Tuesday , September 19 2017
Home / مضامین / رام مندر ، بی جے پی اور یو پی الیکشن!

رام مندر ، بی جے پی اور یو پی الیکشن!

مولانا اسرار الحق قاسمی
مرکز میں این ڈی اے حکومت قائم ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا اور اس پوری مدت میں یہ صاف ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے جن ایشوز اور وعدوں پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی  ،ان وعدوں کو پورا کرنے میں وہ لگاتار ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ نہ تو مہنگائی کا مسئلہ ختم ہوا ہے ، نہ نوجوانوں کو روزگار ملا ہے اور نہ ہی دیگر شعبوں میں بہتری کے کوئی آثار نظر آرہے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے وزراء و ممبران دعوے تو ہزار کرتے رہیں مگر حقیقت تو یہی ہے کہ ملک کے عوان اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں ۔ انھیں شدت سے یہ احساس ہورہا ہے کہ بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں ان کے جذبات کا استحصال کیا اور جھوٹے وعدے کرکے ان کے ووٹ حاصل کرلئے تھے ۔ کامیابی حاصل کرنے اور حکومت بنانے کے بعد بی جے پی کے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ ملک کی تعمیر و خوشحالی کے لئے سنجیدہ کوششیں کرتی اور ان وعدوں کو پورا کرنے کی سمت میں قدم بڑھاتی جو اس نے لوک سبھا الیکشن میں عوام سے کئے تھے ، مگر اس کے برخلاف دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ عمل کے بجائے صرف پروپگنڈہ کا حربہ اختیار کیا گیا اور دوسری جانب بی جے پی کے وزراء سمیت لیڈران نے بھی بے تکی اور زہریلی بیان بازیوں کے ذریعہ عوام کا رخ اصل مسائل سے پھیر کر مذہبی تفرقوں کی جانب موڑنے کی کوشش کی ، جس کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران متعدد نہایت ہی شرمناک واقعات رونما ہوئے ، جن میں اکثریت کے ظلم و زیادتی نے اقلیت کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا ، کئی جانیں ناحق ضائع ہوئیں ۔ وزیراعظم اپنی ساری توانائی بیرونی دوروں پر صرف کرتے رہے اور اندرون ملک صورت حال خطرناک سے خطرناک ہوتی گئی ۔ وہ باہری ملکوں میں ہندوستان کے فضائل اور اس کی عظمت کے قصیدے پڑھتے رہے مگر یہاں ان کے لیڈران مسلمانوں کے خلاف سرعام زہر افشانیاں کرتے رہے ، انھیں پاکستان بھیجنے کی باتیں کرتے رہے ، کبھی گائے کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ، کبھی لوجہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ، کبھی دہشت گردی کے روایتی الزام میں مسلمانوں کو کہیں سے بھی اٹھانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ اگر کسی نے بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر آواز اٹھائی تو اسے چاروں طرف سے گھیرا گیا ، اسے ذلیل کیا گیا اور اس پر غدار وطن کا الزام لگایا گیا ۔
ملک میں یہ ساری فضا اپنے عروج پر تھی تبھی نومبر 2015ء میں بہار اسمبلی کے انتخابات ہوئے اس میں بھی بی جے پی نے خالص فرقہ وارانہ ماحول سازی کی کوشش کی اور بہاری عوام کو جھانسے میں ڈالنے کے لئے اس نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ، مگر عوام آخر کب تک اس کے فریب میں رہتے اور ان کے جھوٹے وعدوں پر کب تک اعتبار کرتے ، چنانچہ بی جے پی کو بہار میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہاں کے عوام نے سیکولر جماعتوں کے عظیم اتحاد کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ اب اگلے سال یوپی اور دیگر کئی صوبوں کے اسمبلی الیکشن کے دن قریب آرہے ہیں ، تو بی جے پی نے اپنے لوگوں کو پھر اس کام پر لگادیا ہے کہ وہ ابھی سے ماحول سازی میں مصروف ہوجائیں ۔ یو پی میں بی جے پی کے لئے سب سے نفع بخش رام مندر کا ایشو ہے ،

کارسیوکوں کے ذریعہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے لے کر اب تک بی جے پی اس مسئلے پر صرف سیاسی روٹی سینکتی آئی ہے ، اس کا مقصد ہی بس یہ ہے کہ رام مندر کو ایک انتخابی موضوع کے طورپر زندہ رکھا جائے اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے ، بہت سے بی جے پی لیڈران تو باقاعدہ اور علی اعلان یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ رام مندر کو انتخابی ایشو ہونا چاہئے ، کیونکہ ہندوستان کے ہندو عوام رام مندر بنانا چاہتے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں ساکشی مہاراج نے رام مندر بنانے کی بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہاں کے مسلمان بھی اس کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ ساریہ ہندوستانی مسلمانوں کا ڈی این اے ہندو ہے ۔ رام مندر کے موضوع کو سرخی بلکہ شہ سرخی میں لانے کے لئے بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر سبرامنیم سوامی نے دہلی یونیورسٹی میں رام مندر کے موضوع پر سمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس کی مخالفت میں طلبہ یونینوں نے مظاہرے بھی کئے اور انھوں نے یونیورسٹی کے کیمپس میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا مگر یہ سمینار منعقد ہوا ، جس میں سبرامنیم سوامی نے باقاعدہ تاریخ کا تعین کرتے ہوئے کہا 2016 کے دسمبر تک سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے گا

اور بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر ضرور تعمیر کیا جائے گا ۔ پھر اتوار کو انھوں نے ٹوئٹ کرکے لکھا کہ ’’بھگوان کرشن کے پیکج کی طرح ہم ہندو ملک کے مسلمانوں کو ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ ہمیں تین مندر دے دیں اور 39997 مساجد اپنے پاس رکھیں ، مجھے امید ہے کہ مسلم رہنما دریودھن نہیں بنیں گے‘‘ ۔ سبرامنیم سوامی دہلی یونیورسٹی میں رام مندر پر سمینار کرکے اور اس کے بعد سوشیل سائنس پر بے تکی باتیں کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟ یہ بات تو کھل کر سامنے آچکی ہے کہ تاریخی اعتبار سے بابری مسجد کا رام جنم بھومی ہونا ناقابل اعتبار ہے ، اس پر نہ جانے کتنی تحقیقیں ہوگئی ہیں ، کتنی رپورٹیںآچکی ہیں اور کتنا لکھا جاچکا ہے ، دوسری بات یہ کہ بابری مسجد ۔ رام مندر کا یہ تنازع 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کئے جانے کے بعد سے عدالت عظمی میں ہے اور کورٹ نے ابھی تو اس مقدمے کی سماعت بھی شروع نہیں کی تو سوامی یا کسی بھی شخص کے لئے یہ کس طرح مناسب ہوسکتا ہے کہ وہ سر عام یہ اعلان کرتا پھرے کہ فلاں سال اور فلاں مہینے میں رام مندر بنایا جائے گا ۔ اس طرح کی باتیں کرنے سے صرف اور صرف ملک کی سلامتی مخدوش ہوگی ، فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگا ، فسادات کے نئے سلسلے شروع ہوں گے اور مظالم کا نیا دور شروع کیا جائے گا ۔ ملک کے عوام تو سوامی جیسے زہر افشاں لیڈروں کی باتوں میں آجائیںگے اور آپس میں بھڑجائیں گے ، مگر جب پیچھے مڑکر دیکھیں گے تو نقصان ان ہی کا ہوگا ، ہندوستان کا ہوگا اور ہندوستانیوں کا ہوگا ۔ بی جے پی یا بی جے پی کے لیڈران اصل میں یو پی الیکشن کے لئے زمین ہموار کرنا چاہتے ہیں ، انھیں ڈر ہے کہ جو حشر بہار الیکشن میں ہوا اگر وہی حشر اگلے سال یو پی میں ہوجائے تو نریندر مودی اور بی جے پی کی فرضی حصولیابیوں کے غبارے کی ساری ہوا نکل جائے گی ، اس لئے بڑی دور اندیشی کے ساتھ ابھی سے ماجول تیار کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ سبرامنیم سوامی کو بی جے پی کی مکمل حمایت حاصل ہے وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں اور کچھ بھی بول سکتے ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ رام مندر کے سلسلے میں میری ہر کوشش کی میری پارٹی سراہنا کرتی ہے  ،اس کا مطلب صاف ہے کہ بی جے پی کی جانب سے نہایت ہی منظم طور پر رام مندر کے معاملے کو گرمایا جارہا ہے ۔

اس طرح کی حرکت کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکومت حالیہ دنوں میں ڈی ڈی سی اے گھوٹالے کے سلسلے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر لگنے والے الزامات ، پٹھان کوٹ آپریشن سے کماحقہ نمٹنے میں ناکامی ، مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ پھیرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی کا تجربہ ہے کہ مذہب ، مندر اور مسجد کے نام پر وہ عوام کو بآسانی گمراہ کرسکتی ہے اور لوگ بھی اتنے بھولے ہیں کہ وہ اپنے انجام کی پروا کئے بغیر اس کی ہمنوائی پر آمادہ ہوجائیں گے ، اس لئے وہ خالص مذہبی بنیادوں پر تفریق ، نفرت اور باہمی عداوت کے جذبات کو بھڑکانے میں مصروف ہوچکی ہے ۔ بابری مسجد اور رام مندر کا معاملہ جب سپریم کورٹ میں ہے اور ابھی اس سلسلے میں کوئی اقدام بھی سامنے نہیں آیا ہے ، تو نہ تو کسی مسلمان کے لئے صحیح ہے کہ وہ اس موضوع پر بولے اور نہ کسی ہندو کے لئے ، مگر یہ ہندوستانی جمہوریت کا المیہ ہی ہے کہ معاملہ عدالت میں ہوتے ہوئے ماحول ایسا بنایا جارہا ہے کہ گویا مندر بنانے کے حق میں فیصلہ آچکا ہے ۔ یہ ذہنیت اور اس ذہنیت کے لوگ ہندوستان کی سیکولر روح کے لئے خطرہ ہیں ، ملک کے عوام کے مستقبل کے لئے خطرہ ہیں ، ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں روڑا ہیں ، ان کے سامنے صرف اپنے مفادات ہیں ، یہ اپنی پبلسٹی اور مقبولیت کا گراف بڑھانے کے لئے ایسے ایشوز کو مارکٹ میں گرم رکھنا چاہتے ہیں ، جن سے ان کی دکان چلتی رہے ۔ عوام کو وقت رہتے یہ بات سمجھنی ہوگی ۔ ورنہ جس طرح کی ماحول سازی بی جے پی کی طرف سے کی جارہی ہے ، اس کے نتائج پورے ملک کے لئے نہایت ہی اندوہ ناک اور المناک برآمد ہو گے ۔

TOPPOPULARRECENT