Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے سیاسی سرگرمیاں تیز

راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے سیاسی سرگرمیاں تیز

تلنگانہ 2 اور آندھرا میں4 نشستیںمخلوعہ ،شیڈول جاری ، ڈی سرینواس اہم دعویدار
حیدرآباد۔/12مئی، ( سیاست نیوز) ملک میں 57 راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے انتخابی شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ آئندہ ماہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے علی الترتیب 2 اور4 ارکان راجیہ سبھا کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق 24 مئی کو 57نشستوں کیلئے اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ 31مئی تک نامزدگیاں قبول کی جائیں گی اور 11جون کو رائے دہی ہوگی۔ تلنگانہ سے جن 2 راجیہ سبھا ارکان کی میعاد ختم ہورہی ہے ان میں جی سدھارانی ( تلگودیشم ) اور وی ہنمنت راؤ ( کانگریس) شامل ہیں۔ آندھرا پردیش سے میعاد مکمل کرنے والوں میں نرملا سیتارامن، جے ڈی سیلم، سوجنا چودھری اور جئے رام رمیش شامل ہیں۔ 57راجیہ سبھا ارکان کی میعاد 21جون کو ختم ہوگی۔ جن دیگر ارکان کی میعاد ختم ہورہی ہے ان میں ایم وینکیا نائیڈو، پیوش گوئل، سریش پربھو، رام جیٹھ ملانی، مختار عباس نقوی، آنند شرما، کے سی تیاگی، شرد یادو، آسکر فرنانڈیز اور امبیکا سونی جیسے اہم قائدین شامل ہیں۔ تلنگانہ سے 2اور آندھرا پردیش سے 4 نشستوں کے علاوہ چھتیس گڑھ 2 ، مدھیہ پردیش 3 ، ٹاملناڈو 6 ، کرناٹک 4 ، اڈیشہ 3 ، مہاراشٹرا 6 ، پنجاب 2 ، راجستھان 4 ، اترپردیش 11، اتراکھنڈ 1، بہار 5 ، جھارکھنڈ 2  اور ہریانہ کی 2 نشستوں کیلئے انتخابات ہوں گے۔ تلنگانہ کی دو نشستوں کیلئے برسر اقتدار پارٹی میں زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ کئی اہم قائدین نے راجیہ سبھا کی نشست کیلئے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سابق صدر پردیش کانگریس ڈی سرینواس اس عہدہ کے  اہم دعویدار ہیں۔ ان کے علاوہ بعض سابق ارکان پارلیمنٹ اور سابق وزراء جو تلگودیشم اور کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ان کی نظریں بھی اس نشست پر ہیں۔ کانگریس کے وی ہنمنت راؤ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹی آر ایس ان کی امیدواری کی تائید کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کی تائید کے عوض میں ہنمنت راؤ کے سی آر سے ان کی تائید کی اپیل کررہے ہیں۔ کانگریس کے پاس راجیہ سبھا کیلئے امیدوار منتخب کرانے کیلئے درکار ارکان موجود نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ہنمنت راؤ کی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ دونوں  نشستوں پر ٹی آر ایس امیدواروں کے انتخاب کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری طرف آندھرا پردیش میں وینکیا نائیڈو اور نرملا سیتا رامن کیلئے دوبارہ انتخاب کی راہ میں دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ دونوں کا تعلق بی جے پی سے ہے اور وہ مرکزی وزارت میں شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر دونوں مرکزی وزراء کے منفی رول کے پیش نظر تلگودیشم پارٹی دونوں کی تائید کیلئے تیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت اس مسئلہ پر چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو سے ربط میں ہے۔ آندھرا پردیش میں وزراء، عوامی نمائندے اور تلگودیشم قائدین بی جے پی کو 2 راجیہ سبھا نشستیں الاٹ کرنے کی مخالفت کررہے ہیں تاکہ 4 نشستوں پر تلگودیشم امیدوار منتخب ہوسکیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اپنی عددی طاقت کے اعتبار سے ایک امیدوار کو منتخب کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی طرح آندھرا پردیش کے وینکیا نائیڈو کے دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT