Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ذیابطیس کی چوتھی قسم کا انکشاف ‘ آنکھیں اور دماغ پر اثر

ذیابطیس کی چوتھی قسم کا انکشاف ‘ آنکھیں اور دماغ پر اثر

بلڈ شوگر کی سطح میں بھی اضافہ کے اندیشے ۔ ڈاکٹر منیب فائق کی تحقیق
حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) ذیابیطس کے مختلف قسم کے ہیں اور اب تک ذیابیطس کی تین اقسام پائی جاتی تھیں لیکن آل انڈیا انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈاکٹرس کی ایک آزادانہ تحقیق جو کہ عالمی میڈیکل جنرل میں شائع ہوئی ہے اس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کی چوتھی قسم انسان کے دماغ اور آنکھوں کے خلیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر منیب فائق کی اس تحقیق میں انہوں نے بتایا کہ ہائی بلڈ شوگر سے بلکلیہ طور پر علحدہ اس ذیابیطس کے مرض کے متعلق یہ کہا جا سکات ہے کہ یہ مرض انسان کے دماغ اوراس کی آنکھوں کے خلیوں کو متاثر کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر منیب فائق اور ڈاکٹر تنوج داد ا کی اس تحقیق کے بعد یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس منفرد قسم کے ذیابیطس کے اثرات راست انسانی آنکھوں کے خلیوں یا پھر دماغ پر مرتب ہوں گے علاوہ ازیں اس چوتھے قسم کے ذیابیطس میں ہائی بلڈ شوگر بھی ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر شیام کلاوا لاپالی نے بتایا کہ تیسرے اور چوتھے قسم کے ذیابیطس میں انسولین اور گلوکوز کی سطح بڑھ جانے کے سبب اس کے منفی اثرات آنکھ اور دماغ پر ممکن ہے اسی لئے جسم میں شوگر کنٹرول میں ہونے کے باوجود آنکھ اور دماغ متاثر ہو سکتے ہیں۔بعض معاملات میں ہائی بلڈ شوگر اور انسولین کے سبب آنکھ اور دماغ صحیح طور پر کام نہیں کرپاتے جبکہ مریض کو اس بات کی خبر بھی نہیںہوتی کہ وہ ذیابیطس کا شکار ہوچکا ہے۔ زیادہ تر ہندستانی جو کہ دوسرے قسم کے ذیابیطس کا شکار ہیں انہیں اس بات کی خبر بھی نہیںہوتی کہ وہ بتدریج تیسرے اور چوتھے قسم کے ذیابیطس کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آئی اس مطالعاتی رپورٹ کے مطابق جو لوگ عام ذیابیطس کا شکار نہیں ہیں انہیں چوتھے قسم کے ذیابیطس کا مریض قرار دیا جا رہا ہے جس میں انسانی دماغ اور آنکھوں کے خلیوں میں ہائی شوگر پائی جاتی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستان کی 95فیصد عوام دوسرے قسم کے ذیابیطس کا شکار ہونے کے سبب اس مسئلہ پر توجہ نہںے دی جا رہی ہے جبکہ یہ بھی چوتھے قسم کے ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چوتھے قسم کے ذیابیطس سے نمٹنے اور اس کے علاج کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ طریقہ علاج کو اس کا اہل بنایا جائے تاکہ چوتھے قسم کے ذیابیطس پر اس کے فروغ سے پہلے ہی کنٹرول کے اقدامات ممکن ہو سکیں۔اس نئی تحقیق کے بعد ماہرین ذیابیطس کی جانب سے اس مسئلہ کی بنیادی وجوہات کا جائیزہ لیا جانے لگا ہے کہ اس تحقیق کے مطالعہ کے ذریعہ حالات کو کس طرح کنٹرول کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT