Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / د40دن میں 4.30 روپئے کا اضافہ

د40دن میں 4.30 روپئے کا اضافہ

آپ کا جیب غیر محسوس طریقہ سے کاٹا جارہا ہے
نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کے بعد پٹرول کا وار
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : مرکزی حکومت اور پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے بڑی چالاکی سے عوام کو تکلیف دئیے بغیر چوٹ پہونچائی جارہی ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر یومیہ نظر ثانی کے نام پر ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 4.30 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ عوام میں بے حسی پائی جاتی ہے اور سیاسی جماعتیں نیند کی آغوش میں ہیں ۔ ہندوستان کی تاریخ میں نریندر مودی جیسا چالاک وزیراعظم شاید کبھی نہیں دیکھا گیا اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہمارے ملک کو ایسا وزیراعظم نہیں ملے گا کیوں کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ کئی ایک عوام دشمن اسکیمات اور پالیسیوں پر عمل کرنے کے باوجود عوام بڑی بے بسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور پٹرول و ڈیزل پر یومیہ نظر ثانی وغیرہ سے عوام پر مالی بوجھ عائد ہورہا ہے اور عوام پریشان بھی نہیں لیکن انہیں یہ احساس بھی نہیں ہورہا ہے کہ یہ سب کمال نریندر مودی اور ان کی ٹیم کا ہے ۔ ایک مثال کافی مشہور ہے ۔ کڑوی دوا ایک ساتھ پلانے سے سارا منھ کڑوا ہوجاتا ہے ۔ عادت ہونے تک تھوڑی تھوڑی دوا پلائی جائے ۔ اس پر عمل کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور پٹرولیم کمپنیوں نے عوامی مزاج اور سیاسی جماعتوں کے ہنگامہ آرائی کا جائزہ لینے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافہ کرنے کے بجائے یومیہ اضافہ کرتے ہوئے ’ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘ کی پالیسی پر عمل کیا ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوئی ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر نظر ثانی کے معاملے میں مرکز عوام کو تکلیف پہونچائے بغیر چوٹ دے رہی ہے ۔ یومیہ قیمتوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے تین پیسے ، 25 پیسے اور 50 پیسے تک اضافہ کرتے ہوئے مہینہ 40 دن میں پٹرول کی قیمت میں تقریبا 4.50 روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے زور کا جھٹکا دھیرے سے دیا ہے ۔ مرکز اور پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کرنے اور ڈیلرس کے مفادات کو نظر انداز کرنے پر ڈیلرس نے احتجاج کیا تھا ۔ یومیہ قیمتوں کی نظر ثانی پر بھی اعتراض کیا تھا ۔ لیکن مذاکرات کے دوران پٹرولیم کمپنیوں نے ڈیلرس کو اعتماد میں لیتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ اس فیصلے سے ڈیلرس کو بھی فائدہ ہوگا ۔ اس پالیسی پر عمل کرنے سے قبل پٹرولیم کمپنیاں ہر 15 دن میں ایک مرتبہ قیمتوں پر نظر ثانی کیا کرتی تھیں ۔ دو ماہ سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں پر یومیہ نظر ثانی کی جارہی ہے ۔ ابتداء میں یہ پالیسی عوام کے حق میں بہتر رہی ۔ روزانہ 25 تا 50 پیسے کی کمی پر عوام نے بھی اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن گذشتہ 40 دن سے قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ کبھی کمی نہیں ہوئی ۔ پٹرول ڈیلرس کی جانب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈالتے وقت تھوڑا کم ڈالنے کی شکایتیں عام ہیں ۔ جس سے عوام کو ہی نقصان ہورہا ہے ۔ تاہم پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجانے کا بہانہ کیا جارہا ہے ۔ 14 جولائی کو آخری مرتبہ پٹرول کی قیمت میں 2 پیسے کی کمی ہوئی تھی اس کے علاوہ پٹرول پر تین تا ساڑھے تین روپئے بطور ویاٹ بھی وصول کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT