Sunday , October 22 2017
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا کے رول پر ارون جیٹلی کے ریمارکس بدبختانہ

راجیہ سبھا کے رول پر ارون جیٹلی کے ریمارکس بدبختانہ

پارلیمنٹ اور دستورہند کی دوبارہ تشریح کی اجازت نہیں دی جائے گی ، کانگریس کا ردعمل

نئی دہلی ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈہ کو روکنے میں راجیہ سبھا کے رول سے متعلق وزیرفینانس ارون جیٹلی کے ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا اور یہ اصرار بھی کیا کہ پارلیمنٹ اور دستور کی دوبارہ تشریح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیرفینانس کو اپنا بیان واپس لیتے ہوئے ان ریمارکس پر معذرت حواہی کرنا چاہئے۔ ہم کسی بھی صورت میں ہندوستانی دستور اور پارلیمنٹ کی دوبارہ تشریح کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔ وزیرفینانس نے گذشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس بات پر بحث کا وقت آ گیا ہے کہ بالواسطہ طور پر منتخب ایوان (راجیہ سبھا) آیا راست طور پر منتخب ایوان (لوک سبھا) کی طرف سے منظورہ اصلاحات کو روک سکتا ہے۔ للت مودی تنازعہ، ویاپم اسکام اور دیگر مسائل پر اپوزیشن کے شوروغل کے سبب بالکل مفلوج رہنے والے حالیہ مختتم مانسون سیشن میں نریندر مودی حکومت راجیہ سبھا میں جی ایس ٹی مسودہ قانون کی منظوری میں ناکامی ہوئی تھی، جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے یہ ریمارکس کئے ہیں۔ تاہم کانگریس نے ان کے ریمارکس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ آنند شرما نے راجیہ سبھا کو ’’ایوانِ اول‘‘ قرار دیا۔ آنند شرما نے جو راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر بھی ہیں، کہا کہ جیٹلی کو یہ حقیقت محسوس کرنا چاہئے کہ وہ خود نہ صرف اس کے رکن ہیں بلکہ قائد ایوان بھی ہیں۔ شرما نے کہا کہ ’’حکومت کا ارادہ یہی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ تصادم اختیار کیا جائے۔ اس (حکومت) کے پاس دستوری ضابطوں اور قانون سازی کی روایات کا پاس و لحاظ نہیں ہے۔ اہم قوانین کو ’’ربر اسٹامپ‘‘ نہیں بنایا جاسکتا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT