Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / ذاتی اور کرایہ کے مکان میں زیادہ فرق نہیں: سروے

ذاتی اور کرایہ کے مکان میں زیادہ فرق نہیں: سروے

حیدرآباد۔16جنوری (سیاست نیوز) قیام کے لئے مکان کی خریدی یا کرایہ پر حصول شہر حیدرآباد میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد میں کرایہ کے مکان میں رہنا یا مکان کی خریدی دونوں ہی عوام کیلئے اتنا ہی بوجھ ثابت ہوتا ہے ۔ ماہرین کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں کے سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں شہر حیدرآباد آج بھی ان شہروں کی فہرست میں شامل ہے جہاں مکان کی خریدی اور کرایہ میں کوئی زیادہ تفاوتنہیں پایا جاتا بلکہ جتنی رقم کرایہ میں ادا کی جاتی ہیں اتنی رقومات کے اقساط ادا کردیئے جائیں تو ذاتی جائیداد کے مالک بنا جا سکتا ہے۔ سروے کے مطابق سالانہ 8لاکھ کی آمدنی رکھنے والے 87.5فیصد لوگ حیدرآباد میں مکان کی خریدی کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ 10لاکھ آمدنی رکھنے والے گروپ میں ایسے کئی لوگ ہیں جو مکان خریدنے کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی کرایہ کے مکان میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی ذاتی جائیداد کو کرایہ پر دیتے ہوئے اس کرایہ سے ہونے والی آمدنی میں کچھ اور رقم جوڑ کرکرایہ ادا کرتے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں کئی ایسے افراد بھی ہیں جن کی آمدنی 15لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود وہ جائیداد خریدنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ کرایہ کے مکان میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ کرایہ کے مکان میں رہنے میں ان کا ماننا ہے کہ اخراجات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کرایہ کے یا ذاتی مکان کے متعلق اب تک بھی تذبذب کا شکار ہیں ۔ 100تک ترجیحی نمبراندازی کی جائے تو 75ویں نمبر پر وہ لوگ آتے ہیں جن کی آمدنی 20لاکھ سے متجاوز ہونے کے باوجود کرایہ کے مکان کو ترجیح دیتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ 80ویں زمرے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو رہائش کے علاوہ جائیداد کی خریدی کرایہ پر دینے کے لئے خریدی کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اس کرایہ کے ذریعہ آمدنی کا سلسلہ جاری رہے۔شہر حیدرآباد تیزی سے ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود اب بھی رہائش کے اعتبار سے عوام کی دسترس میں اخراجات والے شہروں میں سرفہرست ہے اور حیدرآباد میں رہائش مہنگی نہیں ہے جس کے سبب لوگ کرایہ اور خریدی کے معاملہ میں مساوی ترجیحات رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT