Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا کی 57 نشستوں کیلئے انتخابی تیاریاں ، تلنگانہ 2 ، آندھرا کے 4 نشستیں شامل

راجیہ سبھا کی 57 نشستوں کیلئے انتخابی تیاریاں ، تلنگانہ 2 ، آندھرا کے 4 نشستیں شامل

کانگریس کے وی ہنمنت راؤ دوبارہ انتخاب کیلئے کوشاں ، آندھرا میں جئے رام رمیش اور جے ڈی سیلم کا دوبارہ انتخاب موہوم
حیدرآباد۔/17مئی،  ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے ساتھ ملک کی دیگر ریاستوں میں راجیہ سبھا کی 57نشستوں کیلئے انتخابی تیاریاں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کے انتخاب کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ 15ریاستوں کے 55 راجیہ سبھا ارکان کی میعاد آئندہ ماہ ختم ہوگی۔ 2 ارکان آنند شرما اور وجئے مالیا نے راجیہ سبھا کی نشستوں سے استعفی دے دیا۔ اس طرح جملہ 57 نشستوں کیلئے انتخابات ہوں گے۔ اتر پردیش سے 11، مہاراشٹرا 6 ، ٹاملناڈو سے 6، بہار 5 ، آندھرا پردیش 4، کرناٹک 4، راجستھان 4، مدھیہ پردیش 3 ، اوڈیشہ 3 ، تلنگانہ 2 ، چھتیس گڑھ 2، پنجاب 2 ، جھارکھنڈ 2 ، ہریانہ 2  اور اترا کھنڈ میں ایک نشست کیلئے انتخاب ہوگا۔ جن اہم شخصیتوں کی میعاد ختم ہورہی ہے ان میں 6مرکزی وزراء ہیں۔ آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا کیلئے نمائندگی کرنے والے مرکزی وزراء نرملا سیتا رامن اور سوجنا چودھری کی میعاد 21جون کو ختم ہوگی۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو 30 جون کو راجیہ سبھا کی رکنیت سے سبکدوش ہوں گے۔ مہاراشٹرا سے منتخب مرکزی وزیر پیوش گوئل، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی 4 جولائی کو راجیہ سبھا سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ ہریانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر ویریندر سنگھ، وزیر ریلویز سریش پربھو کی میعاد یکم اگسٹ کو ختم ہوگی۔ سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش، جے ڈی یو کے قائد شرد یادو، بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ممتازقانون داں رام جیٹھ ملانی سبکدوش ہونے والی اہم شخصیتوں میں شامل ہیں۔ تلنگانہ سے راجیہ سبھا کے ارکان گنڈو سدھا رانی اور وی ہنمنت راؤ کی میعاد 21جون کو ختم ہوگی۔ ان دونوں نشستوں پر ٹی آر ایس کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔ راجیہ سبھا میں سیاسی جماعتوں کی عددی طاقت کے اعتبار سے 57نشستوں میں کانگریس کے 16، بی جے پی 13، بی ایس پی6 ، جے ڈی یو 5 ، انا ڈی ایم کے 3 ، سماجوادی پارٹی 3 ، بی جے ڈی 3 ، ڈی ایم کے 2 ، تلگودیشم 2 ، این سی پی 2 اور اکالی دل اور شیوسینا کے ایک ، ایک رکن شامل ہیں۔ آئندہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز تک نئے ارکان راجیہ سبھا میں منتخب ہوکر آجائیں گے۔ میعاد ختم کرنے والے بعض ارکان کا دوبارہ انتخاب یقینی ہے۔

57نشستوں کیلئے انتخابات سے راجیہ سبھا میں سیاسی جماعتوں کے موجودہ موقف میں کسی خاص تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ موجودہ ارکان کے اعتبار سے کانگریس پارٹی 61 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کا موقف رکھتی ہے۔ 57 نشستوں کے انتخابات میں اسے کسی خاص نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک نشست سے محروم ہوسکتی ہے اور 15ارکان منتخب ہوں گے۔ اس طرح راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان کی تعداد 60ہوجائے گی اور وہ بڑی پارٹی کی حیثیت سے برقرار رہے گی۔ بی جے پی جسے راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے اس کے موجودہ ارکان کی تعداد 49 ہے جس میں 14کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے مزید 3نشستوں کے اضافہ کا یقین ہے۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا پراوین راشٹر پال کا حالیہ دنوں انتقال ہوگیا اور ان کی خالی نشست پر بی جے پی کی کامیابی کا امکان ہے۔ اس طرح راجیہ سبھا میں بی جے پی کے موجودہ ارکان کی تعداد 49 سے بڑھ کر 53ہوسکتی ہے اس کے باوجود بھی کانگریس زیر قیادت اپوزیشن کا راجیہ سبھا پر غلبہ برقرار رہے گا۔

مرکزی وزیر شہری ترقیات و پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو کرناٹک سے منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں دوبارہ منتخب کرنے کیلئے آندھرا پردیش کی تلگودیشم حکومت کو منانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وینکیا نائیڈو کی کامیابی کیلئے تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد ناگزیر ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ آندھرا پردیش کی 4نشستوں میں تلگودیشم 2نشستوں پر وینکیا نائیڈو اور نرملا سیتا رامن کے انتخاب کو یقینی بنائے۔ دوسری طرف آندھرا پردیش میں کانگریس پارٹی کا ایک بھی رکن اسمبلی نہیں ہے جس کے سبب آندھرا پردیش سے سبکدوش ہونے والے کانگریسی ارکان جئے رام رمیش اور جے ڈی سیلم کیلئے دوبارہ انتخاب کا راستہ بند ہوچکا ہے۔ تلنگانہ سے سبکدوش ہونے والے کانگریس کے وی ہنمنت راؤ دوبارہ انتخاب کیلئے کوشاں ہیں لیکن کانگریس کی عددی طاقت کے اعتبار سے ان کے انتخاب کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ اتر پردیش کی 11نشستوں میں زیادہ تر نشستیں برسراقتدار سماجوادی پارٹی کے حصہ میں جاسکتی ہیں۔ موجودہ بی ایس پی کے 6ارکان راجیہ سبھا سبکدوش ہورہے ہیں جن میں سے بی ایس پی صرف 2نشستوں کو دوبارہ حاصل کرسکتی ہے باقی 4میں سے 2پر سماجوادی پارٹی اور کانگریس و بی جے پی ایک، ایک نشستوں کو حاصل کرسکتی ہیں۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اتر پردیش سے راجیہ سبھا کیلئے دوبارہ منتخب کئے جاسکتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں خالی ہونے والی 6نشستوں میں اکثریتی نشستیں بی جے پی کے حصہ میں جاسکتی ہیں۔ ایوان میں بی جے پی اور شیوسینا اتحاد کو اکثریت ہے۔ مرکزی وزیر برقی پیوش گوئل کے مہاراشٹرا سے دوبارہ انتخاب کا امکان ہے۔ بہار میں 5 جے ڈی یو ارکان راجیہ سبھا ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ خالی نشستوں میں جے ڈی یو صرف 2 نشستوں کو حاصل کرسکتی ہے۔ آر جے ڈی 2 اور باقی ایک نشست بی جے پی کو حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT