Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / راجستھان میں اسکولی نصاب تبدیل کرنے کا فیصلہ مہا پرش اور ریاستی تاریخ کو اہمیت ، بیرونی مصنفین نظرانداز

راجستھان میں اسکولی نصاب تبدیل کرنے کا فیصلہ مہا پرش اور ریاستی تاریخ کو اہمیت ، بیرونی مصنفین نظرانداز

جئے پور ۔ 22 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’ثقافتی بے گانگی‘‘ کو ختم کرتے ہوئے حکومت راجستھان نے آئندہ تعلیمی سال سے I تا XII سرکاری اسکولس میں نیا نصاب متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ملک کے ’’مہا پرش‘‘ (عظیم قائدین) اور ریاست کی تاریخ پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ ریاستی وزیر تعلیم واسودیو دیونانائی نے بتایا کہ ریاستی حکومت نیا تعلیمی نظام متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس میں عظیم قائدین کی کہانیوں ، اخلاقی سائنس ، ملک کی سائنٹفک ترقی ، راجستھان کی تاریخ اور اخبار کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو مہا پرش جیسے مہارانا پرتاپ کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ I تا V نصاب میں 75 فیصد حصہ راجستھان اور 25 فیصد حصہ قومی اہمیت کا حامل ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بیرونی مصنفین کو بدل کر ہندوستانی مصنفین کو شامل کیا جائے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ جتنی ضرورت ہوگی ، اتنا ہی بیرونی پڑھایا جائے گا۔

 

دلتوں کے بارے میں مرکزی وزیر کے تبصرہ پر اعتراض
سرینگر۔/22اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ فرید آباد میں 2دلت بچوں کی موت پر مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے متنازعہ ریمارک پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اس ریمارک سے میری زبان گنگ ہوگئی ہے۔عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر پر بتایا کہ دلتوں کی ہلاکت پر وی کے سنگھ کے تبصرہ سے ان کے ہوش و حواس گم ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT