Wednesday , October 18 2017
Home / Health / ذیابیطس کا نیا علاج عنقریب ممکن

ذیابیطس کا نیا علاج عنقریب ممکن

آسٹریلیائی محققین نے پروٹین کے استعمال اور خون میں گلوکوز پر قابو پانے میں بہتری کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے جو چوہوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس طرح انسانوں میں ذیابیطس کے لئے نئے علاج کے امکانات کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ صف اول کے محقق اسٹیفن بروٹر آسٹریلیائی نیشنل یونیورسٹی نے کہا کہ ان انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے چوہے جن کا ہاضمہ کمزور ہو پروٹین اچھی طرح جذب نہ کرتا ہوکھانے کے بعد خون سے گلوکوز علحدہ کرنے میں انتہائی موثر ہوتا ہے ۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی کے تحقیقی اسکول برائے حیاتیات کے پروفیسر بروٹر نے کہاکہ غالباً یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے مریض ایسا نہیں کرسکتے ۔ یہ تحقیق نمایاں طورپر زمرہ دوم کی ذیابیطس کا علاج کرنے والی نئی دوائیں تیار کرسکتے ہیں۔ تقریباً دس لاکھ آسٹریلیائی زمرہ دوم کی ذیابیطس کے مریض ہیں اور تقریباً مزید 20 لاکھ افراد کو یہ کہنہ مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہے ۔ جو طرز زندگی پر گہرا اثر مرتب کرسکتا ہے ۔ اس کی وجہ سے وزن اور مٹاپے میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ بروٹر کا کہنا ہے کہ آنتوں میں مبینہ منتقل کرنے والا ذریعہ ہوسکتا ہے جو امینوایسڈس متحرک کرتا ہے ۔ پروٹین سے تیار ہونے والی مصنوعات ہاضمہ میں مدد دیتی ہیں۔ خون میں آنت کے لومین سے مدد ملتی ہے ۔ اس سے پروٹین کا استعمال کم ہوتا ہے اور بالواسطہ طورپر خون سے گلوکوز علحدہ کرنے کی تاثیر بہتر بناتا ہے ۔ چوہوں میں کولیسٹرول کی سطح بھی کم ہوگئی اور خون میں چربی کی مقدار کی سطح بھی کم ہوگئی جو موٹے لوگوں میں عام طورپر زیادہ ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ذیابیطس ہوسکتی ہے۔ یہ نتائج اس لئے بھی ولولہ انگیز ہیں کیونکہ ان سے انسانوں میں بھی یہ اہداف کا حصول ممکن ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ واجبی قیمت میں ایسی دوا تیار کی جاسکتی ہے جو اس ٹرانسپورٹر کا راستہ روک دے ۔ اگر ہم انسانوں میں اس کا اعادہ کرسکیں جو ہم ان چوہوں میں دیکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ ہم زمرہ دوم کی ذیابیطس کا علاج کرنے نئی دوا تیار کرسکیں ۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم ایک چھوٹی لمبی آزمائش کررہے ہیں انسانوں میں جو ایک کمیاب جنینی نقص کی وجہ سے یہ ٹرانسپورٹر نہیں رکھتے ۔ اس تحقیق کی تائید عالمی حفظان صحت کمپنی سنوفی نے بھی کی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مختلف قسم کے طریقے اختیار کرتی ہے ۔ سنوفی کی تائید کے بغیر ہم آسٹریلیا میں یہ اہم تحقیق کرنے میں شائد کامیاب نہ ہوتے ۔

TOPPOPULARRECENT