Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / راجناتھ سنگھ کا دورہ کشمیر

راجناتھ سنگھ کا دورہ کشمیر

لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میں جادو بھرکے
وہ مچلتے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے
راجناتھ سنگھ کا دورہ کشمیر
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ جموں و کشمیر اور وادی کی اپوزیشن پارٹیوں خاص کر سابق حکمراں پارٹی نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی ایم کے وفود کی نمائندگی میں جو باتیں سامنے آئی ہیں اس سے وادی کشمیر کی سنگین صورتحال واضح ہوئی ہے۔ راجناتھ سنگھ کے دورہ سے وادی میں اس کی بحالی کے کوئی نمایاں آثار تو نظر نہیں آئے تاہم انہوں نے اس مسئلہ کو جذبات سے مربوط کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی وادی کشمیر میں جذباتی وابستگی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وادی میں امن کی بحالی میں مدد کریں۔ ان سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ وادی میں اس کی بحالی کے لئے مرکز کے پاس کیا پیمانہ ہے۔ اگر مرکزی حکومت نے وادی کشمیر کی صورتحال سے صرف طاقت کے بل پر نمٹنے کا ذہن تیار کرلیا ہے تو اس سے حالات مزید ابتر بلکہ دھماکو ہوں گے۔ جیسا کہ وادی کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی ایم نے مرکز کو مشورہ دیا ہے کہ امن و سیاسی حل نکالنے کے لئے مرکزی حکومت کو پاکستان کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند لیڈروں سے غیر مشروط بات چیت شروع کرنی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے طویل و مختصر مدتی اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت سمجھا جارہا ہے۔ وادی کشمیر کے لئے مالیاتی پیاکجس کا اعلان کرکے مرکز اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتا ہے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔ بلکہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے تو اس کو بنیادی سطح پر نہایت ہی دیانتدارانہ جذبہ کے ساتھ حل کرنے کی جانب پہل کرنی چاہئے۔ مذاکرات کا عمل کئی مہینوں سے مسدود ہے، پاکستان کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کی دونوں کو کوشش کرنی چاہئے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایک طرف حکومت ہند نے پاکستان کے تعلق سے اپنے رویہ کو سخت کرلیا ہے تو دوسری طرف حکومت پاکستان بھی وادی کشمیر کی صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے اپنے سیاسی فوائد بٹورنے کوشاں ہے۔ کشمیر میں تشدد، احتجاج کو ہوا دینے کے الزامات کے درمیان اگر وزیراعظم پاکستان نواز شریف یہ خیال کرتے ہیں کہ وادی کشمیر کو پاک مقبوضہ کشمیر میں خم کرلینے کے وقت کا انتظار کررہے ہیں تو ان کی یہ سوچ کسی صورت امن و امان اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو دورکرنے میں معاون ثابت نہیں ہوگی۔ راجناتھ سنگھ نے دورہ کشمیر کے دوران وادی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطحی اجلاس بھی منعقد کیا اور سیاسی پارٹیوں کے وفود سے ملاقات کی۔ وفود کی رائے کو ملحوظ رکھا جائے تو حکومت ہند کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں تاخیر نہیں کرنی ہوگی۔ جہاں تک علیحدگی پسندوں کا تعلق ہے اس بارے میں مرکز کو سب سے پہلے وادی کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کی پالیسی اور سیاسی اقدامات کو وضع کرنے ہوں گے۔ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے وادی میں فوج کی بالادستی کے علاوہ سکیوریٹی فورسس کی اندھا دھند تعیناتی کا بھی مسئلہ اٹھایا۔ اس کی وجہ سے بھی پاکستان منفی رائے کے ساتھ عوام کو گمراہ کررہا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے اب تک کوئی سبق نہیں سیکھا گیا ہے تو کشمیر کی سڑکوں پر عوامی برہمی کے مظاہروں کو روکنے میں کامیابی نہیں ملے گی۔ ریاست کشمیر میں فوج کی بھاری تعداد کو ایک بڑی غلطی قرار دینے والے عمر عبداللہ نے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ناکامیوں کا حوالہ دیا جو وادی سے مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون کو ہٹانے میں ناکام ہوئے تھے۔ وادی کشمیر میں فوج کی موجودگی اور اس کے رول پر اب تک مختلف گوشوں سے رائے و تبصرے ہوتے رہے ہیں۔ جہاں تک کشمیر میں فوج کی بھاری تعداد میں تعیناتی کا سوال ہے اس پر اگر وادی کے عوام کا بھروسہ اور دل جیتنے میں کامیابی حاصل کی جائے تو پھر فوج کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ مگر فوج کی موجودگی اور اس کی کارروائیوں کے تعلق سے کشمیری عوام کی جو شکایت ہے اس کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فوج کی موجودگی اور اس کے اختیارات کے بارے میں ازسر نو غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔ برفیلی وادی سے محصور وادی کشمیر ایک امن و سکون کی جگہ ہونی چاہئے لیکن وہاں کے حالات سے نمٹنے میں ہونے والی سیاسی ناکامی کا خمیازہ وادی کے عوام ہی بھگت رہے ہیں۔ حکومت کو سب سے پہلے مسائل کے موجود ہونے کا تلخ اعتراف کرنے میں پس و پیش سے گریز کرنا ہوگا جس کے بعد ہی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ دیانتداری اور ایمانداری سے برتائو کرنے کی فکر پیدا ہوگی ورنہ ہر مسئلہ دن بہ دن مزید پیچیدہ اور مشکل ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT