Tuesday , September 19 2017
Home / ہندوستان / رابرٹ وڈرا کیخلاف مضبوط کیس، تحقیقات میں مداخلت کی ضرورت نہیں

رابرٹ وڈرا کیخلاف مضبوط کیس، تحقیقات میں مداخلت کی ضرورت نہیں

سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے الزام پر ہریانہ کے وزیر انیل وج کی وضاحت

امبالہ (ہریانہ) ۔ 23 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈرا کے اس الزام پر کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ حکومت ہریانہ نے آج کہا کہ رابرٹ وڈرا سے متعلق اراضیات کے معاملت کی تحقیقات میں کوئی مداخلت نہیں کی جارہی ہے جبکہ ایک مضبوط کیس پایا جاتا ہے۔ رابرٹ وڈرا نے آج تک جو کچھ بھی حاصل کیا ہے وہ سیاست کی بدولت ہے۔ اگر انہیں تحقیقات کے بارے میں اعتراض ہے تو حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ہریانہ کے سینئر وزیر انیل وج نے بتایا اکہ گر گاؤں کے 4 دیہاتوں میں بعض کمپنیوں بشمول رابرٹ وڈرا کی ایک کمپنی کو اراضیات کے لائسنس کی منظوری کا جائزہ لینے کیلئے ایک رکنی جسٹس ایس این دھنگرا کمیشن تشکیل دیا گیا ہے ۔ یہ کمیشن آزادانہ تحقیقات کر رہا ہے جس میں حکومت ہریانہ کا کوئی رول نہیں ہے ۔ اب یہ معاملہ کمیشن اور وڈرا کے درمیان ہے ۔ تاہم ریاستی وزیر نے کہا کہ اگر کمیشن اپنی رپورٹ میں وڈرا کے خلاف سفارشات کرنے کی صورت میں یقیناً ہم سخت گیر کارروائی کریں گے۔ ان کا یہ تبصرہ رابرٹ وڈرا کے ایک بیان کے بعد آیا جن کی اراضیات کے معاملتوں کی بی جے پی کی زیر قیادت ہریانہ اور راجستھان کی حکومتیں تحقیقات کروارہی ہیں جنہوں نے کل ایک بیان میں کہا تھا کہ محض سیاسی خاندان سے وابستگی کی بناء انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ تاہم ریاستی وزیر انیل وج جو کہ امبالہ کنٹونمنٹ حلقہ سے 5 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، کہا ہے کہ ہم یہ پیش قیاسی نہیں کرسکتے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ؟ لیکن ہمارا یہ ایقان ہے کہ وڈرا کے خلاف کیس مضبوط اور ٹھوس ہوگا۔ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈرا نے کل یہ کہا تھا کہ ان کے اور پرینکا گاندھی کے درمیان فاصلہ رکھنا چاہئے جو کہ ایک بزنس اور دوسرے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سیاسی حریف ایک دوسرے سے خلط ملط کر رہے ہیں۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ ا نہیں عملاً سیاسی تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ 46 سالہ رابرٹ وڈرا نے یہ ادعا کیا کہ جب بھی عوام کی توجہ ہٹانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، بی جے پی انہیں سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے حملے کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر ہریانہ نے حال ہی میں ایک تقریب کے موقع پر کہا کہ جسٹس ایس این دھنگیرا کمیشن بہت جلد اپنی رپورٹ پیش کرنے والی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پیشرو حکومت کے غلط کاموں کو منظر عام پر لایا جائے گا اور کروڑہا روپئے کے اسکامس کو بے نقاب کردیا جائے گا۔ بی جے پی حکومت نے ماہ مئی میں ایک رکن تحقیقاتی کمیشن کا تقرر عمل میں لایا تھا تاکہ بعض کمپنیوں بشمول رابرٹ وڈرا کی ایک کمپنی موقوعہ سیکٹر 83 گڑگاؤں میں ڈپارٹمنٹ آف ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ کی جانب سے لائسنس کی اجرائی میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT