Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / راجیو گاندھی کے قاتلوں کو جیل سے رہا کردینے کا فیصلہ

راجیو گاندھی کے قاتلوں کو جیل سے رہا کردینے کا فیصلہ

حکومت ٹاملناڈو کی درخواست کا جائزہ لینے مرکزی وزیرداخلہ کا تیقن
نئی دہلی 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے آج یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ راجیو گاندھی قتل کیس کے 7 مجرمین کی باقیماندہ سزائے قید کو معاف کردینے سے متعلق حکومت ٹاملناڈو کے فیصلہ کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی اس کی دستوری ذمہ داری ہے۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت ٹاملناڈو سے ایک مکتوب کل وصول ہوا ہے جس کا ہم باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم میں دو ٹوک انداز میں یہ واضح کردیتا ہوں کہ ملزمین کے خلاف سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی تعمیل ہماری دستوری ذمہ داری ہے۔ حکومت ٹالناڈو نے کل یہ اعلان کیا تھا کہ راجیو گاندھی قتل کیس کے تمام 7 مجرموں کی سزائے عمر قید کو معاف کردینے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کی رہائی کے لئے مرکزی حکومت سے رائے طلب کی گئی ہے جس کے ایک دن بعد راجناتھ سنگھ نے یہ بیان دیا ہے۔ مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہارشی کو موسومہ ایک مکتوب میں ٹاملناڈو کے چیف سکریٹری مسٹر کے گنادیسکن (Gnanadeskan) نے بتایا کہ ریاستی حکومت کو 7 سزاء یافتہ قیدیوں سے ایک عرضی وصول ہوئی ہے جس میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ انھیں رہا کردیا جائے کیوں کہ وہ جیل میں 20 سال سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں۔ راجیو گاندھی قتل کیس میں سزا یافتہ مجرمین میں وی سریدھرن عرف مرگن، ستھندرا راجہ عرف منتھن، اے جی پیراری ویلن عرف ارویہ، جیہ کمار، رابرٹ پیاس، روی چندران اور نلنی شامل ہیں۔

سری پرمبدور ٹاملناڈو میں 21 مئی 1991 ء کو ایک انتخابی ریالی کے دوران سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کی سازش میں ان کے مبینہ رول پر ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا دی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے 2 ڈسمبر 2015 ء کو کہا تھا کہ مرکز کو یہ اختیار ہے کہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کرنے نہ کرنے کا فیصلہ کرے اور ریاستی حکومت کسی مخصوص وجوہات کے بغیر قیدیوں کی رہائی کیلئے اپنے اختیارات کو بروکار نہیں لاسکتی۔ دریں اثناء راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس، ریاستی حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ہم حکومت ٹاملناڈو کے اقدام سے اتفاق نہیں کرسکتے جبکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی متعدد تنظیموں کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور اس طرح کے اقدام کی حمایت کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ دریں اثناء راجیو گاندھی قتل کیس کے مجرمین کی رہائی کے فیصلہ پر آج لوک سبھا میں کانگریس اور انا ڈی ایم کے ارکان میں بحث و تکرار ہوئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس ارکان نے کہاکہ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل سے متعلق یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ لہذا حکومت ٹاملناڈو کو قیدیوں کی رہائی کے فیصلہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جس کے جواب میں انا ڈی ایم کے ارکان کانگریس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا جاسکتا ہے اور وقفہ صفر میں اسپیکر کی اجازت سے کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے مختصر خطاب میں حکومت ٹاملناڈو کے فیصلہ کو انتہائی بدبختانہ قرار دیا اور کہاکہ اگر خطرناک مجرمین کی رہائی کی منظوری دے دی گئی اور دیگر ریاستیں بھی اس طرح کا مطالبہ شروع کردیں گی اور مطالبہ کیاکہ قومی یکجہتی اور سالمیت کے مفاد میں اس طرح کے اقدام کی توثیق نہیں کی جاسکتی۔

TOPPOPULARRECENT