Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / رات کے اوقات میں تیز رفتار گاڑیوں کا پتہ چلانے موثر سگنل سسٹم

رات کے اوقات میں تیز رفتار گاڑیوں کا پتہ چلانے موثر سگنل سسٹم

چوراہوں پر حادثات کو روکنے متعدد اقدامات، رات میں بھی سگنلس پر گاڑی روکنا لازمی

حیدرآباد ۔12 ستمبر (سیاست نیوز) رات کے اوقات میں سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام نہ ہونے کے زعم میں گاڑی ران افراد سگنلس کے پاس بھی تیز رفتاری سے گاڑیاں چلارہے ہیں۔ علاوہ ازیں رات کے اوقات میں سگنلس بھی دن بھر کی تھکان دور کرنے کیلئے آرام کرتے ہیں اور چوراہوں پر چہار جانب سے آنے والے گاڑی راں افراد تیز رفتاری سے ہی گاڑیاں چلارہے ہیں جس کی وجہ سے حادثات پیش آرہے ہیں اور ان حادثات کی روک تھام کیلئے سٹی پولیس کے شعبہ ٹریفک کے عہدیداران نے اہم تبدیلیاں لائی ہیں جیسے رات کے اوقات میں سگنلس کو وہیکل اکٹیویٹیڈ کنٹرول (وی اے سی) موڈ کور اکٹویٹ کرنے کے علاوہ بعض جنکشنس کو بند کردے رہے ہیں۔ عہدیداران کے مطابق ان اقدامات کی وجہ سے رات کے اوقات جنکشنس کے پاس ہونے والے حادثات نہ کے برابر ہیں جو کافی نفع بخش بھی ہیں اور ان اقدامات کی وجہ سے جنکشنس کے پاس گاڑی رانوں کو دن کی طرح ہی رات کے اوقات میں گاڑیاں روکنا ہوگا۔
ملکی سطح پر جنکشنس کا یہی حال ہے
مرکزی حکومت کے زیراہتمام خدمات انجام دینے والے ادارے منسٹری آف روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز (MORTH) نے حالیہ دنوں سال 2016ء کے سڑک حادثات کی تفصیلات جاری کی ہیں جس کے مطابق ملکی سطح پر پیش آنے والے سڑک حادثات میں 37 فیصد جنکشنس کے پاس پیش آنے والے حادثات ہی ہیں اور حیدرآباد میں حادثات کے اڈوں کیلئے مشہور مقامات (بلاک اسپاٹس) کی اکثریت جنکشنس ہی ہیں اور ان مقامات پر حادثات اکثر رات کے اوقات میں ہی پیش آرہے ہیں۔ ان حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک عہدیداران نے سگنلس سسٹم میں اہم تبدیلیاں انجام دی ہیں اور حادثات کی روک تھام کیلئے ٹریفک عہدیداران رات کے اوقات ان جنکشنس کو بند رکھنا ہی درست طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ مثلاً سکریٹریٹ کے قریب تلگو تلی چوراستہ کو لیں تو ایک جانب ٹینک بینڈ دوسری جانب سے اقبال مینار کے جانبی دو راستہ بڑی اہم سڑکیں ہیں۔ آدرش نگر، این ٹی آر مارگ سے آنے والے راستے اتنے زیادہ اہم نہیں ہیں اور رات 11 بجے کے بعد پولیس ان چوراستوں کو بند کردے رہی ہے نتیجتاً اس علاقہ میں حادثات میں بہت بڑی کمی ہوئی ہے۔ اس نتیجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس عہدیداران اس طرح کے دیگر جنکشنوں کو رات 11 بجے کے بعد بند رکھنے کے اقدامات کررہے ہیں۔
وقت کے ضیاع سے بچنے کیلئے
شہر میں عام طور سے آٹومیٹک سسٹم ہے اور ضرورت کے مطابق مینول موڈ سے آپریٹنگ کرتے ہیں مگر رات کے اوقات میں مینول موڈ کرنا مشکل ہے۔ علاوہ ازیں آٹو میٹک موڈ کی عمل آوری سے وقت ضائع ہوتا ہے اسی لئے ٹریفک عہدیداران رات کے اوقات میں وی اے سی موڈ پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔
وی اے سی کیا ہے؟
ایک جنکشن سے جڑنے والے راستوں پر جاری ٹریفک تعداد کے حساب سے لال اور ہری لائیٹوں کے جلنے کے اوقات کو خودبخود مقرر کرلیتے ہیں۔ ٹریفک سگنلس کے بازو موجود ورچول روپ کیمرے جنکشن کے تمام راستوں کو فوکس کرتے ہیں جس کے ذریعہ ظاہر ہونے والے خصوصی شعاعیں سڑک کو چند پولس میں تقسیم کرکے نگرانی کرتی ہیں اور تمام سڑکوں پر موجود سی سی کیمرے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسلک ہوتے ہیں نتیجہ میں ان سڑکوں پر موجود سگنلس کے پاس کھڑی گاڑیوں کو کمپیوٹرس سے معائنہ کیا جاتا ہے اور زیادہ ٹریفک والے راستے پر گرین سگنل کم ٹریفک والے راستے پر ریڈ سگنل دیا جاتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT