Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ذاکر نائک کی تقاریر انتہائی قابل اعتراض ‘ حکومت تحقیقات کریگی

ذاکر نائک کی تقاریر انتہائی قابل اعتراض ‘ حکومت تحقیقات کریگی

مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا بیان ۔ مذہبی اسکالر کی این جی او کو ملنے والے فنڈز کی بھی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا

نئی دہلی 8جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مذہبی اسکالر ذاکر نائک کی تقاریر کو انتہائی قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے حکومت نے آج کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ان تقاریر کا جائزہ لئے جانے کے بعد مناسب کارروائی کی جائیگی۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ذاکر نائک کی تقاریر کا جائزہ لیا جائیگا ۔ یہ جائزہ لئے جانے کے بعد کوئی مناسب کارروائی کی جائیگی کیونکہ جیسا کہ میڈیا میں کہا جا رہا ہے ان کی تقاریر انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ نائیڈو کے ریمارکس ایک دن بعد آئے ہیں جبکہ ایک دن قبل منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کرن رجیجو نے نائک کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا تھا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی تقاریر سے ہی بنگلہ دیش میں حملہ کرنے والے پانچ دہشت گردوں میں سے ایک متاثر تھا ۔ ان پانچ دہشت گردوں نے ڈھاکہ میں کارروائی کرتے ہوئے ہوٹل میں 22 افراد کو ہلاک کردیا تھا ۔ رجیجو نے کل کہا تھا کہ ذاکر نائک کی تقاریر ہمارے لئے تشویش کا باعث ہیں ۔ ایجنسیاں اس پر کام کر رہی ہیں لیکن بحیثیت وزیر وہ ابھی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد مسلسل تنقیدیں کی جا رہی ہیںکہ ذاکر نائک کی تقاریر سے نوجوان گمراہ ہوئے ہیں اور وہ عوام کو اکسانے والی تقاریر کرتے ہیں ۔ اس دوران ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اسکالر ذاکر نائک کو مرکز کی جانب سے مزید تحقیقات کا سامنا کریگا جن میں ان کی این جی او آئی آر ایف کی فنڈنگ بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی تقاریر پر مبنی سی ڈیز کی بھی تحقیقات کی جائیں گی ۔ واضح رہے کہ ایک دن قبل ہی مہاراشٹرا حکومت نے ذاکر نائک کے خطابات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے بعد آج مرکز نے بھی تحقیقات کا اعلان کردیا ہے ۔

کہا گیا ہے کہ آئی آر ایف کی سرگرمیوں پر اس وقت نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ یہ الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ ان کی تنظیم کو بیرونی ممالک سے فنڈز حاصل ہوتے ہیں اور انہیں سیاسی سرگرمیوں پر اور لوگوں کو انقلابی خیالات کی سمت ترغیب دینے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ آئی آر ایف کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے ۔ یہ تنظیم بیرونی عطیات ریگولیشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے ۔ وزارت داخلہ کی تحقیقات میں ان الزامات کا بھی احاطہ کیا جائیگا کہ آئی آر ایف کو ملنے والے عطیات کی رقم کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان الزامات کا بھی جائزہ لیا جائیگا کہ این جی او کو ملنے والے فنڈز لوگوں کو اسلام کی سمت راغب کرنے کیلئے اور نوجوانوں کو دہشت گردی کی سمت راغب کرنے کیلئے بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ اس طرح کی تمام سرگرمیاں ایف سی آر اے قوانین کے مغائر ہیں اور اگر ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو کارروائی ہوسکتی ہے ۔ عہدیدار نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانبسے آئی آر ایف کو ملنے والے فنڈز کے ذرائع کی بھی تحقیقات کی جائیں گی ۔

ڈگ وجئے سنگھ کا ذاکر نائک کے ساتھ ویڈیو
بی جے پی کی شدید تنقید ۔ اسکالر قومی سلامتی کیلئے خطرہ
نئی دہلی 7 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) آج ایک ویڈیو منظر عام پر آیا جو 2012 کا ہے جس میں سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئیس نگھ کو مذہبی اسکالر ذاکر نائک کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے اور ان کی ستائش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس پر بی جے پی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ڈگ وجئے سنگھ ذاکر نائک کی ستائش کر رہے ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے تاہم اپنی مدافعت کی ہے اور کہا کہ اگر اسکالر کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو ہندوستانی اور بنگلہ دیشی حکومتوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ کانگریس لیڈر نے اپنے رد عمل میں کہا کہ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اپیل کی ہے اور مذہبی بنیاد پرستی اور ہندووں کی ہو یا مسلمانوں کی ہو دہشت گردی کی مخالفت کی ہے ۔ تاہم بی جے پی نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ کو نشانہ بنایا ہے اور ذاکر نائک کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور ان کی تقاریر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ عوام کو اکساتے ہیں۔ پارٹی کے قومی سکریٹری شریکانت شرما نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے ۔ جو کوئی راست یا بالواسطہ طور پر اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہ خاطی ہے ۔ ان ( ذاکر نائک ) جیسے لوگ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ سرکاری ایجنسیوں کو چاہئے کہ وہ موجودہ قانونی نظام کے تحت ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کریں۔ یہ واضح ہے کہ انہوں نے عوام کو اکسایا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT