Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / رام مندر کی تعمیر کیلئے پتھر جمع کرنے کا کام شروع

رام مندر کی تعمیر کیلئے پتھر جمع کرنے کا کام شروع

ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام سے رکاوٹیں ختم ہوجانے کا یقین ‘ وی ایچ پی لیڈر

ایودھیا ( اترپردیش ) 20 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) وشوا ہندو پریشد نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے پتھروں کو جمع کرنے کا کام شروع کردیا ہے ۔ تنظیم کو یقین ہے کہ اس بار رام مندر کی تعمیر کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی کیونکہ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ وشوا ہندو پریشد نے اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی حق ملکیت مقدمہ میں چاہے جو کچھ بھی فیصلہ آئے وہ اندرون ایک سال مندر کی تعمیر کا کام شروع کردے گی ۔ سینئر وی ایچ پی لیڈر ترلوکی ناتھ پانڈے نے بتایا کہ رام مندر کی تعمیر کیلئے استعمال کئے جانے والے پتھروں کے دو ٹرک راجستھان میں بھرت پور کے مقام سے یہاں پہونچے ہیں ہم کو زائد از 100ٹرکس پتھروں کی ضرورت ہے تاکہ مجوزہ رام مندر کو حتمی شکل دی جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان ٹرکس کو یہاں وی ایچ پی کے ہیڈ کوارٹرس کارسیوک پورم میں لا کر پتھر اتارے گئے ہیں۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو دن میں مزید پتھروں لائے جائیں گے ۔ ترلوکی ناتھ پانڈے نے کہا کہ چونکہ اب ریاست ( یو پی ) میں بی جے پی کی حکومت ہے ایسے میں رام مندر کی تعمیر کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی ۔ 2015 میں بھی وی ایچ پی کی جانب سے ملک بھر سے اس طرح کے پتھر منگوانے کا کام شروع ہوا تھا تاہم اسے ناکام بنادیا گیا ۔ ریاست میں اس وقت کی سماجوادی پارٹی کی حکومت نے دو ٹرکس کی آمد کے بعد سے مزید ٹرکس کی آمد کو روک دیا تھا ۔ ان ٹرکس کو کمرشیل ٹیکس محکمہ کی جانب سے متعلقہ فارمس جاری نہیں کئے گئے تھے ۔ ترلوکی پانڈے نے کہا کہ ایک ماہ قبل ہم نے محکمہ کمرشیل ٹیکس میں متعلقہ عہدیدار کو فون کیا تھا اور اس نے فوری طور پر ایک سال سے روکے گئے فارم 39 ہمارے حوالے کردئے ۔ اس تبدیلی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کے ایک درخواست گذار خلیق احمد خان نے کہا کہ ان پتھروں کی منتقلی کے ذریعہ عوام کو یہ پیام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ زعفرانی طاقتیں رام مندر کی تعمیر کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اس کے نتیجہ میں سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ہم کو دستور میں اور سپریم کورٹ میں یقین ہے ۔ سابق وائس چانسلر لکھنو یونیورسٹی روپ ریکھا ورما نے کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ ابھی عدالت میں زیر دوران ہے اس لئے اس طرح کی سرگرمیاں غیر قانونی اور قوم مخالف سرگرمیاں ہیں۔ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ جس وقت سے یو پی میں یوگی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ہندو تنظیمیں اس طرح کی سرگرمیوں میں تیزی لا چکی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT