Thursday , April 27 2017
Home / Top Stories / رانچی میں آج تیسرا ٹسٹ ، دونوں ہی ٹیمیں سبقت کی خواہاں

رانچی میں آج تیسرا ٹسٹ ، دونوں ہی ٹیمیں سبقت کی خواہاں

رانچی۔15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کپتان ویراٹ کوہلی اور آسٹریلیائی کپتان اسٹیون اسمتھ رانچی میں کل شروع ہونے والے سیریز کے تیسرے میچ میں سبقت حاصل کرنے کے ارادے سے جب اتریں گے تو یہ مقابلہ ان کے لئے کسی امتحان سے کم نہ ہوگا۔بارڈر۔گواسکر ٹرافی کے چار ٹسٹ میچوں کی اس سیریز میں آسٹریلیا پہلا میچ تین دن میں جیتا تھا جبکہ ہندوستان نے بنگلور کے دوسرے میچ میں75  رنز سے چار دنوں میں جیت اپنے نام کر کے سیریز1-1  سے برابر کر لی۔ دونوں ہی ٹیموں کے لئے اب رانچی میں برتری حاصل کرنے کا اچھا موقع رہے گا جہاں پہلی مرتبہ ٹسٹ میچ کا انعقاد ہورہا ہے تاہم موجودہ سیریزکافی دلچسپ ہوگئی ہے اور بنگلور ٹسٹ میں مہمان ٹیم کے کپتان اسمتھ کے ڈریسنگ روم کی طرف ڈي آر ایس کو لے کر اشارہ کرنے کے بعد جو تنازعہ پیدا ہوا تھا اس نے نہ صرف دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں بلکہ کرکٹ بورڈوں کو بھی آمنے سامنے لا کر کھڑا کیا۔دونوں ٹیموں کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور فی الحال دونوں ٹیمیں اپنے جارحانہ کھیل اور بہترین حکمت عملی کو برقرار رکھنے میں کامیاب بھی رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ برابری پر ہیں۔ تاہم کپتان اسمتھ نے جہاں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے وہیں کوہلی نے گزشتہ دونوں میچوں میں  مایوس کیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس اہم میچ میں ہندوستانی کپتان اپنی فارم حاصل کر لیں گے ۔ کوہلی نے پچھلی چار اننگز میں صفر، 13، 12 اور 15 رنز ہی بنائے ہیں۔

تاہم لوکیش راہول، چتیشور پجارا اور اجنکیا رہانے نے متاثر کیا ہے اور ضروری رن بنائے ہیں لیکن اس میںکوئی شبہ نہیں ہے کہ کپتان کے ناکام ہونے کا اثر باقی بیٹسمینوں پر پڑ رہا ہے ۔  ہندوستان کی اوپننگ جوڑی کی ناکامی نے بھی ٹیم پر دباؤ بنایا ہے ۔ تاہم رانچی میچ سے پہلے ایک اچھی خبر کمبلے نے مرلی وجے کے متعلق دی ہے جو اب فٹ ہیں اور ٹیم میں واپسی کے لئے بھی تیار ہیں۔ مرلی پونے ٹسٹ میں کھیلنے کے بعد دوسرے میچ میں نہیں کھیل پائے تھے  ان کی جگہ ابھینو مکنڈ نے مایوس کیا اور صفر اور 16 رنز ہی بنا پائے ۔ راہول اچھی فارم میں ہیں اور اب تک چار اننگز میں 215  رنز کے ساتھ ٹیم کے بہترین اسکورر بھی ہیں۔ پجارا   146رنز دوسرے اور مڈل آرڈر میں رہانے 100 رنزبناناکر تیسرے نمبر پر ہیں۔ لیکن نچلی صف کے بیٹسمینوں کی کارکردگی بھی اب تک مایوس کن رہی ہے اور ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ ضرورت کے مطابق بیٹنگ میں اہم کردار ادا نہیں کررہے ہیں کوہلی کی کارکردگی تیسرے میچ کی جیت میں اہم کردار اداکرسکتی ہے کیونکہ اگر آسٹریلیائی بیٹسمینوں کو دیکھا جائے تو ان کی کارکردگی میزبان ٹیم کے کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ مہمان ٹیم نے پہلا ٹسٹ محض تین دن میں اپنے نام کیا اور333 کے بڑے فرق سے میچ جیتا تھا۔ جہاں پونے کی پچ پر زیادہ دیر ٹک نہیں پارہے تھے وہیں مشکل حالت میں ا سمتھ نے 109 رن کی اننگز کھیلی۔دنیا کے نمبر ایک ٹسٹ بیٹسمین اسمتھ اب تک چار اننگز میں 172 رنز بنا کر ٹیم کے بہترین اسکورر ہیں۔ اس کے علاوہ میٹ رینشا، ڈیوڈ وارنر، شان مارش، پیٹر ھینڈسکوب، وکٹ کیپر میتھیو ویڈ نے بھی بیٹ  سے کافی متاثر کیا ہے ۔ تاہم رانچی ٹسٹ سے پہلے آسٹریلیا کو اپنے اہم کھلاڑیوں میچل اسٹارک اور میچل مارش کو گنوانا پڑا ہے

جو اس کے لئے بڑا جھٹکا ہے ۔ اسٹارک کی جگہ اب پیٹ کمنس کو ٹیم میں شامل کیا ہے ، لیکن کمنس پانچ سال کے بعد اپنا محض دوسرا ٹسٹ کھیل رہے ہیں اور غیر تجربہ کار کھلاڑی کی کارکردگی کے متعلق فی الحال ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن یہ تو واضح ہے کہ دو اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی اور پچھلا میچ ہارنے اور اسمتھ کے سلسلے میں پیدا ہوئے تنازعہ کے بعد آسٹریلیائی ٹیم رانچی میں کافی دباؤ میں ہوگی جس کا ہندوستان کو یقیناً فائدہ مل سکتا ہے ۔ دونوں ٹیموں کے اسپنروں اور فاسٹ بولروں  نے فتوحات میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ ہندوستان کے پاس اس وقت نمبر ایک اسپنر اشون اور جڈیجہ کی شاندار جوڑی موجود ہے جس میں دونوں اسپنروں نے مل کر اب تک 40  میں سے27 وکٹ لئے ہیں۔ اشون نے20.46 کے اوسط سے 15 اور جڈیجہ نے17.08 کی اوسط سے12 وکٹس لئے ہیں۔وہیں آسٹریلیائی اسپنروں نے بھی ہندوستانی پچوں پر بہترین کارکردگی پیش کی ہے آسٹریلیائی اسپنر اسٹیو اوکیف نے پونے میں کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک میچ میں ہی 12 وکٹ حاصل کئے تھے ۔ وہ گزشتہ دو میچوں میں 15 وکٹ لے چکے ہیں وہیں لیون دوسرے کامیاب اسپنر ہیں جن کے کھاتے میں13 وکٹ ہیں۔ بنگلور میں جوش ہیزل ووڈ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور چھ وکٹ لئے تھے ۔ انہوں نے کل سات وکٹ لئے ہیں۔ وہیں اب ہیزل وڈ کے ساتھ اسٹارک کی جگہ آئے کمنس کو موقع دیا جا سکتا ہے ۔ امیش یادو  ٹیم کے تیسرے کامیاب بولر ہیں جنہوں نے17.55 کی اوسط سے نو وکٹ لئے ہیں۔ آئی سی سی نے پونے اور بنگلور کی وکٹوں کو دوسرے درجے کا مانا ہے جہاں تین دن میں40  وکٹس گر گئے  لیکن اب نظریں پہلا ٹسٹ منعقد کر رہی رانچی کی وکٹ  پر ٹکی ہیں ‘ فی الحال بہت حوصلہ افزا ردعمل نہیں مل رہا ہے ۔کیوریٹر ایس بی سنگھ نے پچ کے لئے خاص  نہیںکہا ہے لیکن یہ دیکھنے سے کافی سادہ  نظر آرہی ہے جس پر خاص اچھال نہیں ملتا نظر آرہا ہے ۔ تاہم ان تمام حالات میںوکٹ کا کردار سب سے اہم ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT