Thursday , October 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / راہِ طریقت کے آداب

راہِ طریقت کے آداب

…گزشتہ سے پیوستہ …
مریدین کے آداب یہ ہیں :
۱۔   مرید کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرشد کی صحبت میں اپنے دل کو مرشد کی طرف متوجہ رکھے۔ مرشد کے پاس حاضری کے دوران کسی اور طرف توجہ نہ کرے۔
۲۔    مرشد کی مکمل اقتدا کرے ، کھانے پینے ، سونے جاگنے، چلنے پھرنے اور اُٹھنے بیٹھنے میں مرشد کی پیروی کرے۔ عبادات کو اسی کے طریقے پر ادا کرے ۔
۳ ۔    مرشد پر کسی قسم کااعتراض نہ کرے ، خواہ وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو ۔
۴۔    مرشد سے کرامت طلب نہ کرے ، بلکہ کرامت طلبی کے وسوسے کو بھی دل میں جگہ نہ دے۔ کرامت طلب کرنا اعتقاد و عقیدت کی نفی ہے۔ انبیاء کرام سے معجزہ کافروں نے طلب کیا ہے ، مسلمانوں نے نہیں۔
۵۔   اگر کوئی شبہ دل میں آئے تو مرشد کے سامنے پیش کردے ، مرشد کی تفہیم سے دور ہوجائے تو بہتر ، ورنہ اپنی فہم کا قصور تصور کرے۔
۶۔    جو خواب دیکھے ، وہ مرشد کے سامنے بیان کردے اور تعبیر اسی سے معلوم کرے ، اگر کوئی تعبیر اس پر منکشف ہوئی ہو تو وہ بھی پیش کردے اور خواب کی صحت و عدم صحت اسی سے معلوم کرے ، اپنے کشف پر اعتماد نہ کرے ۔
۷۔   کسی خواب کی تعبیر شریعت کے خلاف نہ لے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے شریعت کی بنیاد آیات محکمات پر رکھی ہے ، خوابوں پر نہیں رکھی۔ خلاف شریعت کوئی خواب معتبر نہیں۔
۸۔    اپنی آواز کو مرشد کے سامنے پست رکھے ، بلند نہ کرے ۔
۹۔    جو فیض حاصل ہو اس کو مرشد کے توسط اور وسیلے سے سمجھے ۔
۱۰۔   اگر مرید کسی وجہ سے کوئی ادب ،کوشش کے باوجود بجا نہ لاسکے تو وہ قابل معافی ہے لیکن اپنی کوتاہی کا اعتراف دل میں ضروری ہے اگر ادب بھی بجا نہ لائے اور اپنی کوتاہی کو  کم سے کم دل سے تسلیم بھی نہ کرے تو وہ فیوض و برکات سے محروم رہے گا اور یہ بڑی بدبختی کی بات ہے ۔
۱۱۔    اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے اور برے اخلاق سے دور رہے ۔
۱۲۔  کسی بھی وقت یاد الٰہی سے غافل نہ رہے ۔
۱۳۔  گفتگو میں لب و لہجہ نرم رکھے ، انکساری کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دے ۔
۱۴۔  اتنا زیادہ نہ کھائے کہ سستی آئے اور نہ اتنا کم کھائے کہ عبادت میں ضعف آئے۔
۱۵۔  کسی میں عیب نہ ڈھونڈھے ، اگر کسی میں کوئی عیب نظر آجائے تو اس کی پردہ پوشی کرے۔ اور اپنے عیوب کو پیش نظر رکھے۔
۱۶۔   چہرہ تبسم آفریں رکھے ۔ ہنسی معمولی درجے کی ہو ۔ قہقہہ ہرگز نہ لگائے ( واضح رہے کہ ہنسی میں آواز نہیں ہوتی ، اگر آواز آجائے تو وہ قہقہہ ہے ) تبسم ( مسکراہٹ)، ضحک (ہنسی) اور قہقہہ کے فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ، تبسم محمود ہے ، ہنسی جائز ہے اور قہقہہ ممنوع۔
۱۷۔   لوگوں سے نرمی برتے ، ان کی خطاؤں سے درگذر کرے ۔
۱۸۔   جاہلانہ رسموں سے دور رہے ۔
۱۹۔   ہرروز اپنے اعمال کامحاسبہ کرتا رہے ، اپنے اعمال صالحہ اور عبادت پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو ۔یوں اعتقاد رکھے کہ میرے اعمال صالحہ اور عبادات تو کسی قابل نہیں ۔ اگر اﷲ تعالیٰ قبول فرمالے تو یہ اُس کا فضل و کرم ہے ۔
۲۰۔   اولیائے کرام کے مزارت سے استفادہ کرتا رہے اورکبھی کبھی عام مسلمانوں کی قبروں پر جاکر انھیں کچھ ایصال ثواب کرتا رہے ۔
۲۱۔   علمائے حق اور صالحین کی صحبت اختیار کرے ، جہلاء کی صحبت سے دور رہے ۔
۲۲۔   اپنے لیے ہمیشہ ثبات ایمان ، استقامت اور حسن خاتمہ کی دعا کرتا رہے ۔
۲۳۔  موت کو نہ بھولے ، آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے ۔ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے۔
۲۴۔  شریعت کا ہمیشہ پابند رہے ۔
۲۵۔   مرشد کی ہدایات پر عمل کرتا رہے ، اس کے ارشادات کو کبھی نظرانداز نہ کرے ۔
۲۶۔   مرشد کے متعلق یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اس کو میرا سب حال معلوم ہے، اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ اور عیوب خود سے دوسرے بندوں پر ظاہر نہیں فرماتا کیوں کہ وہ ستارالعیوب ہے ۔ اگر کسی کو کسی مصلحت کی بناء پر غیب پر مطلع کردیا جائے تو وہ اس کا کشف ہے اسے علم غیب نہیں کہتے ۔
۲۷۔  بندگانِ خدا کا ہمیشہ خیرخواہ رہے ، ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کو اپنا شعار بنالے ۔
۲۸۔  ہروقت باوضو رہے اگر وضو دشوار ہوتو کم از کم تیمم ہی کرلے ۔
۲۹۔  مرشد کے مصلے پر قدم نہ رکھے ۔
۳۰۔  تلاوت قرآن ، اوراد و وظائف ، مراقبہ ناغہ نہ کرے ، اگر کبھی اتفاقاً ناغہ ہوجائے تو بعد میں اس کی قضا کرلے ۔
۳۱۔  حواس خمسہ کی حفاظت کرے اور تقلیلات اربعہ کی پابندی کرے ۔
راہِ طریقت کے دو فریق ہیں ، ایک مرشد دوسرا مرید۔ مرشد ، مریدی کی منزل سے گزرکر مسند ارشاد پر بیٹھتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب وہ مریدی کے آداب ترک کردے، اس کو ہمیشہ ان آداب سے مؤدب رہنا ضروری ہے۔ لیکن جب وہ مسند ارشاد پر متمکن ہوا ہے تو اب اس کے لئے مرشد کے آداب بھی ضروری ہوجاتے ہیں جو مرید کے آداب پر مزید ہیں ۔ مرشد کے آداب یہ ہیں :
۱۔  مرشد کیلئے ضروری ہے کہ وہ مرید کی کسی لغزش ، غلطی یا اخلاقی سقم کو نظرانداز نہ کرے بلکہ مرید کو اس پر متنبہ کرے اور اگر اس بارے زجر و توبیخ کی ضرورت محسوس کرے تو اس سے بھی گریز نہ کرے کیوں کہ مرید کے سقم کو اگر مرشد نظرانداز کردے تو وہ سقم مرید میں جڑ پکڑے جائے گا اور مرشد کا سکوت مرید کے پاس اُس سقم کا سند جواز بن جائے گا ۔ یا اس سقم پر مطلع نہ ہونے کی وجہ سے نادانستہ طورپر وہ سقم مرید میں پختہ ہوجائے گا ۔
۲۔  مرشد کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ کسی معاملہ میں گفتگو کررہا ہو اور کوئی اس سے بحث کرنا شروع کردے تو مرشد اپنا کلام منقطع کردے اور قطعاً کسی بحث مباحثہ میںنہ پڑے ۔ نزاع مناسب نہیں ، خاموشی اختیار کرلے ۔
۳۔ مرشد کے لئے ضروری ہے کہ اذکار ، اوراد ، مراقبات اور خلوت مع اﷲ کے لئے کوئی وقت مقرر رکھے ۔
۴۔ اپنا کشف کسی پر ظاہر نہ کرے اور بالخصوص اگر کسی کے عیب پر مطلع ہو تو اس کو ہرگز ظاہر نہ کرے ، کیوں کہ یہ ستارالعیوب کے پردے کی پردہ دری ہے جو بہت بڑا گناہ ہے ۔
۵۔ اپنے تمام مریدوں سے محبت رکھے ان کو اپنے احباب اور اولاد کی طرح سمجھے اُن کا خیرخواہ رہے اور ان کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھے ۔
٭٭٭

TOPPOPULARRECENT