Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / ذات خدا پر مکمل بھروسہ رکھا جائے

ذات خدا پر مکمل بھروسہ رکھا جائے

سید زبیر ہاشمی ، استاد جامعہ نظامیہ
اس دنیا میں کئی قومیںآئی اورگئی ہیں اﷲسبحانہ وتعالیٰ نے ہرایک کو اس وقت کے حساب سے بہت ساری سہولتیں فراہم کیا اور فضیلت بھی عطا کیا ہے ۔ہم کو بھی اس دنیا میں بھیجا اور خیرامت یعنی سب سے بہتربنایا لیکن اس کے باوجود ہم اس کا حق اداکرنے کی کوشش بالکل نہیں کررہے ہیں جبکہ ہرطرح کا سکون وُ چین ہمیں دیا گیا۔ دیگر قوموں کی بہ نسبت ہمیں بے حساب نعمتیں حاصل ہوئی ہیں ۔ کم محنت کے بعد بھی نعمتوں کی فراوانی ، امت محمدیہ کو جوشرف ، فضیلت ، مقام اور مرتبہ حاصل ہوا  وہ سب سے بہتراور افضل ہے۔ کیونکہ یہ جواعزاز ہمکو ملا ہے وہ کسی قوم کو نہیں ملا۔ اس لئے ہم تمام کو اس کاخیال رکھ کر زندگی بسر کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس دنیا کی ہربرائی سے بچنا بھی چاہئے ۔ چناچہ آج اس امت محمدیہ کے شرف وُ فضیلت کے متعلق چند احادیث تحریر کئے جائیںگے ۔

٭  ’’  بخاری شریف وُ مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا : مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں پس ایک نبی گزرنے لگے اور ان کے ساتھ ان کی امت تھی، ایک نبی ایسے بھی گزرے کہ ان کے ساتھ کچھ افراد تھے ، ایک نبی صرف تنہا ، میں نظر دوڑایا تو ایک بڑی جماعت دکھائی دی میں نے پوچھا : ائے جبرئیل علیہ السلام کیا یہ میری امت ہے ؟ عرض کیا : نہیں ، بلکہ آپ افق کی جانب توجہ فرمائیں ، میں نے دیکھا تو وہ بہت بڑی جماعت تھی ۔ عرض کیا : یہ آپ کی امت ہے اور یہ جو ستر ہزار  ان کے آگے ہیں ان کے لئے نہ حساب ہے نہ عذاب میں نے پوچھا کس وجہ سے ؟ انہوں نے کہا : یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے ، غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے ، شگون بھی نہیںلیتے تھے اور اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھتے تھے ۔ حضرت عُکاشَہ بن محصن کھڑے ہوکر عرض کئے : یانبی اﷲ ﷺ  اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرمالے ۔ آپ ﷺ  فرمائے : ائے اﷲ تعالیٰ اِسے ان لوگوںمیں شامل فرما ۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوکر عرض کیا : یا نبی اﷲ ﷺ  اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرمالے ۔ آپ ﷺ  فرمائے : عُکاشَہ تم پر سبقت لے گئے  ‘‘ ۔
(متفق علیہ )

٭  ’’ طبرانی میں حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا ہے : جنت تمام انبیاء علیھم السلام پر اس وقت تک حرام کردی گئی ہے جب تک میں اس میں داخل نہ ہوجاؤں اور تمام امتوں پر اس وقت حرام ہے جب تک کہ میری امت اس میں داخل نہ ہوجائے ‘‘ (طبرانی) ۔
٭  ’’ مسلم اور نسائی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا : اﷲتعالیٰ نے میری امت سے ان کی دل کی باتوں یعنی وساوس وُ خیالات کو معاف فرمادیا ہے جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے ‘‘ (مسلم ، نسائی اور ابن ماجہ )۔
٭  ’’  أحمد میں حضرت ابوذر اور حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہما سے مروی ایک روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا : میں قیامت کے روز ضرور اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان پہچان لوںگا ۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ﷺ  ! آپ کیسے پہچانیںگے  ؟  فرمایا میں انہیں پہچان لوںگا کہ ان کانامہ ء اعمال دائیں ہاتھ میںدیاجائے گا اور ان کی پیشانیوں پرسجدوںکا اثرہوگا اور میںانہیں ان کے نور سے پہچان لوںگا جو ان کے آگے آگے دوڑ رہاہوگا  ‘‘(أحمد)۔

٭  ’’  طبرانی میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اﷲتعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز روشن پیشانیوں اور چمکتے ہاتھ پاؤں والے لوگوں کی ایک جماعت نمودار ہوگی جو افق پر چھاجائے گی ان کا نور سورج کی طرح ہوگا پس ایک ندادینے والا ندا دیگا  ’’  نبی امّی ‘‘  پس اس نداء پر ہر نبی متوجہ ہوںگے لیکن کہاجائے گا محمد ﷺ اور ان کی امت ہے جو جنت میںداخل ہوںگے ان پر کوئی حساب اور عذاب نہیںہوگا پھر اس طرح کی ایک اور جماعت نمودار ہوگی جن کی پیشانیاںاور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوںگے ۔ ان کا نور چودھویں چاند کی طرح ہوگا اور ان کا نور افق پر چھاجائے گا پس پھر ندادینے والا ندا دیگا اور کہے گا ’’  نبی امّی‘‘  پس اس نداپر ہرنبی متوجہ ہوجائیں گے لیکن کہا جائے گا : اس نداسے مراد حضورنبی اکرم ﷺ اور ان کی امت ہے پس وہ بغیر حساب وُ عذاب جنت میںداخل ہوجائیں گے  ‘‘ (طبرانی)
اب ان تمام مذکورہ روایات کے پڑہنے  کے بعد ہمیں غور وُ فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اب تک کیا کیا ہے جب کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا۔ ہم کوحکم دیا گیا تھا کہ اعمالِ صالحہ کی کثرت اور اعمالِ سیئہ سے اجتناب کرتے ہوئے اﷲ اور ر سول اﷲ ﷺ کوراضی کرنے کی کوشش کریں لیکن ابھی تک ہم نے ایسا نہیں کیا ہے ۔ اگر ہم آج سے ہی اپنے آپ کو ایک بہترامت میںشامل کرنے کے کوشش کریں تویقینا اسکا فائدہ ضرور ہوگااوراس کی وجہ سے ہمیں میدانِ حشر میں کامیابی اور سرفرازی حاصل ہوجائیگی ۔خلاصئہ کلام یہی ہے کہ رب پر کامل بھروسہ رکھنا امت محمدیہ کا طرئہ امتیاز ہے ۔
اﷲتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کواﷲتعالیٰ پرکامل بھروسہ رکھنے اور ذخیرئہ آخرت تیار کرنے کی توفیق عطافرمائے-
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT