Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / د100 دن کا ایکشن پلان، پرانا شہر محروم، ذمہ دارکون؟

د100 دن کا ایکشن پلان، پرانا شہر محروم، ذمہ دارکون؟

کے ٹی آر کے اعلانات  پر عمل ندارد، عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی ،ہر دور میں پیاکیج ہی پرانے شہر کا مقدر

حیدرآباد۔ 9۔ مئی  ( سیاست نیوز) حیدرآباد اور بالخصوص پرانے شہر کی ترقی کیلئے حکومتوں نے ہمیشہ مختلف پیاکیجس کا اعلان کیا لیکن یہ اعلانات حقیقت میں تبدیل نہیں ہوسکے۔ کیا حکومت پرانے شہر کی ترقی میں سنجیدہ نہیں ہے یا پھر پرانے شہر کی نمائندگی کرنے والوں کو علاقہ کی ترقی منظور نہیں ؟ یہ ایسے سوالات ہیں کہ ہمیشہ عوام کے ذہنوں میں گشت کرتے رہے ہیں۔ حکومت اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ نئے شہر کی طرز پر پرانے شہر کی ترقی کی خواہاں ہیں اور اس کے لئے درکار بجٹ بھی منظور کیا جائے گا لیکن مقامی عوامی نمائندوں نے کبھی بھی بجٹ کی منظوری اور ترقیاتی اسکیمات کیلئے حکومت پر دباؤ نہیں بنایا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پرانے شہر کیلئے صرف اعلانات ہی مقدر بن چکی ہے۔ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے پرانے شہر کی ترقی کیلئے 2000 کروڑ کے پیاکیج کا اعلان کیا تھا لیکن ان کی موت کے بعد یہ پیاکیج برفدان کی نذر ہوگیا۔ ان کے بعد آنے والے چیف منسٹرس نے پیاکیج میں عمل آوری میں دلچپسی نہیں دکھائی اور عوامی نمائندوں نے بھی حکومت کو توجہ نہیں دلائی ۔ اسی طرح پرانے شہر کے مسائل میں دن بدن ہی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع، ٹریفک مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اوور بریجس کی تعمیر ، میٹرو ریل پراجکٹ ، چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کی منتقلی کا اعلان کیا تھا لیکن ایک بھی وعدہ پر دو برسوں میں عمل آوری کا آغاز تک نہیں ہوسکا۔ پرانے شہر کو نظر انداز کرنے کی تازہ مثال وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو 100 دن کا ایکشن پلان ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرتے ہی کے ٹی آر نے حیدرآباد کے انچارج وزیر کی حیثیت سے شہر کی ترقی کیلئے 100 دن کے ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا۔ ایکشن پلان کی مدت کے ختم ہونے کیلئے صرف 3 ہفتے باقی ہیں لیکن کئی اہم اعلانات پر ابھی عمل نہیں کیا گیا۔ کے ٹی آر کے 100روزہ ایکشن پلان میں پرانے شہر کیلئے کوئی علحدہ ترقیاتی منصوبہ شامل نہیں تھا جس کی وجہ سے مجلس بلدیہ میں سڑکوں کی توسیع اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی جیسے کام بھی انجام نہیں دیئے ہیں۔ کے ٹی آر نے پرانے شہر کیلئے صرف ایک پراجکٹ پر توجہ مبذول کی جو چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ ہے۔ یہ پراجکٹ گزشتہ تقریباً 10 برسوں سے تکمیل کے مرحلہ میں ہے۔ 100 دن کے ایکشن پلان میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ، حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس ، ایچ ایم ڈی اے اور ایچ ایم آر جیسے ادارے شامل ہیں لیکن پرانے شہر کی ترقی کیلئے قائم کردہ قلی قطب اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو نظر انداز کردیا گیا۔ کے ٹی آر نے اعلان کیا تھا کہ شہر میں صفائی کے انتظامات کیلئے 2500 آٹوز کا استعمال کیا جائے گا ، جو روزانہ ہر گھر سے کچرا وصول کریں گے۔ گھروں سے کچرے سے وصولی تو دور کی بات ہے ، شہر میں جگہ جگہ سڑکوں پر کچرے کے انبار روز کا نظارہ بن چکے ہیں۔ 569 سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق صرف 270 سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے۔ ان میں بھی بیشتر سڑکیں ایسی ہیں جو بارش کے ساتھ ہی دوبارہ اصلی حالت پر لوٹ چکی ہے۔ 50 نئے بس بیز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک صرف 19 ہی تعمیر کئے گئے ۔ مکانات کی تعمیر کی اجازت ناموں کی آن لائین منظوری کا اعلان کیا گیا لیکن 10,000 موصولہ درخواستوں نے صرف 4,000 کی یکسوئی کی اطلاعات ہیں۔ شہر میں 40 ماڈل مارکٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن صرف دو مارکٹ تعمیر کی ہے ۔ مجلس بلدیہ کے عہدیداروں کا کہناہے کہ 50 فیصد کام جو ایکشن پلان میں شامل تھے، مکمل کرلئے گئے ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ جی ایچ ایم سی کے پاس ایکشن پلان کے تحت پرانے شہر میں انجام دئے گئے کاموں کی کوئی فہرست نہیں ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ نہ ہی حکمرانوں کو اور نہ عوامی نمائندوں کو پرانے شہر کی ترقی سے دلچسپی ہے۔ مقامی جماعت کے بعض کارپوریٹرس نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے بعض کاموں کے سلسلہ میں جو نمائندگیاں کی تھیں ، انہیں عہدیداروں نے نظرانداز کردیا۔ اس بارے میں جب متعلقہ ارکان اسمبلی کو واقف کرایا گیا تو انہوں نے صرف تیقن سے کام لیا۔ پر انے شہر کے کئی علاقے ٹائیلٹس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے جو کہ ایکشن پلان کا حصہ تھا ۔ کاموں کی تکمیل کے سلسلہ میں عہدیداروں اور کنٹراکٹرس کے درمیان رسہ کشی کی اطلاعات ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے کا ماننا ہے کہ 100 دن میں اعلان کردہ ایکشن پلان پر عمل آوری ممکن نہیں ہے ۔ حکومت نے ایکشن پلان کے تحت بی ٹی روڈس کی تعمیر کیلئے 200 کروڑ ،’ نالوں کی صفائی کیلئے 30 کروڑ خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو 100 دن میں 100 کروڑ روپئے منظور کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن آج تک ایک بھی سیلف ہیلپ گروپ کو رقم حاصل نہیں ہوئی۔ 40 ماڈل مارکٹس کی تعمیر 26 کروڑ سے مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 20 کروڑ سے سرکاری اراضیات اور عمارتوں کی کمپاؤنڈ والس کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔ قبرستانوں کی حصار بندی کیلئے ایک کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ نوجوانوں کیلئے 359 منی اسپورٹس اسٹیڈیم تیار کرنے کا بھی اعلان ایکشن پلان میں شامل ہے۔ 32000 نئے نل کنکشن فراہم کرنے کا بھی کے ٹی آر نے اعلان کیا تھا ۔ اب جبکہ ایکشن پلان کی تکمیل کیلئے 3 ہفتے باقی ہیں اور بارش کا آغاز ہوچکا ہے، عوام کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT