Thursday , July 20 2017
Home / Top Stories / رام مند ر کی تعمیر قانونی طریقہ کار سے عمل میں ائی گئی۔ سبرامنیم سوامی

رام مند ر کی تعمیر قانونی طریقہ کار سے عمل میں ائی گئی۔ سبرامنیم سوامی

نئی دہلی:اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر رام مندر کی تعمیر کے متعلق دئے جارہے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنیم سوامی منگل کے روز کہاکہ کانگریس پارٹی کو ہر کام میں کمیاں تلاش کرنے کی عادت ہے۔

انہوں نے پرزور انداز میں کہاکہ رام مند ر کی تعمیر قانونی طریقہ کار سے ہوگی۔اے این ائی سے بار کرتے ہوئے سوامی نے کہاکہ ’’ میں فوری سنوائی کا مطالبہ نہیں کرتا ‘ کیونکہ اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔

صر 11مارچ کے بعد ‘ میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گاتاکہ اس مسلئے پر تازہ بحث ہوسکے۔ان لوگوں کو اگر ہم یہ مسلئے اٹھاتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس مسلئے پر بات نہیں کرتے ہیں تو بھی تکلیف ہوتی ہے‘‘۔

سوامی نے مزیدکہاکہ’’ ہم روز اول سے یہ مسلئے اٹھاتے آرہ ہیں اور ہم نے کبھی نہیں ہے یہ ہمارے لئے انتخابات کاموضوع ہے ۔ہم اس کو صرف عدالت میں پیش کرتے ہیں اور کام بھی عدالت کے ذریعہ مکمل کریں گے۔آپ صرف اسلئے خاموش نہیں بیٹھاسکتے ہیں کہ انتخابات چل رہے ہیں۔

ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ مندر کی تعمیر قانونی طریقہ کار کے ذریعہ ہوگی۔

میں پارٹی کے اندر ہوں‘‘۔قبل ازیں کانگریس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا( ای سی ائی) سے رجوع ہوکر کیشو پرساد موریہ اور سوامی کے خلاف شکایت کی تھا کہ مذکورہ قائدین مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت کاروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

سب سے بڑی اور قدیم پاری کی شکایت پر موریہ اور سوامی کے خلاف ای سی ائی کی جاری کردہ کے مطابق تاکید پر سبرامنیم سوامی بول رہے تھے۔سوامی نے سابق میں کئی موقعوں پر اترپردیش میں رام مندر کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ ہے کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے مندر کے مسلئے کونذر انداز کیا اور انہیں انتخابات میں شکست کھانی پڑی۔

بی جے پی نے ریاست اترپردیش میں انتخابات کے پیش نظر جاری کردہ اپنے انتخابی منشور میں رام مندر کو شامل کرکے ریاست کی سیاست کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے ۔

اس سب سے ہٹ کر سوامی نے رام مندر کے مسلئے کو منشور میں شامل کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات کے بعد سپریم کورٹ میں یومیہ اساس پر سنوائی کے ذریعہ تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کیاجاسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT