Tuesday , September 26 2017
Home / آپ کے سوال / ذی الحجہ کے ابتدائی ایام میں عمرہ کرنا

ذی الحجہ کے ابتدائی ایام میں عمرہ کرنا

سوال :  میں سعودی عرب میں ملازم ہوں۔ بقرعید کے چھٹیوں میں میں گزشتہ سال جب اپنے گھر حیدرآباد آیا تو ذی الحجہ کے پہلے ہفتہ میں مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ ادا کیا ۔ پھر اپنے وطن واپس آیا ۔ مجھے خلش ہے کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں اگر عمرہ کریں تو اس کے ساتھ حج کرنا ضروری ہے یا عمرہ کی بالکل اجازت نہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے میں فرض حج ادا کرچکا ہوں۔ اس سال بھی میں عمر کر کے گھر آنا چاہتا ہوں، میرا گزشتہ سال کا عمرہ کیا ادا ہوا۔
محمود حسین فاروقی، جدہ
جواب :  فقہاء کرام نے عمرہ کے وقت کے بابت صراحت کی ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں کبھی بھی عمرہ ادا کیا جاسکتا ۔ البتہ ایام تشریق یعنی 9 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک عمرہ کرنا غیر قارن (حج قران کرنے والے کے علاوہ) کے لئے مکروہ ہے ۔ تاہم اگر کوئی ان ایام تشریق میں عمرہ ادا کرے تو عمرہ کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گا۔ عالمگیری جلد اول ص : 237 میں ہے : (ووقتھا) جمیع السنۃ الاخمسۃ ایام تکرہ فیھا العمرۃ لغیر القارن کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ وھی یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق ۔ والاظھر من المذہب ماذ کرنا ولکن مع ھذا لوادا ھا فی ھذہ الایام صح و یبقی محرما بھا فیھا کذا فی الھدایۃ۔
اگر کوئی شخص حج نہ کیا ہو اور وہ اشھر حج : شوال ، ذوالقعدۃ اور ذوالحجۃ کے دس دنوں میں خانہ کعبہ کو دیکھے تو اس پر حج کرنا فرض ہے۔ لیکن زندگی میں ایک ہی بار حج فرض ہونے کی وجہ آپ پر دوبارہ حج فرض نہیں کیونکہ آپ پہلے ہی فریضہ حج کی تکمیل کرچکے ہیں۔ لہذا جو عمرہ آپ نے ذی الحجہ کے ابتدائی ہفتہ میں ادا کیا ہے۔ شرعاً وہ صحیح ہے۔

حالت احرام میں عورت کا پردہ کرنا
سوال :  اس سال میں نے حج کا ارادہ کیا ہے ۔ دریافت کرنا یہ ہے کہ حالت احرام میں کعبہ شریف کے غلاف کو چومنا اور سر پر رکھنا کیسا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو کیا قربانی دینا ہوگا ؟ و نیز میرے ہاتھ میں موچ ہے اور میں پٹی بن رہا ہوں ۔ کیا حالت احرام میں پٹی باندھنے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ میری اہلیہ بھی شریک سفر ہے ، کیا وہ احرام کی حالت میں اپنے چہرے پر نقاب ڈال سکتی ہیں یا نہیں جبکہ وہ پردہ کی بہت پابند ہیں ؟
نام ……
جواب :   محرم کو حالت احرام میں سر اور چہرے کو چھپانے سے بچنا چاہئے۔ عالمگیری ج :  1 ص : 224 میں ہے ۔ و یتقی سترالاس والوجہ ۔ لہذا اگر کوئی کعبہ شریف کے  غلاف میں داخل ہوجائے اس طرح کے غلاف اس کے سر اور چہرے کو نہ لگے تو کوئی حرج نہیں اور اگر لگ جائے تو مکروہ ہے۔ و کذا لو دخل تحت ستر الکعبۃ حتی غطارا سہ او وجھہ کرہ ذلک لمکان التغطیۃ۔
لہذا احرام کی حالت میں کعبہ شریف کے غلاف کو اس طرح چومنا کہ جس سے چہرہ چھپ جائے یا سر چھپ جائے مکروہ ہے۔ احرام کی حالت میں پٹی باندھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
ولاباس للمحرم ان یحتجم او یفتصد او یجبر الکسراو یختتن کذا فی فتا وی قاضی خان ۔ عورت احرام کی حالت میں اگر اجنبیوں سے پردہ کرنا چاہے تو اپنے چہرہ کو چھپا سکتی ہے ۔ بشرطیکہ پردہ یا نقاب اس کے چہرہ کو مس نہ کرے۔
کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ج : 1 ص : 645 میں ہے۔ و یجوز للمراۃ ان تسترو جھھا و یدیھا وھی محرمۃ اذا قصدت السترعن الاجانب بشرط ان تسدل علی و جھھا ساترالایمس وجھھا عندالحنفیۃ والشافعیۃ۔

بیوی کو فسخ نکاح کا اختیار
سوال :   ہندہ نے زید سے اس شرط پر نکاح کیا تھا کہ ’’ چھ مہینے موجودگی کے عالم میں اور ایک سال سفر کی حالتمیں اگر اپنی ذات عورت کو نہ پہنچائی جائے تو پس عورت کا معاملہ اس کے اپنے ہاتھ ہوجائے گا۔ چنانچہ شادی کے تین ماہ تک زید ہندہ کے ساتھ رہا اس کے بعد وہ شارجہ چلا گیا، تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہوا وہ لاپتہ ہے۔ باوجود تلاش معلوم نہیں ہوا۔ ہندہ نے بر بناء شرط اپنا نکاح فسخ کرلی۔ ایسی صورت میں شرعاً یہ نکاح فسخ ہوا یا نہیں ؟
نام مخفی
جواب :  اگر بوقت عقد عورت ، عاقد پر شرط عائد کرے کہ ’’ اس کا معاملہ اس کے ہاتھوں میں رہے گا‘‘ اور عاقد اس شرط کو قبول کرلے تو شرعاً ایسا عقد درست ہے اور عورت کو علحدگی کا اختیار ہوگا ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب النکاح ص : 273 فعل فیما ینعقد بہ النکاح ومالا ینعقدبہ میں ہے ۔ وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منک علی انی اطلق او علی ان یکون الامر بیدی اطلق نفسی کلماشئت فقال الزوج قبلت جاز النکاح  و یقع الطلاق ویکون الامر بیدھا۔ اور در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 2 ص : 525 میں ہے : نکحھا علی ان امرھا بیدھا صح اور رد المحتار میں ہے (قولہ صح)  مقید بما اذا ابتدأت المرأۃ۔
پس صورت مسئول عنہا میں زید نے شرط مذکور در سوال قبول کر کے عقد کیا تھا تو اب ہندہ کا فسخ شرعاً درست ہے ۔
رکعتوں کی قضاء کرنا
سوال :  نماز عشاء کی دوسری رکعت میں ایک شخص جماعت میں شریک ہوا۔ جب امام دوسری اور چوتھی رکعت میں بیٹھے تواس نئے شخص کو اس وقت بیٹھ کر کیا پڑھنا چاہئے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت جو اس کی رہ گئی ہے اس کو کس طرح ادا کرنا چاہئے۔ یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسرا سورہ ملاکر پڑھنا چاہئے یا نہیں ؟
مکرم علی، پرانا پل
جواب :  امام جب قعدہ اولی، میں بیٹھے تو ایسے شخص پر امام کے ساتھ بیٹھنا واجب ہے اور ایسی صورت میں اس کو تین مرتبہ قعدہ کرنا ہوگا جن میں آخری قعدہ فرض اور پہلے کے دو واجب ہوں گے ۔ البحرالرائق ج : 1 ص : 18 میں ہے۔ ’’ فان المسبوق یثلاث من الرباعیۃ بقعد ثلاث قعدات کل من الاولیٰ والثانیۃ واجب الثالثۃ ھی الاخیرۃ وھی فرض ‘‘۔
چونکہ ہر قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہے اس لئے اس پر ہر ایک قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہوگا ۔ البحر الرائق کے اسی صفحہ میں ہے ’’ وکل تشھد یکون فی الصلوۃ محض واجب سواء کان اثنین او کثر کما علمتہ فی القعود‘‘ ۔  اور قعدہ اخیرہ میں امام کی پیروی کرتے ہوئے صرف تشہد پڑھنا کافی ہے ۔ درود اور دعاء ماثورہ کی ضرورت نہیں۔ فتاوی عالمگیری ہے۔ ج : 1 ص : 91 میں ہے ۔ ’’ ان المسبوق ببعض الرکعات یتابع الامام فی التشھد الاخیر و اذا تشھد لا یشتغل بما بعدہ من الدعوات ‘‘ اور تشہد کو امام کے سلام پھیرنے تک آہستہ آہستہ پڑھنا چاہئے ۔ چنانچہ اسی مقام ہے۔ ’’ ثم ماذا یفعل تکلموا فیہ والصحیح ان المسبوق یترسل فی التشھد حتی یفرغ عنہ سلام الامام کذا فی الوجیز للکردی، فتاویٰ قاضی خان و ھکذا فی الخلاصۃ و فتح القدیر ‘‘۔ باقی رکعتوں میں قراعت کا یہ حکم ہے کہ امام سلام پھیرنے کے بعد مقتدی جب رکعتوں کی تکمیل کے لئے کھڑا ہوگا تو پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورہ ملاکر پرھے گا جیسے وہ تنہا نماز پڑھنے کے وقت کرتا ہے اور باقی رکعتیں ضم سورہ کے بغیر ادا کرے گا ۔ فتاوی عالمگیری کے ص : 91 میں ہے (و منھا) انہ یقضی اول صلوتہ فی حق القراء ۃ و آخرھا فی حق التشھد‘‘۔

وراثت میں لڑکیوں کو حصہ نہ دینا
سوال :  اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین کے انتقال کے بعد مخصوص افراد جو موروثی گھر میں موجود ہیں۔ دیگر افراد خاندان جو علحدہ دوسروں کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی حق تلفی کرتے ہوئے نقصان رساں بھی ہیں، کیا جائز عمل ہے جبکہ حدیث شریف میں تذکرہ ہے کہ کوئی شخص ایک بالشت زمین کسی کی بھی ناجائز قبضہ کرلے تو ان افراد کی قبر تنگ کردی جاتی ہے ۔ دیگر یہ کہ والد بزرگوار کاروبار ٹرانسپورٹ میں دیگر ٹرانسپورٹ مالک کو 3 ہزار روپیہ باقی رکھ کر انتقال ہوگئے، ایسی صورت میں مرحوم کی بقایاجات کن افراد کو ادا کرنا ہوگا وضاحت فرمائیں ، مدیر اخبارات سے بھی مطلع فرمائیں اس قسم کے واقعات عام بھی ہیں تاکہ آئندہ ایسے افراد جو کم پڑھے لکھے ہوں تو ان کو بھی رہبری ہوسکے ۔ خدا تعالیٰ آپ کو اجر عطا فرمائے ۔
آج کل سعودی ملازم افراد کا والدین کے حقوق کی ادائی میں کوتاہی کرنا عام عمل ہوگیا۔ اس تعلق سے ضروری ہدایتیں فرمائیں۔
رکن الدین، محبوب نگر
جواب :   صاحب جائیدادکے انتقال کے ساتھ ہی اس کی تمام تر جائیداد، مال و اسباب غرض کہ ہر مملوکہ چیز میں اس کے ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے ۔ ہر وارث اپنے متعینہ حصۂ رسدی میں تصرف کا مجاز ہوتا ہے ۔ دوسرے وارث کے حق و حصہ میں اس کی اجازت و مرضی کے بغیر تصرف کا کوئی اختیار نہیں رہتا کیونکہ ہر وارث ، دوسرے کے حق و حصہ میں بالکل اجنبی رہتا ہے۔
صاحب جائیداد کے انتقال کے بعد متروکہ مکان میں مرحوم کے لڑکے سکونت پذیر ہوں اور وہ سسرال میں مقیم اپنی شادی شدہ بہنوں کو ان کا حصہ رسدی نہ دیں تو شرعاً وہ غاصب و ظالم کہلائیں گے ۔ گنہگار ہوں گے اور آخرت میں ماخوذ ہوں گے ۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کردینے کی وجہ ان کو ماں باپ کے متروکہ سے کچھ نہیں ملتا۔ اس طرح کا تصور جہالت ہے، اور بد دیانتی ہے۔ لڑکیاں بہر صورت وارث ہیں ۔ خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں، ان کو ان کا حصہ رسدی دینا لازم ہے۔ نیز کسی وارث کے حصہ کو نہ دیکر اپنے زیر استعمال رکھنا درست نہیں۔
اگر کوئی شخص انتقال کرجائے اور اس کے ذمہ واجب الادا قرض ہو اور وہ کچھ متروکہ چھوڑا ہے تو متروکہ کی تقسیم سے قبل اس سے تجہیز و تکفین کے مصارف وضع کر کے جس نے خرچ کئے ہیں اس کو دیئے جائیں گے ، اس کے بعد مرحوم کا جو قرض واجب الادا ہے اس کو ادا کیا جائے گا ۔ اس کے بعد مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے تیسرے حصہ سے اس کی تعمیل کی جائے گی ۔ بعد ازاں جو بچ رہے وہ ورثہ میں حسب احکام شرع تقسیم ہوگا اور اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہو اور اس کا کوئی متروکہ نہ ہو تو شرعاً اس کی ادائی کسی پر لازم و فرض نہیں۔ تاہم اس کی اولاد کو چاہئے کہ وہ ا پنے والد کے قرض کو ادا کر کے اس کے ذمہ سے بوجھ کو ختم کردے تاکہ وہ آخرت میں ماخوذ نہ ہو۔
ماں باپ کی خدمت ، اطاعت گزاری ، ہرحال میں اولاد پر لازم ہے۔ سعودی عرب یا بیرون ملک مقیم افراد اپنے ماں باپ کی خدمت سے مستثنی نہیں۔ اگر وہ کوتاہی کریں تو گنہگار ہوں گے ۔ ماں باپ سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ان کی خدمت انمول و لاقیمت ہے ۔ اس کے مقابل میں مال و زر کی کوئی حیثیت نہیں۔ مال و زر کے کمانے میں والدین کی خدمت جیسی بیش بہا دولت سے محرومی بدبختی ہے۔ والدین کی خدمت نہ صرف دنیا میں سر خرو کرتی ہے بلکہ آخرت میں نجات دلاتی ہے اور ان کے حقوق میں کوتاہی دنیاوی نقصان اور آخرت میں ہلاکت کا باعث ہے۔

TOPPOPULARRECENT