Tuesday , July 25 2017
Home / ہندوستان / ذبیحہ گاؤ کی افواہ پر فساد کا مقدمہ ، خاطیوں کی عدم شناخت

ذبیحہ گاؤ کی افواہ پر فساد کا مقدمہ ، خاطیوں کی عدم شناخت

سپریم کورٹ کی مدھیہ پردیش پولیس پر برہمی ، ویڈیو اور تصاویر دیکھنے کی ہدایت
نئی دہلی ۔8مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج مدھیہ پردیش پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے 2013 ء کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ نہیں لیا ۔ گائے ذبح کرنے کی افواہ پر یہ فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑے تھے ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کے علاوہ جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ ’’خاطی کون ہیں ؟ چارج شیٹ میں آپ ( مدھیہ پردیش ) نے کہاہے کہ ان افراد کی آپ نے شناخت نہیں کی ہے کیونکہ ہجوم میں 200 افراد شامل تھے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے ویڈیو سی ڈی نہیں دیکھا ہے ‘‘ ۔ ضلع مہروہ کے پیٹ گاؤں اور کھیڈا مواضعات میں 9 ستمبر 2013 ء کو ہوئے فسادات کے ضمن میں درج 12 ایف آئی آر کی تحقیقات کرنے والے تحقیقاتی افسر کو بنچ نے ہدایت کی کہ 17 جولائی کو اس مقدمہ کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضر ہوں ۔ گائے ذبح کرنے کی افواہوں پر یہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس کے نتیجہ میں 54 افراد کو اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم ہونا پڑا تھا ۔ پولیس نے 12 ایف آئی آر درج کئے تھے اور تمام میں سریندر سنگھ راجپوت عرف ٹائیگر کو اصل ملزم قرار دیا گیا تھا ۔ عدالت عظمیٰ نے 17 فروری کو مدھیہ پردیش پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ مقدمہ کے ریکارڈ کے ایک حصہ کے طورپر متعلقہ چارج شیٹ ترجمہ کے ساتھ پیش کرے ۔ ان چارج شیٹس کی تنقیح کے بعد عدالت نے آج نشاندہی کی کہ انھوں (پولیس ) نے خاطیوں کی شناخت نہیں کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن انوراگ مودی کی ایک اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت کی جارہی ہے جو انھوں نے اس مقدمہ میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف اپنے وکیل کے ذریعہ عدالت عظمیٰ میں دائر کی ہے ۔ انوراگ مودی نے مقامی بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر کمل پٹیل اور ان کے بیٹے سندیپ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انھوں نے تین ماہ بعد منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے یہ فساد بھڑکایا تھا ۔ تاہم ریاستی ہائیکورٹ نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ اس مقدمہ میں تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ اپیل میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بجرنگ دل ، وی ایچ پی او گاؤ رکشا کمانڈو فورس نے اس فساد کی سازش کی تھی اور ضلع مجسٹریٹ نے 20 ستمبر 2013 ء کو اُس وقت کے اسسٹینٹ چیف سکریٹری (داخلہ) کے نام اپنے مکتوب میں ان تنظیموں کا حوالہ دیا تھا لیکن چارج شیٹس میں ان تنظیموں کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’بلاشبہ ایک گائے فوت ہوئی تھی کیونکہ بھاری مقدار میں پالی تھین نگلنے کے سبب اس گائے کی سانس کی نالی بند ہوگئی تھی ۔ ابتداء میں 12 ایف آئی آر درج کئے گئے لیکن ایک میں بھی حکمراں بی جے پی کے موجودہ رکن اسمبلی کمل پٹیل پارٹی کے بیٹے سندیپ اور ان کی پارٹی کے ارکان جو اصل سازشی اور اُکسانے والے ہیں اس کے باوجود ملزم نہیں بنائے گئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT