Thursday , August 17 2017
Home / Health / ذیابیطس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی 11 پیچیدگیاں

ذیابیطس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی 11 پیچیدگیاں

دوسری و آخری قسط

ہاضمے کے مسائل
ذیابیطس کے مریضوں کے معدے کے اعصاب کا نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے جو غذا کو ہاضمے کی نالی میں منتقل کرتا ہے۔ جب یہ نظام کام نہیں کرتا تو کھانا زیادہ طویل وقت تک آپ کے معدے میں رہتا ہے جس کے نتیجے میں کئی طبعیت پر بھاری گزرنے والی علامات کا سامنا ہوتا ہے جیسے سینے میں جلن، متلی، قے، گیس پیدا ہونا، تھوڑا کھانا کھاتے ہی پیٹ بھرنے کا احساس اور کھانے کی خواہش ختم ہوجانا وغیرہ۔ اگر آپ معدے کے مسائل کے شکار ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے غذائی عادات کو اپنائیں جیسے کم غذا کا استعمال یا زیادہ چربی یا فائبر والی خوراک سے پرہیز۔ اس کے علاوہ آپ کو اپنی ادویات میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے۔
بینائی کو نقصان
مختصر مدت کے لئے گلوکوز لیول میں کمی بیشی آنکھوں کی پتلی کی سوجن کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں نگاہ دھندلا جاتی ہے۔ درحقیقت جب ذیابیطس کے مریض اپنا علاج شروع کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ بنیائی زیادہ بدتر ہوگئی ہے حالانکہ وہ معمول پر ہوتی ہے صرف بلڈ شوگر لیول اوپر نیچے ہونے کے نتیجے میں پتلی اپنی ساخت بدل لیتی ہے تاہم آنکھیں چند ہفتوں میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس کے نتیجے میں بنیائی کے لئے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن میں آنکھوں کی پشت پر موجود خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنا، موتیا اور کالا و سبز موتیا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ مریض ہر سال اپنی آنکھ کا جامع تجزیہ کروائیں تاکہ بنیائی کے مسائل کو جلد از جلد سامنے لایا جاسکے کیونکہ اس صورت میں ان کا علاج زیادہ بہتر ہوجاتا ہے۔
کانوں میں گھنٹیاں بجنا
ذیابیطس کے مریضوں کے کانوں میں موجود اعصاب کو بھی نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں گھنٹیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔ اپنے بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھ کر اس علامت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
نیند کے مسائل
ذیابیطس کے شکار افراد میں خراٹوں سمیت دیگر نیند کے مسائل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں اس کی وجہ جسمانی وزن زیادہ ہونا ہے جو خراٹوں اور ذیابیطس دونوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اس کی ایک وجہ انسولین کی مزاحمت بھی ہوسکتی ہے، دبلے پتلے افراد کو انسولین کی مزاحمت کے نتیجے میں خراٹوں یا نیند کے دوران سانس کے نظام میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر سنگین مسائل کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر بھی شامل ہے۔ اس کا مناسب علاج عام طور پر ایک ماسک نیند کے دوران چڑھا کر کیا جاتا ہے جو سانس کی گزرگاہ کو کھلا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ
یہ ایک دوہرا خطرہ ہے درحقیقت اگر کسی شخص کے جگر پر چربی چڑھ جائے تو اس کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اسی طرح اگر ذیابیطس کا شکار پہلے ہو تو جگر کے مرض کا امکان بھی ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ تعلق نقصان دہ ہوتا ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے شکار 80 فیصد افراد کے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ چربی خون میں گلوکوز کے لیول کو کنٹرول کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ جگر پر چربی کی اکثر علامات نہیں سامنے آتی مگر اس سے سوجن اور درد کی شکایت ضرور پیدا ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جگر اپنا کام معمول کے مطابق نہیں کرپاتا۔ جسمانی وزن میں معمولی کمی اور کاربوہائیڈریٹ کا استعمال کم کردینے سے جگر کی چربی ڈرامائی انداز سے بہتر ہوجاتی ہے۔
پیروں کے امراض کا خطرہ
ذیابیطس کے مریضوں میں پیروں کے مسائل عام ہوتے ہیں مگر عام اقدامات کے ذریعے اس سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ذیابیطس سے پیروں کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس سے وہ بے حس ہوجاتے ہیں اور ان میں درد، ٹھنڈ، گرمی یا دیگر احساسات ختم ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ اس ابتدائی علامات کو شناخت نہیں کرپاتے تو آپ کے پیر بہت جلد انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ خون میں گلوکوز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو اپنا ہدف بناکر پیروں کے انفیکشن کو ٹھیک کرنے کا عمل سست کردیتی ہے اور زیادہ سنگین صورتحال ہونے پر پیر کو کاٹنا بھی پڑجاتا ہے۔ مگر اس کا حل بہت آسان ہے بس روزانہ اپنے پیروں کو دیکھ کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے اعصاب کام کررہے ہیں۔پیروں کو صاف رکھیں اور سردیوں میں کریم کے ذریعے جلد میں کریکس نہ پڑنے دیں جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دل کو اوورٹائم کام کرنا پڑتا ہے
ذیابیطس کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کی خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسے عوامل کا خطرہوتا ہے۔ نوے فیصد ذیابیطس کے امراض میں مبتلا افراد میں ایک یا اس سے زائد امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ شریانوں میں اکڑن کے نتیجے میں امراض قلب کا امکان بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ خوشی قسمتی سے اچھا طرز زندگی ذیابیطس اور امراض قلب دونوں کی روک تھام کرسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے گریز، جسمانی وزن میں کمی، صحت مند بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو برقرار رکھنا، جسمانی سرگرمیاں اور گلوکوز لیول کو ایک حد تک رکھنا وغیرہ چند بنیادی نکات ہیں۔

TOPPOPULARRECENT