میں زیادہ قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو مقروض بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ ایف آر بی ایم کی جانب سے قرض حاصل کرنے کی 3.5 فیصد حد مقرر کی گئی ہے ۔ اس سے زائد قرض حاصل کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ دو طریقوں سے ریاست کو قرض حاصل ہوتا ہے ۔ ایک ریاست راست طور پر قرض حاصل کرتی ہے ۔ دوسرا قرض کارپوریشن کی جانب سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ حکومت ضمانت دیتی ہے ۔ حکومت کی کارکردگی سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور حکومت کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT