Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ قانون سازی کے بعد تجارت میں کمی،آئندہ چند مہینوں تک حالات ناسازگار ، نائٹ فرینک ادارہ کی رپورٹ

رئیل اسٹیٹ قانون سازی کے بعد تجارت میں کمی،آئندہ چند مہینوں تک حالات ناسازگار ، نائٹ فرینک ادارہ کی رپورٹ

حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کے لئے کی گئی قانون سازی کے سبب حیدرآباد رئیل اسٹیٹ مارکٹ ٹھپ ہوچکا ہے اور سال 2017کے ابتدائی 6ماہ کے دوران اس میں 56فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔نائٹ فرینک نامی ادارہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کے نئے پراجکٹس کے آغازمیں بھی زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی وجہ ادارہ کی جانب سے یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے نافذ کئے گئے رئیل اسٹیٹ کے متعلق نئے قوانین کے سبب رئیل اسٹیٹ شعبہ کی ترقی میں 56فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور کمپنی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران شعبہ میں فوری کسی تبدیلی کے آثار بھی نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016کے ابتدائی 6ماہ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 2016کے آخری 6ماہ کے دوران 55فیصد گراوٹ نئے پراجکٹس میں دیکھی گئی جبکہ سال 2017کے ابتدائی 6ماہ کے دوران اس میں مزید 56 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ RERAرئیل اسٹیٹ ‘ ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 2016میں وضاحت نہ ہونا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین کے حوالہ سے ادارہ نے دعوی کیا ہے کہ حیدرآباد کے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں نئے پراجکٹس کے آغاز کے رجحان میں کمی کی کئی ایک وجوہات ہیں جن کے سبب شعبہ متاثر ہورہا ہے۔رئیل اسٹیٹ شعبہ کے ماہرین کو حیدرآباد میٹرو ریل کے آغاز سے کئی امیدیں ہیں اوران کا احساس ہے کہ اگر میٹرو ریل کی شروعات ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں بھی نئے پراجکٹس کے آغاز کی توقع ہے کیونکہ شہر میں کرایوں میں تیزی سے ہو رہے اضافہ کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شعبہ کی ترقی کے امکانات موہوم نہیں ہیں لیکن فی الحال جو رئیل اسٹیٹ شعبہ کی حالت ہے یہ حالات گذشتہ 20برسوں کے دوران کبھی پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ حالیہ عرصہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ میں تیز رفتار ترقی کی توقع کی جا رہی تھی کیونکہ شہر حیدرآباد و اطراف کے علاقو ں میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے فروغ کیلئے اقدامات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود شہری علاقوں میں نئے پراجکٹس کے آغاز میں 56فیصد کی گراوٹ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

TOPPOPULARRECENT