Friday , March 31 2017
Home / شہر کی خبریں / ذخائر سے تمام آئیل کی نکاسی کیلئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال

ذخائر سے تمام آئیل کی نکاسی کیلئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال

NGRI کی نئی تحقیق ، چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر راؤ کی سیاست سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 14 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : CSIR نیشنل جیوفزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (NGRI) حیدرآباد نے ایک نئی تحقیق کو ایجاد کیا ہے ۔ جس کے ذریعہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کے ذریعہ تیل کے ذخائر آب سے تیل کی مکمل نکاسی عمل میں لائی جاسکے گی ۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیل کے ذخائر میں داخل کرتے ہوئے ماباقی تمام تیل کو نکالا جاسکے گا ۔ ڈاکٹر این پورنا چندرا راؤ چیف سائنٹسٹ و پرو فیسر ( سسمالوجی ) نے روزنامہ سیاست سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تیل کے ذخائر میں بچ جانے والے تیل کو مکمل طریقہ سے باہر نکالنا مشکل کام ہوتا ہے تاہم اس نئی ٹیکنیک سے یہ کام آسان ہوچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا ماحول میں کاروں اور دیگر گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کے سبب آلودگی میں زائد اضافہ ہوتا ہے ۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیل کے ذخائر میں داخل کرتے ہوئے تیل کو نکالے جانے پر ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں بھی کمی ہوگی اور ذخائر میں بچے کچے تیل کو باہر نکالا جاسکے گا ۔ جب کہ تیل کی برآمدات میں بھی کچھ حد تک کمی آئے گی ۔ ڈاکٹر پورنا چندرا راؤ چیف سائنٹسٹ نے بتایا اس تحقیق کے بار آور ہونے کے بعد اس بات کی تحقیق کی جائے گی کہ آیا کتنی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیل کے ذخائر میں داخل کیا جاسکتا ہے اور کس قدر تیل کو نکالا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا اس نئی تحقیق کو ’ 4D سمک ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا ایک مرتبہ یہ تجربہ کامیاب ہوجائے تب کمپنیاں اس طریقہ کار کے استعمال کے لیے آگے آئیں ۔ این جی آر آئی اس سلسلہ میں کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے دو بڑے تیل ذخائر آسام ڈگ بوائے فیلڈس ، بامبے ہائی کے ساتھ راجمندری اور سوراشٹرا میں بھی ذخائر کی بات کی ۔ ڈاکٹر پورن چندرا راؤ نے مزید بتایا کہ این جی آر آئی ایک نئی ٹکنالوجی ٹرانسٹ ہیلی بورن ایلکٹرو میگنیٹک سروے پر کام کررہی ہے ۔ اس ٹکنیکس کے ذریعہ زمین کے اندر پانی کے زونس کا پتہ چلایا جائے گا ۔ اس کے ذریعہ سائنسداں آبی نقشوں کی تیاری عمل میں لائیں گے ۔ اس تحقیق میں اس بات کا بھی پتہ چلایا جائے گا کہ آیا زمین کے اندر موجود پانی کس سطح پر ہے اور اس کا استعمال کب تک کیا جاسکے گا ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT