Tuesday , October 17 2017
Home / اداریہ / راجناتھ سنگھ کا دورہ پاکستان

راجناتھ سنگھ کا دورہ پاکستان

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے دورہ پاکستان کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرکے پاکستان کے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اس مسئلہ کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا۔ یہ بات درست ہے کہ مقامی سطح پر سرگرم تنظیموں کا سرکاری سطح کی مصروفیات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے، حکومت پاکستان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مہمانوں کی سکیوریٹی کا خیال رکھے اور اپنی سرزمین پر رونما ہونے والے گروپس کی سرگرمیوں کا نوٹ لے۔ حکومت ہند نے اس دھمکی کے تعلق سے زیادہ تشویش بھی ظاہر نہیں کی ہے۔ یہ کام پاکستانی رینجرس اور دیگر حکام کا ہے کہ وہ بیرونی ملک سے آنے والے مہمانوں کی سکیوریٹی کو سخت کریں۔ لشکر طیبہ نے اٹاری، واگھا سرحد پر بڑے پیمانہ پر احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے سے ہند۔پاک تعلقات کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ پاکستان کو بھی یہی ثابت کرنا ہے کہ اس کی جانب سے ایسی تنظیموں کی کوئی سرپرستی نہیں کی جارہی ہے جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، اس بارے میں عالمی اداروں کا یقین ہے کہ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کو جو لشکر طیبہ کا ہراول دستہ گروپ ہے امریکہ اور اقوام متحدہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس گروپ کو پاکستانی فوج اور انٹلیجنس ایجنسیوں سے سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔

یہ غیر متوقع بات بھی نہیں ہے کہ پاکستان کا جب کبھی کوئی ہندوستانی سیاستداں دورہ کرتا ہے تو جماعت الدعوۃ اور حزب المجاہدین جیسے گروپس احتجاج کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس مرتبہ دفاع پاکستان کونسل کے ارکان نے بھی دھمکی دی ہے جو تقریباً 40 ریاڈیکل اور دہشت گرد گروپ کی سرپرست تنظیم ہے، ان گروپس کے تعلق سے بیرون پاکستان یہی کہا جاتا رہا ہے کہ انہیں پاکستانی فوج کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان گروپس نے 2012ء میں مخالف امریکہ شدید مظاہرے کئے تھے جب پاکستان سے متصل افغان سرحد پر امریکی بمباری میں 24 پاکستانی سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ جماعت الدعوۃ یا لشکر طیبہ پر الزام ہے کہ یہ تنظیمیں دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں اور ان کے لئے بڑے پیمانہ پر فنڈس فراہم کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں 2008ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس تنظیم کے خلاف حکومت پاکستان نے اگرچیکہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس کی کارروائیوں سے ہندوستان کو عدم اطمینان ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کوشاں ہیں۔ خاص کر نواز شریف اپنی میعاد کے آخری دو سال کے دوران ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں ترجیحی اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

ایک طرف وہ ہندوستان کے ساتھ دوستی کے عزائم ظاہر کرتے ہیں دوسری طرف پاک مقبوضہ کشمیر میں اپنی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کو سیاسی فائدہ پہونچانے کی خاطر کشمیر کی صورتحال پر منفی اظہار خیال کرتے ہیں۔ اس سے دونوں جانب تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش سرد پڑنے کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں پائی جانے والی موجودہ بے چینی اور بدامنی کی کیفیت کا نواز شریف حکومت نے جس طرح کا نوٹ لیا ہے وہ ہندوستان کے لئے قابل اعتراض بات ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کی حلف برداری میں نواز شریف کی شرکت اور اس وقت دونوں سربراہوں کی گرمجوشانہ ملاقات سے اس امید کو تقویت حاصل ہوئی تھی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں استحکام آئے گا۔ لیکن بعد کے دنوں میں حالات کشیدہ ہوگئے اور تعلقات کا مثبت گراف بھی منجمد دکھائی دینے لگا۔ 2008 ء کے بعد دونوں ملکوں میں خوشگوار بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے سارک اجلاس میں شرکت کے موقع پر بھی ہند۔پاک بات چیت کا امکان ہے ۔ گلے شکوے نہ کرتے ہوئے مثبت سوچ کو فروغ دیں تو بہتری کی امید پیدا ہوگی۔سارک کانفرنس کا پلیٹ فارم ہند۔پاک قائدین کی ملاقات اور مشاورت کا ایک اچھا موقع ہوسکتا ہے۔ راجناتھ سنگھ کو اپنے پاکستان ہم منصب سے ملاقات کرنے میں کوئی مانع حائل نہ ہو تو توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں جانب ماضی کی تلخیوں کو فراموش کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT