Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ذبیحہ کے لیے مویشیوں کی تجارت پر مرکز کے امتناع کو سپریم کورٹ میں چیلنج

ذبیحہ کے لیے مویشیوں کی تجارت پر مرکز کے امتناع کو سپریم کورٹ میں چیلنج

اعلامیہ میں شامل دفعات غیر دستوری ، شہریوں کو دی گئی ضمانت کی خلاف ورزی ، درخواست گذار کا ادعا
نئی دہلی ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جانوروں کے بازار میں ذبیحہ کے لیے مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع سے متعلق مرکز کے متنازعہ اعلامیہ کو آج سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں اس مسئلہ پر 15 جون کو سماعت مقرر کی گئی ہے ۔ اس مسئلہ کو عاجلانہ سماعت کے لیے جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل ویکشین بنچ پر پیش کیا گیا ۔ درخواست گذار نے استدلال پیش کیا کہ اعلامیہ کی دفعات غیر دستوری ہیں کیوں کہ ان سے زندگی بسر کرنے کے لیے کاروبار کے حق کے علاوہ اپنی پسند ، ضمیر و مذہب کی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ اس درخواست میں ادعا کیا گیا کہ گذشتہ ماہ جاری کردہ سرکاری اعلامیہ جانوروں کی قربانی سے متعلق مذہبی رسم و رواج کی آزادی کے مغائر ہے ۔ غذا کے لیے جانوروں کے ذبیحہ پر امتناع عائد کرنا اپنی پسند کی غذا کے انتخاب ، نجی راز داری اور شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس کی دستور میں کسی شہری کو ضمانت دی گئی ہے ۔ درخواست میں ادعا کیا گیا ہے کہ کیرالا ، مغربی بنگال ، تریپوری اور کرناٹک میں ریاستوں نے کہا ہے کہ وہ مرکز کے اس امتناع پر عمل آوری نہیں کریں گے کیوں کہ اس سے ان افراد کی زندگیوں کا گذر بسر دوبھر ہوجائے گا جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے درخواست گذار محمد عبدالفہیم قریشی نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ ’ اس بات کا بھی نوٹ لیا جانا چاہئے کہ غذا کے لیے جانوروں کو ذبح کرنا اور اس قسم کے جانوروں کے گوشت کے لوازمات تیار کرنا علاوہ ازیں جانوروں کی قربانی دینا کئی طبقات کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے جس کو دستور ہند کی دفعہ 29 میں کسی بھی قانون سازی یا عاملانہ مداخلت سے محفوظ رکھا گیا ہے ۔ جنہیں دستور سازوں نے کسی تحدید یا پابندی کا نشانہ نہیں بنایا ’ ۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مویشیوں کی خرید و فروخت یا دوبارہ فروخت پر مکمل امتناع سے کسانوں اور مویشیوں کے تاجرین پر بھاری مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ جس کے نتیجہ میں انہیں اپنے بچوں کو کھانا کھلانا بھی دشوار ہوجائے گا ۔ ان حالات کے باوجود انہیں بھوکے مویشیوں کو چارہ فراہم کرتے ہوئے ان کا پیٹ بھی بھرنا ہوگا کیوں کہ 1960 کے قانون ( جانوروں پر مظالم کے انسداد کے قانون ) کے تحت کسی جانور کو بھوکا رکھنا بھی جرم ہوگا ۔ چنانچہ مویشیوں کو بھوکا رکھنے یا ان کی صحیح دیکھ بھال نہ کرنے کے نام پر گاؤ رکھشکوں کو کسانوں اور مویشیوں کے تاجروں کو ہراساں کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اس درخواست گذار نے اپنے وکیل صنوبر علی قریشی کے ذریعہ داخل کردہ اپنی درخواست میں مزید کہا کہ ’ مرکز کے پرُنقص اور مجہول قواعد کے بہانہ گاؤ رکھشکوں کی جانب سے کسانوں اور مویشیوں کے تاجرین کو ہراساں و پریشان کیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ 1960 کے قواعد کو غیر دستوری قرار دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے ۔ ملک میں مویشیوں کے ذبیحہ پر مکمل امتناع کے نفاذ سے متعلق قواعد سے قصابوں کا روزگار اور ان کا کاروبار متاثر ہوگا ۔ علاوہ ازیں دستور کی دفعہ 21 کے تحت زندگی کے گذر بسر کے حق کی خلاف ورزی ہوگی ۔ مرکزی حکمنامہ سے قانون والدین / سرپرست کی 28 ویں دفعہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT