Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / د6 دسمبر کو مسلم تنظیموں کے تعلیمی اور تجارتی ادارے کھلے رہنا افسوسناک

د6 دسمبر کو مسلم تنظیموں کے تعلیمی اور تجارتی ادارے کھلے رہنا افسوسناک

کیا بابری مسجد کی شہادت کے غم کو فراموش کردیا گیا ؟ مسلم جذبہ کو کمزور کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔/6ڈسمبر ، ( سیاست نیوز) 6ڈسمبر1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کو 24 سال مکمل ہوگئے اور مسلمان مسجد کی شہادت کے غم اور جمہوری انداز میں جدوجہد کے ذریعہ اس کی دوبارہ تعمیر کے عزم کے ساتھ ہر سال 6 ڈسمبر کو ’’ یوم سیاہ ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ نہ صرف مسلم جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے اس جذبہ کے ساتھ یوم سیاہ مناتی ہیں بلکہ کئی غیر مسلم تنظیمیں اور ان سے وابستہ انصاف پسند افراد اور دانشور خود کو مسلمانوں کے جذبات سے ہر سال وابستہ کرتے ہیں۔ آج بھی ملک بھر کی طرح حیدرآباد میں مسلمانوں نے یوم سیاہ منایا اور رضاکارانہ طور پر اپنی دکانات کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم بعض مسلم تنظیموں کے تحت چلنے والے تعلیمی اور تجارتی اداروں کو کھلا دیکھ کر مسلمانوں میں مایوسی دیکھی گئی۔ 6 ڈسمبر جیسے حساس مسئلہ پر مسلم اداروں کی بے حسی قابل مذمت ہے کیونکہ اگر مسلمان بابری مسجد کی شہادت کے غم کو بھی اس طرح بتدریج فراموش کردیں تو پھر آنے والی نسلوں میں کس طرح جمہوری انداز میں جدوجہد کا جذبہ برقرار رہے گا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ پرانے شہر جیسے مسلم گنجان آبادی والے علاقوں میں مسلم تعلیمی اداروں کی اکثریت کو معمول کے مطابق کھلا دیکھا گیا اور جب طلبہ کے سرپرستوں نے اسکولوں کی اس بے حسی کے بارے میں سوال کیا تو انتظامیہ کا جواب تھا کہ 6 ڈسمبر کوئی ایسا سانحہ نہیں کہ جس پر اسکولوں کو بند رکھا جائے۔ اگر کوئی مسلم جماعت یا ادارہ کی جانب سے بند کرنے کی اپیل کی جاتی تب اسکولوں کو چھٹی دی جاتی تھی۔ اسکول انتظامیہ کے اس جواب سے مسلم طلبہ کے سرپرست حیرت میں پڑ گئے اور کئی والدین نے اپنے طور پر بچوں کو اسکول روانہ نہیں کیا تاکہ 6  ڈسمبر کے غم کو زندہ رکھا جاسکے۔ بعض ایسی مسلم جماعتیں اور تنظیمیں جو مسلمانوں کی خدمت اور نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے ادارے بھی کھلے ہوئے تھے۔ ان سے وابستہ افراد کے تجارتی ادارے بھی صبح سے ہی کھلے ہوئے تھے جس سے عام مسلمان حیرت میں تھے۔ ایسے قائدین جنہوں نے مسلمانوں کو بابری مسجد کے مسئلہ پر ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ان کے ادارے کھلے رہنے پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ شہر کی ایک ایسی شخصیت جنہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے فوری بعد تلگودیشم حکومت کی وزارت سے بطور احتجاج استعفی دے دیا تھا اس شخصیت کے قائم کردہ ادارے بھی آج معمول کے مطابق کھلے دیکھے گئے۔ ان کے ورثاء کو کم سے کم اس بات کا احساس تک نہیں کہ اداروں کے بانی کا بابری مسجد کی شہادت کے بارے میں کیا جذبہ تھا۔ مذکورہ شخصیت کا شمار ہندوستان کی اس واحد غیور شخصیت میں ہوتا ہے جنہوں نے مسجد کی شہادت کے فوری بعد بطور احتجاج اپنی وزارت کو ٹھوکر ماردی۔ یہ الگ بات ہے کہ خود تلگودیشم پارٹی نے بھی بعد میں ان کی پذیرائی نہیں کی۔ پرانے شہر میں موجود غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اداروں نے 6 ڈسمبر کے پیش نظر چھٹی دے رکھی تھی لیکن مسلم انتظامیہ کے اداروں کی بے حسی نے عام مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے یوم سیاہ اور بند کی اپیلیں محض رسمی بن چکی ہیں اور کوئی بھی سنجیدگی سے ان پر عمل نہیں کرتا۔ جب مسلمان ہی بابری مسجد کی شہادت کو بھلانے لگے تو پھر کس طرح جمہوری  انداز میں جدوجہد جاری رکھی جاسکتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ تمام مسلم زیر انتظام تعلیمی اور تجارتی ادارے متحدہ طور پر یوم سیاہ میں حصہ لیتے ہوئے بابری مسجد تحریک کو تقویت پہنچائیں اور نئی نسل میں اس جذبہ کو زندہ رکھیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ یوم سیاہ کے دوران شہر میں پولیس کے مخبروں نے کئی مسلم نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں سیاہ پرچم لہرانے سے روک دیا اور انہیں گرفتاری اور مقدمات کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس طرح سماج میں موجود پولیس کے مخبر بھی مسلم نوجوانوں کے ملی جذبہ کو کمزور کرنے میں اپنا حصہ ادا کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT