Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / رام ناتھ کووند کا موقف مستحکم، 23 جون کو نامزدگی کا ادخال

رام ناتھ کووند کا موقف مستحکم، 23 جون کو نامزدگی کا ادخال

شیوسینا نے بھی تائید کردی، اپوزیشن جماعتیں ہنوز متفقہ امیدوار کھڑا کرنے کوشاں
ممبئی ؍ نئی دہلی۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے کے صدارتی نامزد امیدوار رام ناتھ کووند کو مزید تقویت میں کلیدی حلیف شیوسینا نے آج رات اپنی تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سینئر پارٹنر بی جے پی کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے درمیان تجسس کو ختم کردیا۔ 71 سالہ دلت لیڈر کو سینا سربراہ ادھوٹھاکرے کی حمایت کا اعلان ہوا لیکن دوسری طرف کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں آنے والے صدارتی چناؤ کیلئے اپنا مشترکہ امیدوار پیش کرنے کی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ تاہم وکیل سے سیاستدان بننے والے رام ناتھ کا 14 ویں صدر جمہوریہ کی حیثیت سے انتخاب بہرصورت عملاً یقینی ہے کیونکہ بعض غیر این ڈی اے علاقائی پارٹیوںمیں بھی تائید کا تیقن دے دیا ہے۔ دریں اثناء رام ناتھ کووند نے گورنر بہار کی حیثیت سے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے ان کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے ۔ راشٹرپتی بھون سے جاری ایک اعلامیہ میں بتایا گیا کہ مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو گورنر بہار کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ این ڈی اے کے نامزد رام ناتھ کووند 17 جولائی کے صدارتی الیکشن کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی 23 جون کو داخل کریں گے اور اس موقع پر بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی متوقع ہے۔

رام ناتھ کووند کو مرکزی حکومت کی جانب سے ایم ایس جی کمانڈوز کی Z+ سیکوریٹی بھی فراہم کردی گئی ہے۔ عددی طاقت کے اعتبار سے رام ناتھ کا موقف مستحکم ہے۔ الیکٹورل کالج کی جملہ عددی طاقت 10,98,903 ووٹ ہے جس میں ہر ایم پی کے ووٹ کی قدر 708 ہے۔ ایم ایل اے کے ووٹ کی قدر متعلقہ ریاست کی آبادی پر منحصر ہوتی ہے۔ امیدوار کو چناؤ جیتنے کیلئے 50 فیصد سے زائد ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ نصف ووٹوں کی تعداد 5,49,452 ہے۔ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے پاس شیوسینا کے بشمول 5,37,683 ووٹ ہیں لیکن بیجو جنتادل، ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس کی تائید کے تیقن کے ساتھ رام ناتھ کووند کو معقول اکثریت کے ساتھ کامیابی ملنے کا یقین ہے بلکہ انہیں موجودہ صدر پرنب مکرجی کے محصلہ 7,13,763 سے کہیں بڑھ کر ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس دوران سی پی آئی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے عہدہ کیلئے سیکولر امیدوار وقت کی ضرورت ہے اور اپوزیشن پارٹیاں یقینا اپنا امیدوار کھڑا کریں گی۔ کانگریس کے ذرائع نے کہا کہ پارٹی قائدین نے دیگر جماعتوں کے قائدین سے بات کرتے ہوئے بات کی ہے تاکہ پارلیمنٹ میں 22 جون کو تمام غیر این ڈی اے پارٹیوں کی اہم میٹنگ میں ان کی موجودگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

چیف منسٹر یوگی کیخلاف قبائلی عورت کا مقدمہ
بسواناتھ (آسام) ، 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک قبائلی عورت نے یہاں کی عدالت سے رجوع ہوکر چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ اور آسام لوک سبھا ایم پی رام پرساد شرما کو اُس کی برہنہ تصویر سوشل میڈیا میں ڈال دینے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ لکشمی اورانگ کا کہنا ہے کہ وہ تصویر دس سال قبل گوہاٹی میں ایک ہڑتال کے دوران لی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT