Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / ذاکر نائیک کے ادارہ آئی آر ایف کو بیرونی فنڈس کی تحقیقات

ذاکر نائیک کے ادارہ آئی آر ایف کو بیرونی فنڈس کی تحقیقات

برطانیہ ، سعودی عرب ، مشرق وسطیٰ سے 5 سال میں تقریباً 15 کروڑ روپئے کی رقم موصول:وزارت داخلہ

نئی دہلی  /علیگڑھ ۔ /12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جانب سے چلائی جارہی این جی او کو بیرونی فنڈس کے بارے میں ابتدائی تحقیقات پر یہ پتہ چلا کہ زیادہ تر رقومات برطانیہ ، سعودی عرب اور چند مشرق وسطیٰ ممالک سے آیا کرتی تھیں ۔ بتایا گیا ہے کہ 2012 ء کے بعد 5 سال کے عرصہ کے دوران تقریباً 15 کروڑ روپئے کی رقم موصول ہوئی ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی جانب سے ان فنڈس کا سیاسی سرگرمیوں اور عوام کو سخت گیر نظریات کا حامل بنانے کیلئے استعمال کرنے کے الزامات کے دوران تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ جبکہ مسلم ماہرین تعلیم اور مذہبی اسکالرس نے ذاکر نائیک کے خلاف کسی بھی کارروائی کے معاملے میں محتاط رہنے پر زور دیا ۔ وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نئی دہلی میں بتایا کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (آئی آر ایف) کی تحقیقات جاری ہیں ۔ یہ بیرونی عطیہ جات ریگولیشن ایکٹ کے تحت درج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی آر ایف کو مبینہ طور پر 5 سال کے دوران تقریباً 15 کروڑ روپئے موصول ہوئے ۔ وزارت داخلہ آئی آر ایف کو فنڈس کی مختلف الزامات کی بنا تحقیقات کررہی ہے کیونکہ بیرونی عطیہ جات ریگولیشن ایکٹ کے تحت ان رقومات کا سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور ایسا کرنے پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔یہ بھی الزام ہے کہ این جی او کے فنڈس عوام کو اسلام قبول کرنے اور نوجوانوں کو دہشت گردی کی ترغیب کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ آئی آر ایف کے ذرائع نے بتایا کہ بیرونی فنڈس کے بارے میں وزارت داخلہ نے جامع تحقیقات کی ہے ۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس کے تمام اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا اور تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس مقصد کیلئے فنڈس بھیجے گئے اور کن مقاصد پر انہیں استعمال کیا گیا ۔ اس دوران ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ترجمان مولانا سید حمزہ ندوی نے علی گڑھ میں کہا کہ ذاکر نائیک کو یکا و تنہا کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں وہ نامناسب ہیں ۔ بعض امور پر ہمارے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ان کی تقاریر میں ایسا کوئی قابل اعتراض پہلو دکھائی نہیں دیتا ۔ جنرل سکریٹری پیغام انسانیت کمیٹی مولانا سید بلال حسنی نے کہا کہ حکومت کو اس معاملہ میں محتاط رہنا ہوگا ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ذاکر نائیک کی تقاریر کی سی ڈیز کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی ۔

 

مبلغ اِسلام ذاکر نائیک کی گرفتاری کیلئے کوئی جواز نہیں
ابتدائی تحقیقات کے بعد مہاراشٹرا اِنٹلیجنس ڈپارٹمنٹ کی کلین چٹ

ممبئی۔/12جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا اسٹیٹ انٹلی جنس ڈپارٹمنٹ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو کلین چٹ دے دی ہے کیونکہ صدر اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے دہشت گرد ی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں ہوا ہے حکومت مہاراشٹرا کی ہدایت پر انٹلی جنس ڈپارٹمنٹ نے تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسلامی مبلغ کے خلاف کیس درج کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی دستیاب ثبوت کے بناء پر ہندوستان واپسی پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ اسٹیٹ انٹلی جنس ڈپارٹمنٹ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے سینکڑوں یو ٹیوبس اور بیرونی ممالک میں خطابات کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کہا کہ ان کے خلاف صرف مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا جاسکتا ہے۔ ممبئی میں واقع اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے بانی اسوقت تنازعہ کا مرکز بن گئے جب یہ رپورٹ منظرِ عام پر آئی کہ ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر تھے اور ان کی اشتعال انگیز تقاریر نے دہشت گردانہ حملوں کیلئے اُکسایا تھا۔ جس پر مہاراشٹرا کی علاقائی تعصب پرست جماعت شیوسینا نے ہندوستان میں آمد کے ساتھ ہی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی گرفتاری اور ان کے ٹی وی چینل پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء سماجوادی پارٹی مہاراشٹرا یونٹ صدر ابو عاصم اعظمی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بھرپور مدافعت کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ گذشتہ 25سال سے کارروائی کیوں نہیں کی گئی اگر ان کی تقاریر سے دہشت گردوں کو حوصلہ ملتا رہا۔ انہوں نے اسلامی مبلغ کے خلاف الزامات کی آزادانہ و منصفانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ ڈھاکہ میں ایک ریسٹورنٹ پر جن مجاہدین نے حملہ کیا تھا ان میں سے 3نوجوانوں نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں واقع سرکردہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ جبکہ بعض حملہ آور پیس ٹی وی چیانل پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خطابات سے متاثر ہوکر عسکریت پسندی کی سمت مائل ہوئے تھے۔ ان اطلاعات پر ٹیلی ویژن چیانل پر پابندی کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے کیونکہ یہ اندیشہ بڑھتا جارہا ہے کہ ہندوستانی نوجوان عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ ( داعش ) سے متاثر ہوسکتے ہیں اور حال ہی میں کیرالا کے 15نوجوان لاپتہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے مذکورہ واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گوکہ معاشی کامیابی ہماری ترجیح ہے لیکن عوام کی سلامتی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT