Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / ذرائع ابلاغ کے اداروں میں دلت اور محروم طبقات کے قتل کی اہمیت نہیں : جناب عامر علی خان

ذرائع ابلاغ کے اداروں میں دلت اور محروم طبقات کے قتل کی اہمیت نہیں : جناب عامر علی خان

اقلیتوں پر منفی خبریں ، تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک پر ترقی ممکن ، مذاکرہ سے نیوز ایڈیٹر سیاست کا خطاب
حیدرآباد۔10مئی(سیاست نیوز) اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل کے علاوہ خواتین کے مسائل پر صحافتی اداروں کی توجہ محدود ہوا کرتی ہے ۔ صحافتی اداروں کی جانب سے اقلیت اور محروم طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے مسائل کو اہمیت نہیں دی جاتی جس کے سبب ان کے مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے متعلق منفی خبروں جیسے طلاق ثلاثہ جیسے امور کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہاہے۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی زیر صدارت منعقدہ مذاکرہ بعنوان ’محروم ‘ پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی ذرائع ابلاغ اداروں میں اہمیت‘ میں شریک شرکاء نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ جاتی سطح پر جب تک تمام کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا اس وقت تک مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ جناب عامر علی خان نے مذاکرہ کے دوران بتایا کہ ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے مسلمانوں کے متعلق منفی خبروں کی کثرت کی بنیادی وجہ نظریہ ہے اور اکثر ایسے لوگ ان خبروں کو چلاتے ہیں جنہیں ان امور کے متعلق مکمل آگہی حاصل نہیں ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے علاوہ دیگر محروم طبقات کے مسائل سے واقفیت حاصل کئے بغیر ان کے متعلق خبروں کو جگہ دینا کئی مرتبہ اداروں اور کئی مرتبہ خود ان طبقات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ اس مذاکرہ میں جناب عامر علی خان کے علاوہ جناب ایم اے ماجد‘ پروفیسر بی بالا سوامی‘ ڈاکٹر پنتوکلا سرینواس ‘ مسز سی ونا جا‘ مسز انجلی لعل گپتا اور مسز ایس رجیتا موجود تھے۔ مذاکرہ کے دوران ڈاکٹر پنتوکلا سرینواس نے بتایا کہ خبروں کے انتخاب میں بھی ذات پات موجود ہے کیونکہ دلت اور محروم طبقات کے قتل کی اہمیت ذرائع ابلاغ اداروں کے انتظامیہ کے پاس نہیں ہے جب دلت یا محروم طبقات کے 10تا12افراد قتل کئے جاتے ہیںتو ایسی صورت میں ہی ان کی خبریں بنتی ہیں بصورت دیگر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ روزانہ لاکھوں مرتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک موت واقع ہوگئی ۔ انہوں نے بتا یا کہ محروم و پسماندہ طبقات نے جب ریاست میں اقتدار تبدیل کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی تو اس کے بعد سے ان پسماندہ و محروم طبقات کے مسائل کو اہمیت دینے کا سلسلہ ترک کردیا گیا اور اب تک بھی ان کے مسائل کو غیر اہم تصور کیا جاتا ہے۔ جناب ایم اے ماجد نے کہا کہ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ریاستی و قومی سطح کے انگریزی و تلگو اخبارات مسلمانوں کے مسائل کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے طلاق ثلاثہ پر ٹی وی چینلوں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے مباحث کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا واقعی طلاق ثلاثہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے؟ اور اگر یہ مسئلہ ہے تو کتنے فیصد مسلمان اس کا شکار ہیں؟ انہوں نے منفی انداز فکر کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اسی طرح مسز وناجا‘ انجلی لعل گپتا اور رنجیتا نے ذرائع ابلاغ اداروں میں عدم مساوات اور خواتین کے امور کو اہمیت نہ دیئے جانے کی شکایت کی اور کہا کہ ان حالات کو بہتر بنانے کیلئے نوجوان صحافیوں کو تربیت کے لئے معیاری نصاب کی فراہمی ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT