Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ذاکر نائک کی تنظیم پر فنڈس کے حصول سے قبل اجازت کا لزوم

ذاکر نائک کی تنظیم پر فنڈس کے حصول سے قبل اجازت کا لزوم

متنازعہ مبلغ اسلام کی دو تنظیموں کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے بعد مرکز کی کارروائی
نئی دہلی ۔ /5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک کی طرف سے چلائے جانے والے تعلیمی ٹرسٹ آئی آر ایف کو بیرونی فنڈس کے حصول کیلئے ماقبل اجازت کے زمرہ میں رکھا گیا ہے جس کے ساتھ ہی ان کے ٹرسٹ کو مرکزی حکومت سے منظوری کے بغیر بیرونی فنڈس کے حصول سے روک دیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ نے ایک گزٹ اعلامیہ میں کہا کہ انٹلیجنس ایجنسیوں سے موصولہ رپورٹس اور دستیاب ریکارڈس کی بنیاد پر یہ پتہ چلا ہے کہ نائک کے آئی آر ایف ٹرسٹ نے بیرونی عطیات کے قواعد سے متعلق قانونی (ایف سی آر اے) 2010 ء کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’چنانچہ حکومت نے اب اس قانون کی دفعہ 11 کی ذیلی دفعہ (3) کے تحت یہ صراحت کردی ہے کہ آئی آر ایف ایجوکیشن ٹرسٹ کو ہر بیرونی عطیہ کی وصولی سے قبل مرکزی حکومت سے اجازت حاصل کرنا ہوگا ‘‘ ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ مختلف تحقیقات سے یہ پتہ چلنے کے بعد کہ نائک اپنی تنظیم کو ملنے والے فنڈس کے ذریعہ نوجوانوں کو انتہاپسند بنانے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کی ترغیب میں ملوث پائے گئے  ہیں ، حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔ علاوہ ازیں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے ایف سی آر اے رجسٹریشن کی منسوخی کیلئے حکومت کا عمل جاری ہے ۔

نیزنائک کی ایک اور تنظیم اس قانون کے تحت رجسٹریشن بھی منسوخ کیا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں ادارہ کے تمام قطعی وجہ نمائی نوٹس جاری پہلے ہی جاری کردی گئی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ نائک کے خلاف متعدد تحقیقات جاری رہنے کے باوجود ان ایک تنظیم کے ایف سی آر اے کے تحت رجسٹریشن کی ستمبر میں تجدید کی گئی تھی ۔ جو بالآخر وزارت داخلہ کے ایک جوائنٹ سکریٹری اور دیگر چار عہدیدار کی معطلی کا سبب بنی تھی ۔ مزید برآں حکومت ہند نے ذاکر نائک کے فاونڈیشن کو قانونی تنظیم قرار دینے کا منصوبہ بناتی ہے ۔ جس کو مرکزی کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے ۔ احکام کے مسودہ کے مطابق نائک نے جو آئی آر ایف اور آئی آر ایف ایجوکیشن ٹرسٹ کی قیادت کررہے ہیں ۔ مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور دہشت گردی کا پروپگنڈہ کرنے میں ملوث رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT