Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / راجیہ سبھا میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مفاہمت سے 3 بلز کی منظوری

راجیہ سبھا میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مفاہمت سے 3 بلز کی منظوری

مباحث نہ کروانے پر بائیں بازو کا واک آؤٹ، آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کا ریمارک

نئی دہلی ۔ 23 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں آج چند منٹوں کے اندر اندر 3 بلز کو منظور کلیا گیا جبکہ ایک بل تو معرض التواء قانون سازی کی تکمیل کیلئے کانگریس اور بی جے پی نے باہمی اشتراک و تعاون سے پیش کیا گیا لیکن بائیں بازو کی جماعتوں نے یہ الزام عائد کر تے ہوئے ا یوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ بغیر کسی مباحث کے بلز کی منظوری کیلئے اے ٹیم اور بی ٹیم نے خفیہ مفاہمت کرلی تھی۔ راجیہ سبھا میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے دوران بغیر کسی مباحث کے اندرون چند منٹ یہ بلز منظور کرلئے گئے جس میں کمرشیل کورٹس ، کمرشیل ڈیویژن اینڈ کمرشیل رپیلیٹ ڈیویژن آف ہائیکورٹ بلز 2015 ، ثالثی اور مصالحتی ایکٹ (ترمیم) بل 2015 ، ایٹمی توانائی (ترمیم) بل 2015 ء شامل ہیں۔ پہلے دو بلز کا مقصد منتخبہ ہائیکورٹس میں کمرشیل برانچ کی تشکیل اور اعلیٰ سطحی کاروبار کے تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے ثالثی سے متعلق قانون میں ترمیم اور ایٹمی شعبہ میں دیگر عوامی شعبہ کے اداروں کے ساتھ تعاون حاصل کرنے نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمٹیڈ کو اجازت دینے ایٹمی توانائی بل منظور کیا گیا ہے ۔ یہ بل لوک سبھا میں 14 ڈسمبر کو منظور کرلیا گیا تھا ۔ علاوہ ازیں وہ وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے راجندرا سنٹرل اگریکلچر یونیورسٹی بل 2015 ء پیش کیا تاکہ پوسہ (بہار) میں واقع زرعی یونیورسٹی کو سنٹرل یونیورسٹی میں تبدیل کیا جاسکے۔ تاہم بغیر کسی مباحث کے بلوں کی منظوری پر اعتراض کرتے ہوئے مسٹر ڈی راجہ (سی پی آئی) نے کہاکہ جس طریقہ سے بلوں کی جلد بازی میں منظوری دی گئی ہے ۔

 

اس سے ایک غلط نظیر قائم ہوجائے گی ۔ مسٹر کے این بالا گوپال (سی پی ایم) نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی ، اے ٹیم اور بی ٹیم کی طرح کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایوان میں بلز پر مباحث کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن سکھیندر شیکھر رائے نے بھی ڈی راجہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا اور کہا کہ منظورہ بلوں بالخصوص ایٹمی توانائی بل میں بعض بنیادی مسائل پائے جاتے ہیں۔ مسٹر ڈی راجہ جو کہ پارلیمانی کمیٹی کے رکن ہیں، کمرشیل کورٹس بل کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ کوئی اتفاق رائے نہیں پایا گیا اور غریبوں کیلئے انصاف رسانی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ تاہم نائب صدر نشین راجیہ سبھا مسٹر پی جے کورین نے کہا کہ بغیر مباحث کے بعض بلوں کی منظوری ایک مجبوری ہے کیونکہ ایوان کی کارروائی کو مناسب طریقہ سے چلنے نہیں دیا گیا ہے ۔ دریں اثناء سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی میں اس طرح کی مفاہمت کو حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا اور ریمارک کیا کہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہوگیا۔ اگر تم لوگ آپس میں سازباز کرلیں گے تو ہماری ضرورت باقی نہیں رہے گی لہذا تمام بائیںبازو ارکان کو واک آؤٹ کی ا ج ازت دیدی ہے۔ اپوزیشن نے شوگر سیس (ترمیمی) بل 2015 کی بھی مخالفت کی جس میں فی کنٹل نیشکر کی فروخت پر سیس (محصول) کو 25 روپئے سے 200 روپئے تک اضافہ کردیا گیا ہے  جبکہ پارلیمنٹ میں فیکٹری ورکرس کیلئے بونس میں اضافہ سے متعلق بل کی منظوری دیدی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT