Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / رامناتھ کووند 14 ویں صدرجمہوریہ منتخب

رامناتھ کووند 14 ویں صدرجمہوریہ منتخب

اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار کو شکست ۔ 71 سالہ کووند (65.65 فیصد ووٹ) جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے والے بی جے پی کے اولین رکن

نئی دہلی۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے کے امیدوار رامناتھ کووند آج ہندوستان کے 14 ویں صدرجمہوریہ منتخب ہوگئے۔ انہیں ملک کے ارکان مقننہ کے ووٹوں کی بڑی تعداد حاصل ہوئی۔ کووند نے اپوزیشن کی متفقہ امیدوار سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار کو شکست دیتے ہوئے الیکٹورل کالج کے 65.65% ووٹ حاصل کرلئے۔ ریٹرننگ آفیسر نے آج اعلان کیا کہ 71 سالہ سابق گورنر بہار رامناتھ کووند ملک کے دوسرے دلت صدر ہوں گے۔ انہیں 7 لاکھ 2 ہزار 44 کی قدر کے 2,930 ووٹ حاصل ہوئے۔ وہ اولین بی جے پی رکن بھی ہیں جنہیں صدر منتخب کیا گیا ہے۔ میرا کمار بھی دلت ہیں جنہیں 1,844 ووٹ حاصل ہوئے جن کی قدر 3 لاکھ 67 ہزار 314 ہے۔ الیکٹورل کالج ، ارکان پارلیمنٹ اور تمام ریاستوں کے ارکان اسمبلی پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں کراس ووٹنگ بھی دیکھی گئی۔ اپوزیشن کے کئی ارکان نے کووند کو ووٹ دیا۔ تاہم جیت کا فرق اتنا بڑا نہیں جتنا بی جے پی کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا تھا، جس نے کووند کے حق میں 70 فیصد ووٹ درج ہونے کی پیش قیاسی کی تھی۔ سبکدوش ہونے والے صدر پرنب مکرجی کو 7,13,763 قدر کے حامل ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ درحقیقت کووند کا ووٹنگ تناسب 1974ء کے بعد سب سے کم درج ہوا ہے۔ بہرحال کووند کی کامیابی حوصلہ افزاء ہے، جنھوں نے کہا: ’’میں نے کبھی صدرجمہوریہ بننے کی تمنا نہیں کی تھی۔ میری جیت اپنے فرائض اخلاص کے ساتھ انجام دینے والوں کیلئے ایک پیام ہے۔ میرا صدرجمہوریہ کی حیثیت سے انتخاب ہندوستانی جمہوریت کی عظمت کا ثبوت ہے۔‘‘ نائب صدر کا الیکشن 5 اگست کو مقرر ہے۔ این ڈی اے نے سابق صدر بی جے پی وینکیا نائیڈو کو نامزد کیا ، جبکہ اپوزیشن نے سابق گورنر مغربی بنگال گوپال کرشن گاندھی کو امیدوار بنایا ہے۔

صدر منتخب کووند کو مکرجی، مودی و دیگر کی مبارکباد
کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ صدرجمہوریہ بن جائینگے، اہلیہ سویتا کا بیان
نئی دہلی ، 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج رامناتھ کووند کو صدارتی انتخاب میں اُن کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ اُن کے جانشین ملک کی جمہوریت اور خوشحالی کی راہ پر قیادت کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے الیکٹورل کالج سے کووند کو زبردست تائید حاصل ہونے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’شری رامناتھ کووند جی صدرجمہوریہ ہند منتخب ہونے پر مبارکباد قبول کیجئے! ثمرآور و پُرجوش میعاد کیلئے نیک تمنائیں پیش ہیں۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی، نائب صدر پارٹی راہول گاندھی، بائیں بازو جماعتوں و دیگر پارٹیوں نے بھی کووند کو مبارکباد پیش کی ہے۔ اس دوران مختلف ریاستوں کے گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے بھی صدر منتخب کو مبارکبادی پیامات موصول ہورہے ہیں۔ جہاں تک خود صدر منتخب کی فیملی کا تعلق ہے، اُن کی شریک حیات سویتا کووند نے انتخابی نتیجہ کے اعلان کے فوری بعد خوشی کے ساتھ کہا کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اُن کے شوہر صدرجمہوریہ بن جائیں گے۔ دختر سواتی کووند بھی مسرت کے جذبات سے مغلوب ہے اور انھیں اپنے والد پر فخر ہے۔

صدر منتخب کووند کو یو پی سے زیادہ ووٹ، کیرالا سے اقل ترین
رامناتھ کووند کو یو پی سے اعظم ترین ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بڑی ریاستوں میں ٹی ایم سی حکمرانی والی مغربی بنگال میں انھیں اقل ترین حمایت ملی مگر وہ میرا کمار کے مقابل آسانی سے کامیاب ہوئے۔ صدارتی الیکشن کے ریٹرننگ آفیسر کے فراہم کردہ ڈاٹا کے مطابق میرا کمار کو کبھی کانگریس کا گڑھ رہے آندھرا پردیش سے کوئی ووٹ نہ ملا اور کووند کو کیرالا سے محض ایک ووٹ حاصل ہوا۔

صدارتی انتخاب : 21 ایم پیز کے ووٹ مسترد
نئی دہلی ، 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدارتی انتخاب کی رائے شماری کے دوران آج جملہ 77 ووٹوں کو غیرکارکرد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا اور اس فہرست میں سب سے نمایاں پارلیمنٹیرینس ہیں۔ ریٹرننگ آفیسر کے ڈاٹا کے مطابق مسترد ووٹوں میں سے 21 ووٹ ارکان پارلیمنٹ نے ڈالے تھے جو غیردرست پائے گئے۔ مغربی بنگال اسمبلی سے سب سے زیادہ 10 ووٹ غیردرست پائے گئے ۔ مسترد ووٹوں کی جملہ قدر 20,942 شمار ہوئی ہے۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT