Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ذاکر نائک پر دہشت گرد روابط کا شبہ ‘ سخت مقدمہ تیار کیا جا رہا ہے

ذاکر نائک پر دہشت گرد روابط کا شبہ ‘ سخت مقدمہ تیار کیا جا رہا ہے

Zakir Naik accused of hate speech clarifies his statements with the Indian Media via videoconferencing arranged at a venue in Mazagaon, Mumbai Express photo by Nirmal Harindran, 15th July, 2016, Mumbai

چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس کا بیان ۔ اسکالر کے خلاف ممبئی پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کردی گئی
ممبئی 9 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) متنازعہ مذہبی اسکالر ذاکر نائک کی ممبئی پولیس نے سرزنش کی ہے اور یہ ادعا کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کے دہشت گردوں سے روابط بھی ہوں۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس نے یہ بات کہی ۔ فرنویس نے کہا کہ ذاکر نائک کے خلاف ایک سخت گیر مقدمہ تیار کیا جا رہا ہے جن کی تنظیم آئی آر ایف کی بھی نگرانی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہندوستان واپس لانے کی کوشش کی جائیگی ۔ ذاکر نائک فی الحال بیرون ملک ہیں۔ممبئی پولیس کو نائک کی متنازعہ اشتعال انگیز تقاریر کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جس نے آج ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے ۔ پولیس سے کہا گیا تھا کہ وہ ذاکر نائک کی آن لائین دستیاب تقاریر کی تحقیقات کرے اور دیکھیں کہ آیا ان میں سے کسی تقریر سے نوجوانوں کی دہشت گرد گروپس میں شمولیت کیلئے حوصلہ افزائی تو نہیںہوتی ۔ یہ اطلاعات تھیں کہ ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گرد حملہ میں ملوث کچھ نوجوان ان کی تقاریر سے متاثر تھے ۔ دیویندر فرنویس نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ذاکر نائک نے دوسرے مذاہب پر ناقدانہ تبصرے کئے ہیں اور ان کی تضحیک کی ہے ۔ یہ ایسا عمل ہے جس سے سماج میں ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے ۔ اس رپورٹ میں ان ممالک کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جہاں ان کی تنظیم پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ فرنویس نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے جس کے کئی پہلو ہیں جو مرکز کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ فرنویس نے کہا کہ یہ رپورٹ مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کی جائیگی

اور اس کی ہدایت کے مطابق مزید کارروائی کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کئی انکشافات ہیں جو غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق ہیں اور یہ ایسی سرگرمیاں بھی ہیں جو قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔ رپورٹ میں فیروز دیشمکھ سے ان کے روابط پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ فیروز دیشمکھ دہشت گردی کا ملزم ہے ۔ رپورٹ میں جماعت الدعوہ ( پاکستان ) اور انڈین مجاہدین سے روابط پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ سرگرمیاں غیر قانونی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ محکمہ پولیس نے 50 سالہ ذاکر نائک کے خلاف کئی ثبوت فراہم کئے ہیں جو فی الحال بیرون ملک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں۔ رپورٹ میں ذاکر نائک اور ان کی تنظیم کو ماخوذ کیا گیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ذاکر نائک وطن واپس ہونے سے انکار کردیں تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائیگی فرنویس نے کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو کوئی برداشت نہیں کر رہا ہے ۔ ہمارے تقریبا ہر ملک کے ساتھ حوالگی مجرمین کے معاہدات ہیں اور اگر ضروری ہو تو مرکزی حکومت انہیں ہندوستان لانے بیرونی حکومتوں سے مدد حاصل کریگی ۔ ممبئی پولیس دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ نائک کی قائم کردہ تنظیم آئی آر ایف کے کام کاج کی بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے دنیا کے مخلتف حصوں سے ملنے والے فنڈز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ ذاکر نائک نے 15 جولائی کو سعودی عرب سے اسکائپ کے ذریعہ ہندوستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے خود کو امن کا پیامبر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف الزامات غیر درست ہیں اور ان کے ویڈیوز کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ آئی آر ایف نے بھی ایک بیان میں ذاکر نائک کے خلاف الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا تھا ۔
ذاکر نائک کی تنظیم کے خلاف مرکز کی تحقیقات
نئی دہلی 9 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت داخلہ نے متنازعہ مذہبی اسکالر ذاکر نائک کی جانب سے چلائی جانے والی تنظیم کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ تحقیقات بیرونی عطیات کی خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ ممبئی سے کام کرنے والی اسلامک ریسرچ فاونڈریشن کو ایک سوالنامہ روانہ کردیا گیا ہے ۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ پیدا ہوا تھا کہ ذاکر نائک کی اس تنظیم کو 2012 سے قبل پانچ سال کے وقفہ میں 15 کروڑ روپئے بیرونی عطیات حاصل ہوئے ہیں۔ آئی آر ایف سے سوالنامہ میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرے جن میں ایف سی آر اے اکاؤنٹ بھی شامل ہو۔ یہ بھی وضاحت کی جائے کہ اسے کتنے بیرونی عطیات حاصل ہوئے ہیںاور ان عطیات کو کس طرح سے استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ حساب کتاب تنظیم کے قیام سے پیش کرنے کو کہا گیا ہے ۔ ذرائع کے بموجب ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ آئی آر ایف کے بیشتر فنڈز برطانیہ ‘ سعودی عرب اور مشرق وسطی کے کچھ دوسرے ممالک سے آئے ہیں۔ وزار ت داخلہ کی تحقیقات میں ان الزامات کا بھی احاطہ کیا جائیگا کہ آئی آر ایف کو ملنے والے فنڈز کا سیاسی سرگرمیوں کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ تحقیقات میںاس الزام کا بھی جائزہ لیا جائیگا کہ اس تنظیم کے فنڈز لوگوں کو اسلام میں شامل کرنے اور نوجوانوں کو دہشت گردی کی سمت راغب کرنے کیلئے استعمال کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT