Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / راجناتھ سنگھ کی اسلام آباد میں آمد، حافظ سعید کی دھمکیاں مسترد

راجناتھ سنگھ کی اسلام آباد میں آمد، حافظ سعید کی دھمکیاں مسترد

سارک کانفرنس میں دہشت گردی اور داؤد ابراہیم کا تذکرہ ممکن ، پاکستانی ہم منصب سے بات چیت کا امکان نہیں
اسلام آباد ۔ 3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سارک وزرائے داخلہ کی کل سے شروع ہونے والی کانفرنس میں شرکت کیلئے آج یہاں پہنچے۔ توقع ہیکہ وہ اس کانفرنس میں ہندوستان کو انتہائی شدت سے مطلوب دہشت گرد داؤد ابراہیم اور سرحدپار دہشت گردی جیسے مسائل کو موضوع بنائیں گے۔ ان کے زیرقیادت وفد میں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے اور وہ اس موقع پر جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان بامعنی تعاون کی ضرورت پر زور دیں گے۔ سارک وزرائے داخلہ کی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد کو روانگی سے قبل وزیرداخلہ نے کہا کہ وہ اس علاقہ میں دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف بامعنی تعاون کی اہمیت و افادیت پر زور دیں گے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’یہ کانفرنس سلامتی سے متعلق اہم مسائل پر گفت و شنید کا پلیٹ فام احیاء کرے گی‘‘۔ توقع ہیکہ راجناتھ سنگھ پاکستان سے کہیں گے کہ ہندوستان نے دہشت گردی کی سرپرستی کو روکا جائے اور لشکرطیبہ و جیش محمد جیسی تنظیموں پر قابو پایا جائے۔ سارک وزارتی کانفرنس میں شرکت کیلئے اپنی آمد کے خلاف پاکستان میں ملک گیر احتجاج کرنے لشکرطیبہ کے بانی حافظ سعید کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر راجناتھ سنگھ اسلام آباد کا دورہ کررہے ہیں

جہاں وہ کل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس دراصل آج منعقدہ سارک معتمدین داخلہ کے ساتویں اجلاس کا تسلسل ہے۔ مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہہ رشی نے جو ہندوستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں، گذشتہ روز یہاں پہنچے تھے۔ اس کانفرنس کے دوران راجناتھ سنگھ کی اپنے پاکستانی ہم منصب چودھری نثار علی خان سے باہمی بات چیت کا شاہد ہی کوئی امکان ہے کیونکہ حزب المجاہدین کے عسکریت پسند برہان وانی کے 8 جولائی کو جموں و کشمیر میں ہوئے انکاونٹر کے بعد ہند ۔ پاک تعلقات کشیدگی کے شکار ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے برہان وانی کی نہ صرف ستائش کی تھی بلکہ یہ ریمارک بھی کیا تھا کہ ’’کشمیر ایک دن پاکستان بن جائے گا‘‘۔ ان کے اس تبصرہ پر وزیرخارجہ سشماسوراج نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریاست ان (نواز شریف) کے ملک کا حصہ بننا ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اس کانفرنس میں دہشت گردی کے علاوہ ویزا کے فراخدلانہ نظام، منشیات اور دیگر نشیلی ادویات کے علاوہ آتشی اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنے اور ان لعنتوں سے نمٹنے کی مبسوط کوششوں میں تعاون جیسے موضوعات پر بھی گفت و شنید ہوگی۔ تین مرحلوں پر مشتمل یہ کانفرنس جوائنٹ سکریٹری کی سطح پر شروع ہوئی تھی اس کے بعد معتمدین داخلہ کا اجلاس ہوا اور کل وزرائے داخلہ کا اجلاس شروع ہوگا۔ اس اجلاس میں سارک کے رکن ممالک کی پولیس فورسیس کے مابین نیٹ ورکنگ کو مستحکم بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین معلومات کے تبادلوں میں اضافہ کی مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا تاکہ دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو کامیاب بنایا جاسکے۔ اس اجلاس میں علاقائی امن و سلامتی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ راجناتھ سنگھ امکان ہیکہ کانفرنس میں سرحدپارسے دہشت گردی اور گینگسٹر داؤد ابراہیم کی پاکستان میں مبینہ موجودگی کا تذکرہ بھی کریں گے۔
راجناتھ سنگھ کے دورہ کیخلاف پاکستان میں احتجاج
کشمیر کی صورتحال پر مذہبی و جہادی تنظیموں کے جلوس اور مظاہرے
اسلام آباد؍ لاہور ۔ 3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف پاکستان میں آج مختلف جہادی اور مذہبی تنظیموں کے 2000 سے زائد کارکنوں نے احتجاج کیا اور انہیں کشمیر میں بے چینی کیلئے موردالزام ٹھہرایا۔ راجناتھ سنگھ اسلام آباد میں پاکستان کے زیراہتمام جنوب ایشیائی تنظیم برائے علاقائی کی تعاون (سارک) کی وزارتی کانفرنس میں شرکت کیلئے یہ دورہ کررہے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس، حزب المجاہدین، متحدہ جہادی کونسل اور ایسے ہی دیگر گروپوں کے کارکنوں نے ان کے دورہ کی مذمت کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے۔ عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے لیڈر سید صلاح الدین نے جو یو جے سی کے سربراہ بھی ہیں، دیگر جہادی گروپوں کے مقامی لیڈروں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ کشمیری علحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک کی بیوی مشعل ملک نے نیشنل پریس کلب کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ ممبئی دہشت گرد حملوں کے اصل سازی سرغنہ حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید نے گذشتہ روز جماعت الدعوہ کے جلوس کی قیادت کی۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے چکوٹی علاقہ کے قریب لائن آف کنٹرول پر دھرنا دیا۔ جماعت الدعوہ کے بیان میں کہا گیا ہیکہ اس مقام سے اس وقت تک واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تاوقتیکہ ہندوستان ان کی طرف سے کشمیریوں کیلئے دیا جانے والا امدادی سازوسامان، خشک میوے اور ادویات قبول نہیں کرتا۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ احتجاج میں کئی ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کے ارکان بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈاکٹرس اور عملہ سرینگر پہنچ کر زخمی کشمیری بھائیوںکا علاج کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT