Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / رام مندر کی مخالفت کرنے والے ’ غداروں ‘ کا سر قلم کردیا جائیگا

رام مندر کی مخالفت کرنے والے ’ غداروں ‘ کا سر قلم کردیا جائیگا

رکن اسمبلی راجا سنگھ کی اشتعال انگیزی ۔ پولیس میں مقدمہ درج ۔ کانگریس کی شدید تنقید
حیدرآباد 9 اپریل ( پی ٹی آئی ) بی جے پی رکن اسمبلی راجا سنگھ نے اپنے اشتعال انگیز ریمارکس کے ذریعہ ایک تنازعہ پیدا کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ’ غدار ‘ رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کرینگے ان کے سر قلم کردئے جائیں گے ۔ کانگریس نے ان کے ریمارکس پر شدید تنقید کی ہے جبکہ پولیس نے ان کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے کا ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ گوشہ محل رکن اسمبلی راجا سنگھ کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جو 5 اپریل رام نومی جلوس کا ہے ۔ اس میں انہیں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی جو بھی ’ غدار ‘ مخالفت کرینگے ان کے سر قلم کردئے جائیں گے ۔ یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر عام ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد پولیس نے آج مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خالد کی شکایت پر ان کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ دبیر پورہ پولیس نے راجا سنگھ کے خلاف دفعہ 295A کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جو عمدا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق ہے ۔ انسپکٹر ڈی وینکنا نائک نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ۔ ویڈیو میں راجا سنگھ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ دن قریب آگیا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے ہر ہندو کا خواب پورا ہوگا ۔ راجا سنگھ کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ حال ہی میں اترپردیش سے ایک ویڈیو واٹس اپ پر آیا ہے جس میں کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہوتا ہے تو وہ سارے ملک میں ’ تہلکہ ‘ مچا دینگے ۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ در اصل ہم اس دن کا کئی برسوں سے انتظار کر رہے ہیں کہ اگر یہ غدار اپنا سر اٹھائیں گے تو ہم ان کا سر قلم کردینگے ۔ آج رابطہ پیدا کئے جانے پر راجا سنگھ نے پھر کہا کہ کسی کے پاس بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو روک سکے ۔ ایک بڑا رام مندر یقینی طور پر ایودھیا میں تعمیر ہوگا ۔ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ جو کوئی رام مندر کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کریگا میں اس سے نمٹ لونگا ۔ مرکزی وزیر اوما بھارتی نے کل کہا تھا کہ یہ ان کی آستھا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہو۔ اس تنازعہ کے دوران کانگریس نے آج بی جے پی پر تنقید کی اور کہا کہ اس کا نقاب اتر گیا ہے اور اقلیتوں کو مودی حکومت میں خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی نے تاہم اس تنازعہ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ رام مندر اتفاق رائے سے ہی تعمیر ہوسکتا ہے ۔ پارٹی لیڈر سائنا این سی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح طو رپر کہا ہے کہ ایک آزاد اور منتخبہ جمہوری سماج میں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ نام نہاد مورل ذمہ دار بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ہماری ڈسیپلن کیڈر والی جماعت ہے ۔ اور اگر ہم یہ محسوس کریں کہ کسی کو روکنے کی ضرورت ہے تو پھر انہیں یقین ہے کہ اس متعلقہ شخص کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا ۔ تاہم کانگریس نے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہے ۔ پارٹی لیڈر سنجے جھا نے کہا کہ بی جے پی فرقہ پرست عناصر کے اس طرح کے ریمارکس سے خود بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کے اصل قائدین ہیں جو پارلیمنٹ یا اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT