Thursday , June 22 2017
Home / سیاسیات / راہول سے ٹوئٹر پر ربط توڑنا بی جے پی میں شامل ہونے کا اشارہ نہیں

راہول سے ٹوئٹر پر ربط توڑنا بی جے پی میں شامل ہونے کا اشارہ نہیں

گجرات کے کانگریس لیڈر واگھیلا کی وضاحت۔ جھوٹی باتیں اور قیاس آرائیوں کو پھیلنے سے روکنا اصل مقصد
احمدآباد 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سوشیل میڈیا کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر پر راہول گاندھی اور دیگر پارٹی رفقاء سے ناطہ توڑ لینے کے ایک روز بعد کانگریس لیڈر شنکر سنہہ واگھیلا نے آج بی جے پی میں واپس ہونے کے تعلق سے قیاس آرائی کو ختم کردیا۔ واگھیلا نے کہاکہ نائب صدر کانگریس سے ٹوئٹر پر علیحدگی کا اُن کا فیصلہ شخصی نہیں اور یہ کہ وہ گجرات اسمبلی چناؤ ہونے تک سوشیل میڈیا پر سرگرم نہیں رہیں گے۔ یہ الیکشن رواں سال کے اواخر منعقد ہونا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کے تعلق سے جھوٹی باتیں اور قیاس آرائیوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اُنھوں نے ایسا کیا ہے۔ پردیش کانگریس قائدین کا ایک گوشہ یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ واگھیلا کو وزارت اعلیٰ امیدوار قرار دیا جائے لیکن پارٹی نے واضح نہیں کیا ہے کہ وہ چناؤ سے قبل اِس عہدے کے لئے کسی کو نامزد نہیں کرے گی۔ واگھیلا نے گزشتہ روز پارٹی کے آئی ٹی سیل کے زیراہتمام ایک ایونٹ میں شرکت سے گریز بھی کیا اور اُن کی نقل و حرکت کو پارٹی میں ممکنہ دراڑ کا اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ آج گاندھی نگر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے واگھیلا نے وضاحت کی کہ وہ وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں نہیں ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ فی الحال سبکدوشی کا اُن کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ واگھیلا جو ’باپو‘ کے طور پر معروف ہیں، اُنھوں نے میڈیا والوں کو بتایا کہ ویسے تو میں نے پہلے ہی وضاحت کردی ہے کہ میں اگلا چیف منسٹر بننے کی دوڑ میں نہیں ہوں لیکن باپو بطور سی ایم جیسے پیامات سوشیل میڈیا میں گشت کرائے جارہے ہیں۔ اِس لئے کسی بھی قسم کی اُلجھن اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے میں نے ہر کسی سے ٹوئٹر پر دور ہوجانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق چیف منسٹر گجرات نے کہاکہ اِس اقدام میں شخصی نوعیت کا کچھ نہیں کیوں کہ میں نے سب کو ‘unfollow’ کیا ہے۔ میں نے سوشیل میڈیا پر فی الحال سرگرم نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میرے تعلق سے جھوٹی باتیں اور قیاس آرائیوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ میں نے یہ فیصلہ اِس لئے کیا کیوں کہ الیکشن سے متعلق ہماری منصوبہ بندی پر شدید اثر پڑرہا تھا۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے راہول گاندھی اور دیگر سے ربط توڑ لینے کے علاوہ 77 سالہ واگھیلا جو گجرات اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں، اُنھوں نے اپنے اکاؤنٹ سے تمام مخالف بی جے پی پوسٹ بھی حذف کردیئے جس سے ایسی باتوں کو تقویت ملی کہ وہ کانگریس چھوڑ کر دوبارہ زعفرانی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں جسے اُنھوں نے 1996 ء میں چھوڑا تھا۔ واگھیلا گزشتہ روز پارٹی کے آئی ٹی سیل کے زیراہتمام ایونٹ میں غیر حاضر رہے جہاں سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل اور گجرات کانگریس سربراہ بھرت سنہہ سولنکی شریک ہوئے۔ یہ عجیب بات ہے کہ احمد پٹیل نے پارٹی کیڈر سے اپیل کی تھی کہ سوشیل میڈیا کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے زعفرانی پروپگنڈے کو ناکام بنایا جائے۔ واگھیلا نے یہ ادعا بھی کیاکہ وہ چیف منسٹر بننے کی دوڑ میں نہیں ہیں اور آنے والے ریاستی چناؤ کے لئے سولنکی کے تحت کام کرنے تیار ہیں۔ واگھیلا نے گزشتہ روز یہ کہتے ہوئے بھی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی کہ وہ گجرات اسمبلی چناؤ لڑنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT