Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / ذیلی عدالتوں میں دو کروڑ سے زائد مقدمات زیرتصفیہ

ذیلی عدالتوں میں دو کروڑ سے زائد مقدمات زیرتصفیہ

10.83 فیصد مقدمات دس سال سے زیر التوا ، محکمہ انصاف کا ڈاٹا جاری
نئی دہلی ۔ 9 فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی ذیلی عدالتوں میں دو کروڑ سے زائد مقدمات زیرتصفیہ ہیں اور ان میں دس فیصد ایسے ہیں جن کی دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یکسوئی نہیں ہوئی ۔ وزارت قانون کے تازہ اعداد و شمار میں یہ بات بتائی گئی ۔ نیشنل جوڈیشیل ڈاٹا گرڈ کی ویب سائیٹ کے ڈاٹا کے مطابق 31 ڈسمبر 2015 ء تک مختلف ریاستوں کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں 2,00,60,998مقدمات زیرتصفیہ ہیں۔ ان میں 83,00,426 مقدمات دو سال سے کم عرصہ سے زیرتصفیہ ہیں ۔10.83 فیصد مقدمات کی 10 سال سے یکسوئی نہیں ہوسکی۔ محکمہ انصاف نے آئندہ ہفتہ انصاف رسانی اور قانونی اصلاحات پر اجلاس کیلئے یہ نوٹ تیار کیا ہے ۔ ویب سائیٹ پر دستیاب ڈاٹا کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹ میں وضاحت کی گئی کہ ملک کی تمام عدالتوں کا اس میں احاطہ نہیں کیا گیا ۔ چنانچہ ڈپارٹمنٹ آف جسٹس وقفہ وقفہ سے 24 ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں تصفیہ طلب مقدمات کا ڈاٹا حاصل کیا کرتا ہے ۔ اس ڈاٹا میں کہا گیا کہ 36,30,282 یا 18.1 فیصد مقدمات گزشتہ پانچ تا دس سال سے زیرتصفیہ ہیں۔ دو تا 5 سال سے زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد 59,83,862 یا 29.83 فیصد بتائی گئی ہے ۔ وزیرقانون ڈی وی سدانند گوڑا نے گزشتہ ڈسمبر میں لوک سبھا کو تحریری جواب میں بتایا تھا کہ ذیلی عدالتوں نے 2014 ء میں 41.53 لاکھ مقدمات کی یکسوئی کی ۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے ختم تک 44,090 مقدمات کو حل کیا اور ڈسمبر 2015 سے یہاں زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 58.906 ہے۔ محکمہ نے زیرتصفیہ مقدمات میں تاخیر کی ایک اہم وجہ یہ بتائی کہ اس شعبہ میں پالیسی سازوں کیلئے مشکل یہ ہے کہ کس مقدمہ میں تاخیر کی جائے اسکے تعین کا کوئی راستہ نہیں۔ مثال کے طورپر اگر کوئی مقدمہ سماعت شروع ہونے کے اندرون ایک سال حل نہ کیا جائے تو کیا اسے تاخیر سمجھا جائے ؟ نوٹ میں کہا گیا کہ تاخیر ایک رکاوٹ بن رہی ہے اور اس سلسلہ سے نمٹنے پالیسی تبدیلی ضروری ہے ۔ عام طورپر زیرتصفیہ مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے ججس کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے یا اضافی بنچس قائم کی جاتی ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ججس کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت ہے ، ساتھ ہی زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد میں کمی کیلئے اسے واحد راستہ تصور نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT