Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / راجستھان کے گاؤں میں دوسری شادی کے بعد اولاد کی نعمت

راجستھان کے گاؤں میں دوسری شادی کے بعد اولاد کی نعمت

بارمیڑ ، 14جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے بارمیڑ ضلع میں ایک ایسا گاوں ہے خاندان میں دوسری بیوی سے ہی اولاد پیدا ہوتی ہے ۔ضلع ہیڈکوارٹر سے 28کلومیٹر دور گڑرا سڑک پر واقع دسیسر گرام پنچایت کے مسلم اکثریت والی بستی میں 70مسلم خاندان ہیں۔ گاوں کے ہر خاندان میں ہر نوجوان نے دو دو شادیاں کی ہیں۔ مسلمانوں میں دوسری شادی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن اس گاوں کے لوگوں کی دوسری نکا ح کی وجہ کافی دلچسپ ہے ۔گاوں کے کسی بھی خاندان میں پہلی شادی کے بعد کسی کو بھی اولاد نہیں ہے لیکن دوسری شادی کے بعد ہر ایک کو اولاد کی نعمت حاصل ہوئی۔ گاوں کے کئی لوگوں نے تو آدھی عمر گذر جانے کے بعد اولاد کی چاہت میں دوسرا نکا ح کیا اور ان کے یہاں بچے پیدا بھی ہوئے ۔ایک دو خاندانوں میں ایسا ہو تو اسے اتفاق کہا جاسکتا ہے لیکن ہر شخص کی دوسری شادی کے بعد ہی اولاد پیدا ہونا کسی حیرت سے کم نہیں ہے ۔ گاوں کے بزرگ 65 سالہ آرب خان بتاتے ہیں کہ گاوں کے ساتھ یہ اتفاق کئی اسباب کی وجہ سے جڑا ہوا ہے ۔وہ بتاتے ہیں کہ گاوں کے لیلا میٹھا کے گھر کئی سال تک اولاد نہیں ہوئی ۔ گھروالوں نے اس پر دوسرا نکاح کے لئے دباو ڈالا لیکن اس نے صاف انکار کردیا ۔ تقریباً 55سال کی عمر میں اس کی بیوی کی موت ہوگئی ۔اس کے بعد گھر والوں کے دباو کی وجہ سے اس نے دوسری نکاح پر رضامندی ظاہر کردی ۔ نکاح کے ایک سال بعد ہی اس کے گھر ایک بیٹی پیدا ہوئی او رپھر تین بیٹے بھی پیدا ہوئے ۔اس کے بعد تو ہر خاندان میں پہلی شادی کے بعد پہلی بیوی سے کسی کو اولاد نہیں ہوئی ۔دوسری شادی کرنے کے بعد بیوی سے ہر گھر میں اولاد پیدا ہوئی ۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ اس کی وجہ پوچھنے کے آرب نے اسے خدا کی مہربانی قرار دیا ۔ گذشتہ ماہ بھی تین لوگوں نے دوسری شادی کی ۔گاو ں کے ایک رہائشی آدم خان کے مطابق اس کی پہلی شادی سترہ سال کی عمر میں ہوگئی تھی چار سال تک گھر میں بچے نہیں ہونے کی وجہ سے اس نے دوسرا نکاح کیا ، دوسری بیوی سے اس کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT