Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا کی کارروائی عملا پھر مفلوج ‘ کانگریس ارکان کی ہنگامہ آرائی

راجیہ سبھا کی کارروائی عملا پھر مفلوج ‘ کانگریس ارکان کی ہنگامہ آرائی

حکومت کے ’ آمرانہ ‘ طرز عمل پر تنقید ۔ انسداد کرپشن قانون میں ترامیم کا بل پیش کرنے حکومت کی کوشش پر اعتراض

نئی دہلی 6 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کی کارروائی آج ایک بار پھر عملا مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ اپوزیشن کانگریس کے ارکان نے لوک سبھا سے اپنے 25 ساتھی ارکان کی معطلی کے خلاف ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی کی جبکہ حکومت نے انسداد کرپشن قانون میں ترامیم کا بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ آج صبح جیسے ہی ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا ہنگامہ کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ نعرہ بازی کرتے ہوئے کانگریس کے ارکان ‘ ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور انہوں نے حکومت کے آمرانہ طرز عمل کے خلاف نعرے لگائے ۔ اس ہنگامہ کی وجہ سے لنچ سے قبل ایوان کی کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کردینا پڑا ۔ بالاخر دن میں دو بجے کے چند منٹ بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ 21 جولائی کو مانسون سشن کے آغاز کے بعد سے راجیہ سبھا میں عملا کوئی کام نہیں ہوسکا ہے ۔ کانگریس نے حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کو شدت سے جاری رکھا ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔ کانگریس کی جانب سے پارلیمنٹ کے کامپلکس میں دھرنا بھی منظم کیا جارہا ہے ۔

لوک سبھا سے اس کے ارکان کی معطلی کے بعد سے یہ دھرنا جاری ہے ۔ اسپیکر لوک سبھا نے پیر کو کانگریس کے 25 ارکان کو پانچ دن کیلئے معطل کردیا تھا ۔ لنچ سے قبل دو مرتبہ کے التوا کے بعد جب راجیہ سبھا کی کارروائی کا آج آعاز ہوا نائب صدر نشین پی جے کورین نے منسٹر آف اسٹیٹ پرسونل جتیندر سنگھ سے کہا کہ کو انسداد کرپشن قانون میں ترامیم کا بل پیش کریں ۔ کانگریس کے ارکان پہلے ہی ایوان کے وسط میں پہونچ چکے تھے اور انہوں نے حکومت کے آمرانہ طرز عمل کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ یہ رویہ نہیں چل سکتا ۔ منسٹر آف اسٹیٹ کی جانب سے بل کی پیشکشی کے دوران حکومت نے کہا کہ وہ سرکاری کام کاج میں مزید شفافیت لانے یہ بل پیش کرنا چاہتی ہے تاہم کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے اعتراض کیا ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب ایوان میں کوئی نظم ہی نہیں ہے تو پھر بل کس طرح پیش کیا جاسکتا ۔ اس موقع پر منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے برہمی سے سوال کیا آخر وہ چاہتے کیا ہیں ؟ ۔ کیا وہ ایوان میں مباحث نہیں چاہتے ۔

کیا وہ صرف ہنگامہ آرائی کرنا چاہتے ہیں ؟ ۔ اس ہنگامہ سے قطع نظر وزیر موصوف نے بل پیشکرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حکومت کا ادعا ہے کہ وہ اس بل کے ذریعہ حکمرانی کے عمل میں مزید شفافیت لانا چاہتی ہے ۔ایوان بالا میں یہ بل پیش کرنے کی حکومت کی یہ دوسری کوشش تھی ۔ کل بھی مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈی نے ایوان میں غور اور منظوری کیلئے یہ بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ کانگریس کے ارکان نے بل کی پیشکشی پر شدید اعتراض کیا اور نہیں نہیں کے نعرے لگائے ۔ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی اس شور شرابہ میں کانگریس ارکان کی حمایت کی ۔ اس ہنگامہ اور گڑ بڑ کے نتیجہ میں کرسی صدارت کی جانب سے ایوان کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ آج صبح بھی کارروائی کے آغاز پر کانگریس ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو لنچ سے قبل ہی دو مرتبہ کیلئے ملتوی کرنا پڑا تھا ۔ ایوان میں اس شور شرابہ کی وجہ سے کوئی کام کاج نہیں ہوسکا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT