Wednesday , September 27 2017
Home / ہندوستان / ذرائع ابلاغ اور تفریحات کے شعبہ میں ٹیکسوں کو معقول بنانے کی توقع

ذرائع ابلاغ اور تفریحات کے شعبہ میں ٹیکسوں کو معقول بنانے کی توقع

خسارہ کی پابجائی کیلئے سرمایہ کاری ضروری‘ بجٹ 2016 ء میں کارپوریٹس کو ٹیکسوں میں نرمی کی امید
ممبئی۔28فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بجٹ 2016ء کی پیشکش سے قبل ذرائع ابلاغ اور تفریحات کے شعبہ میں ٹیکس اندازی کو معقول بنانے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی پر زور دیا ہے ۔ذرائع ابلاغ کو نیوز پرنٹ کو ویاٹ اور دوہری ٹیکس اندازی سے استثنیٰ دینے کی توقع ہے ۔ علاوہ ازیں تفریح ٹیکس کی بلند شرح اور تمام ریاستوں میں ٹیکس کی یکساں شرحوں کی شعبہ تفریحات میں توقع وابستہ کر رکھی ہے ۔ جب کہ مرکزی بجٹ کو اپنے احیاء کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے بجٹ کو سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹیکس اندازی کے دائرے کار میں وسط پیدا کر کے زیادہ مالیہ حاصل کرنا ضروری ہے ۔ کارپوریٹس اداروں میں توقع وابستہ کررکھی ہے کہ لاگت میں کمی پیدا کی جائے گی تاکہ انہیں کاروبار میں سہولت حاصل ہوسکے ۔ پی سی اور موبائیل فون تیار کرنے والوں کو توقع ہے کہ بجٹ میں اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کیلئے حکومت اقدامات کرے گی ۔ جب کہ اسٹارٹ۔اپس نے ٹیکس میں اور سرمایہ کاری پر ترغیبات کی امید رکھی ہے ۔

مرکزی عام بجٹ 2016- 17 کل پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ 2016ء میں ٹیکسوں کو معقول بنایا جانا چاہیئے ۔ تفریحی شعبہ کے بموجب بلند تفریحی ٹیکس کی شرح سے تفریحی شعبہ کا کاروبار ختم ہونے کے قریب ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے منصوبہ بنایا تھا کہ اپریل 2016 سے جی ایس ٹی نافذ کیا جاسکے گا جس میں تمام ٹیکسوں کا انضمام متوقع تھا لیکن اپوزیشن کی جانب سے جی ایس ٹی کی شدید مخالفت کے پیش نظر اس بل کی منظوری کا امکان باقی نہیں رہا ۔ چنانچہ تفریحی شعبہ اور ذرائع ابلاغ چاہتے ہیں کہ ٹیکس اندازی کو معقول بنایا جائے ۔ ذرائع ابلاغ کے شعبہ کو نیوز پرنٹ کو ٹیکس سے استثنی کی توقع ہے جب کہ تفریحات کا شعبہ بلند تفریحی ٹیکس کی شرح میں کمی کیلئے مرکزی وزیر فینانس پر زور دے رہا ہے ۔ منیجنگ ڈائرکٹر انٹل ساؤتھ ایشیاء اور ٹاٹا اسٹیل کے ایم ڈی ٹی وی نریندرن ‘ صدرنشین سری انفرا فینانس ہیمنت کنوڈیا نے کہا کہ مرکزی وزیر فینانس کو ٹیکس کے دائرے میں وسعت کی گنجائش رکھنی چاہیئے ‘ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ مالیہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور کالا دھن کے لین دین میں کمی کی جاسکتی ہے ۔ پاپا چاند گروپ کے صدرنشین تھامس جان مٹھوٹ نے کہا کہ میٹ کی شرح میں نمایاں کمی سے ٹیکس دہندگان کے ہاتھوں میں نقد رقم کا بہاؤ آجائے گا جس کی سرمایہ کاری کیلئے سخت ضرورت ہے ۔خانگی شعبہ نے کہا کہ زیادہ مقدار میں آکٹین توانائی کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو استحکام حاصل ہوسکے ۔ پی سی اور موبائیل ٹیلی فون تیار کرنے والوں نے توقع رکھی ہے کہ نئے بجٹ میں اندرون ملک ان مصنوعات کی تیاری میں اضافہ کیلئے اُن پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے گی ۔ اس شعبہ میں 2019ء تک 15لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT