Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / رام مندر کا ہوا کھڑا کرنے کی کوشش

رام مندر کا ہوا کھڑا کرنے کی کوشش

انہیں پھر سے تازہ جفاؤں کی سوجھی
مری چشم نم جو ذرا مسکرائی
رام مندر کا ہوا کھڑا کرنے کی کوشش
بی جے پی کے مختلف گوشے ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کو مختلف سمتوں میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر گوشہ اپنے اپنے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کرنے میںجٹا ہوا ہے ۔ گذشتہ دیڑھ سال سے زیادہ عرصہ میں ملک میںلو جہاد ‘ گھر واپسی ‘ پاکستان بھیجنے جیسے نعرے دیتے ہوئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کیا گیا جس کے نتیجہ میںدادری جیسا سانحہ پیش آیا جہاںمحض گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ان ساری کوششوں کے باوجود بی جے پی کو بہار اسمبلی انتخابات میںکراری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجہ میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ بھی داو پر لگ گئی ۔ اس کے بعد بہار سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے وزیر فینانس ارون جیٹلی کو دہلی کرکٹ اسوسی ایشن میںبد عنوانیوں کا مرتکب قرار دیا تھا ۔ اس صورتحال کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی ملک کا اقتدار حاصل کرنے کے باوجود اپنی سمت کا تعین نہیں کر پائی ہے ۔ جس طرح سے مرکزی حکومت بھی کسی سمت کے بغیر محض نعروں اور تشہیر کے انداز میں چلائی جا رہی ہے اسی طرح سے بی جے پی بھی کسی سمت کے بغیر کام کر رہی ہے ۔ اسے صرف مرکز میں اقتدار حاصل رہنے کا فائدہ دکھائی دے رہا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی دبی دبی آوازوں میں رام مندر کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔ کبھی اتر پردیش کے گورنر رام مندر کی تعمیر کی بات کرتے ہیں تو کبھی کوئی مرکزی وزیر اس تعلق سے بیان دینے آگے آجاتا ہے ۔ اب بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر سبرامنین سوامی نے رام مندر کو موضوع بنانے کی کوشش کی ہے۔ ویسے تو سبرامنین سوامی متنازعہ بیانات دینے اور سیاسی مخالفین پر عدالتی مقدمات دائر کرنے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ اب انہوں نے رام مندر کا مسئلہ اٹھایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کلچر کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ رام مندر کی تعمیر عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہمارے کلچر سے ان کی مراد کیا ہے ؟ ۔ اگر وہ ہندوستانی کلچر کی بات کرتے ہیں تو پھر انہیں اپنے موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوستانی کلچر ایک فرقہ کی عبادت گاہ کو شہید کرکے دوسری عبادتگاہ کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتا ۔
سبرامنین سوامی ایک ذمہ داری اور سینئر لیڈر ہیں۔ انہیں اس طرح کے حساس نوعیت کے اور عدالت میں زیر دوران مسائل پر کوئی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ عدالتی فیصلے کسی رائے عامہ کے تحت نہیں بلکہ شواہد اور حقائق کی بنیا دپر کئے جاتے ہیں۔ جب تک عدالت میں بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ پر اراضی کی ملکیت کا فیصلہ نہیںہوجاتا اس وقت تک کسی بھی فریق یا کسی بھی فرد یا تنظیم کو اس پر کسی طرح کا کوئی تبصرہ یا ادعا کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور نہ ہی اس تعلق سے کسی طرح کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ۔ جب حکومتوں کی جانب اس طرح کے انداز اور کوششوں پر کوئی لگام نہیں کسی جاتی تو ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جو اب ہو رہی ہے یا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ ایک انتہائی حساس نوعیت کا مسئلہ ہے اور اس نے ہندوستان کے عوام کو ذہنی طور پر ایک دوسرے سے دور کردیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کا مقدمہ بھی عدالت میں زیر دوران ہے ۔ بابری مسجد کی اراضی کی ملکیت کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران ہے ۔ ایسے میں اگر سیاسی قائدین کسی طرح کے تبصرے کرتے رہیں اور عدالتی فیصلے سے قبل ہی اس تعلق سے منصوبہ سازی کرتے رہیں تو پھر یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ کچھ گوشے اس تعلق سے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا پھر ان کا مقصد دباو کی صورتحال پیدا کرنا ہے ۔ لیکن اس طرح کی کوششوں سے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہواجاسکتا اور نہ ہی اس سے حقائق اور شواہد کو بدلاجاسکتا ہے ۔ یہ کوششیں بجائے خود بے سود ہیں ۔
سبرامنین سوامی ہوں یا کسی ریاست کے گورنر ہوں یا پھر مرکزی وزیر ہوں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتے اور ہر ایک کو قانون کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی کوششوں پر لگام کسنے سے گریز نہ کرے ۔ بی جے پی کو بھی بحیثیت پارٹی ذمہ دارانہ رول نبھانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے اپنے ارکان پارلیمنٹ نت نئے انداز سے ملک کا ماحول پراگندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارٹی قیادت ایسا لگتا ہے کہ خاموش تماشائی بنتے ہوئے ان کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ اس طریقہ کار کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ‘ترقیاتی سفر کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں امن اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کیا جائے اور یہ ماحول رام مندر کا ہوا کھڑا کرنے سے ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا ۔ حکومت ہو یا بی جے پی ہو دونوں کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT