Sunday , July 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ذاکر کا مقام و مرتبہ

ذاکر کا مقام و مرتبہ

 

حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’جو میرا ذکر کرتا ہے، میں اس کا ہم نشین ہو جاتا ہوں‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر اس کثرت سے کرو کہ لوگ تمھیں مجنون کہنے لگیں‘‘۔ آپﷺ نے کثرت ذکر کی ایک فضیلت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ ’’جو شخص کثرت سے ذکر کرتا ہے، اس کو قبر کی مٹی نہیں کھاتی اور قیامت کے دن اس کے منہ سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہوں گی‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’ذکر سے بڑھ کر کسی آدمی کا کوئی عمل عذاب قبر سے نجات دلانے والا نہیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا ’’جنت میں جانے کے بعد اہل جنت کو دنیا کی کسی بھی چیز کا تعلق اور افسوس نہ ہوگا، بجز اس گھڑی کے جو دنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر گزری ہو‘‘۔
قرآنی آیات، احادیث نبویﷺ اور اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں صوفیہ کرام نے ذکر کے بے شمار فوائد بیان کئے ہیں۔ مثلاً فرماتے ہیں: (۱) ذکر، اللہ کی رضا کا سبب ہے (۲) ذکر، شیطان کی قوت کو توڑکر اس کو دفع کرتا ہے (۳) ذکر، دل سے فکر و غم دور کرکے دل میں طمانیت و سکینت پیدا کرتا ہے، کیونکہ ذکر میں یہ تاثیر و خاصیت فی ذاتہٖ موجود ہے (۴) ذکر سے توفیق اطاعت نصیب ہوتی ہے (۵) ذکر شروع کرتے ہی ذاکر کی بخشش ہو جاتی ہے۔ (۶) ذاکر کا نام اس کے مرنے سے پہلے اولیاء اللہ کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے (۷) ذکر الہی دل کی چابی ہے، اسی سے دل کا قفل کھلتا ہے (۸)بکثرت ذکر کرنے والوں کو خدا دوست رکھتا ہے (۹) ذکر سے روحانیت پیدا ہوتی ہے اور بڑھتی ہے (۱۰) ذکر سے محبت الہی میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یوں سمجھو کہ محبت الہی پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے، جب بندہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے (۱۱) ذکر سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے (۱۲) ذکر سے دل آئینے کی طرح صاف و شفاف ہوکر اس میں انکشافات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، ذکر ملکوتی عجائب کی کنجی ہے (۱۳) ذکر تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے (۱۴) ذکر سے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کی سختی ختم ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ وہ دل اللہ سے دور ہوتا ہے، جس میں سختی ہوتی ہے (۱۵) ذکر سے محویت اور استغراق حاصل ہوتا ہے، جو فنائیت تک پہنچا دیتا ہے (۱۶) ذکر کی برکت سے وسوسے اور نفس کی کارستانیاں خود بخود بند ہو جاتی ہیں (۱۷) ذکر سے نفسانی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں (۱۸) ذکر کی وجہ سے مذکور کے مشاہدے اور اس کی تجلیات سے دل منور ہو جاتا ہے (۱۹) ذکر دل میں فرحت و انبساط پیدا کرتا ہے (۲۰) ذکر دل اور چہرے کو منور کردیتا ہے (۲۱) ذکر سے رزق میں وسعت آتی ہے (۲۲) جو شخص چاہتا ہو کہ محبت الہی تک اس کی رسائی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ بکثرت ذکر کرتا رہے، کیونکہ ذکر ہی محبت الہی کا دروازہ ہے (۲۳) ذکر سے مراقبہ نصیب ہوتا ہے، جو بالآخر مرتبہ احسان تک پہنچا دیتا ہے، جس میں بندے کو ایسی عبادت نصیب ہوتی ہے کہ گویا وہ حق تعالی کو دیکھ رہا ہے اور یہی مرتبہ صوفیہ کرام کے نزدیک منتہائے مقصود ہے (۲۴) ذکر سے اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتا ہے، پھر جتنا ذکر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، قرب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے (۲۵) ذکر سے معرفت کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے (۲۶) ذکر دل کو ایسا زندہ کرتا ہے کہ پھر دل ذکر کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مچھلی کی زندگی کے لئے جس طرح پانی ضروری ہے، اسی طرح دل کے لئے ذکر ضروری ہو جاتا ہے اور ذکر کے بغیر دل تڑپتا ہے، جس طرح پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے (۲۷) ذکر دل کی غذا ہے، جس کے بغیر دل کمزور ہوکر مر جاتا ہے (۲۸) ذکر دل سے خواہشات اور غفلت کے رنگ کو صاف کرتا ہے (۲۹) ذکر نافرمانی، خطا اور لغزش سے دور رکھتا ہے (۳۰) جو شخص اللہ تعالی کو راحت میں یاد رکھتا ہے، اس کو اللہ تعالی اس کی مصیبت میں یاد رکھتا ہے (۳۱) ذکر کی برکت سے زبان جھوٹ، غیبت، بدگوئی اور چغل خوری سے محفوظ رہتی ہے (۳۲) ذکر کے ساتھ اگر رونا بھی نصیب ہوجائے تو قیامت کے دن جب کہ ہر شخص تپش اور گرمی سے پریشان ہوگا، ذاکر عرش کے سائے میں ہوگا (۳۳) ذکر میں مشغولیت کے سبب اگر ذاکر دعا نہ کرپا رہا ہو تو اللہ تعالی اس کو دعا کرنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہے (۳۴) ذکر آسان عبادت ہونے کے باوجود تمام عبادتوں سے افضل ہے (۳۵) ذکر سے ذاکر کی ترقی مسلسل جاری رہتی ہے، حتی کہ سوتے ہوئے بھی اس کی ترقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جس طرح ایکسلیٹر دبانے سے گاڑی چل پڑتی ہے اور جب گاڑی چل پڑے آپ ایکسلیٹر سے پاؤں ہٹا لیجئے تو گاڑی رکتی نہیں، بلکہ اپنی رفتا کے زور پر چلتی رہتی ہے، اسی طرح سوتے میں ذاکر کی روحانی ترقی جاری رہتی ہے (۳۶) ذاکر ایسا درخت ہے، جس پر علم و عرفان اور احوال و مقامات کے پھل آتے ہیں، یہ درخت جتنا بڑا ہوگا، اتنا ہی ثمر بار ہوگا (۳۷) ذکر سے اللہ تعالی کی ایسی معیت نصیب ہوتی ہے، جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یوں سمجھو کہ مصری میں مٹھاس، کیونکہ مٹھاس کو مصری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی ’’میں (اللہ تعالی) اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ ذکر کرتا ہے‘‘ (۳۸) ذکر کی وجہ سے ذاکر کو عزت کی خلعت پہنائی جاتی ہے (۳۹) دل میں ایک خاص طرح کی قسوت (سختی) ہوتی ہے، جو ذکر کے علاوہ کسی اور چیز سے دور نہیں ہوسکتی (۴۰) ذکر، دل کی تمام بیماریوں کا علاج ہے (۴۱) ذکر کے برابر کوئی چیز نعمتوں کو کھینچنے والی اور خدا کے عذاب سے دور کرنے والی نہیں (۴۲) ذکر پر مداومت کرنے والا جنت میں ہنستا ہوا داخل ہوگا (۴۳) ذکر کی کثرت سے ہرعبادت آسان ہو جاتی ہے (۴۴) ذاکرین کے لئے فرشتے جنت میں مکانات تعمیر کرتے ہیں، اگر کوئی فرشتہ تعمیر سے ہاتھ روک لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ’’تو کیوں رک گیا؟‘‘ تو وہ کہتا ہے ’’میرا آدمی ذکر سے رک گیا ہے، اس لئے میں نے بھی اس کے گھر کی تعمیر روک دی ہے‘‘۔ (اقتباس)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT