Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / راہِ طریقت کے آداب

راہِ طریقت کے آداب

…گزشتہ سے پیوستہ …
جو شخص اولیاء اﷲ کا اور بزرگوں کا ادب کرتا ہے اس کو اﷲ تعالیٰ اپنا مقرب بنالیتے ہیں۔ اور اس کو خدا سے محبت کرنے والوں میں شامل کرلیا جاتا ہے ۔ پھر وہ جس قدر ادب کرتا جائے گا ، اسی قدر اس کے مراتب بلند ہوتے جائیں گے ۔ بالآخر اس کو مقام مشاہدہ تک پہنچادیا جاتا ہے ۔ اس کے برخلاف جو شخص اولیاء اور بزرگوں کے آداب بجالانے میں کوتاہی کرتا ہے اُس کو اتباع سنت سے محروم کردیا جاتا ہے اور جس کو سنتوں سے محروم کردیا جاتا ہے ، اس کو فرائض سے بھی محروم کردیاجاتا ہے پھر جس کو فرائض سے محروم کردیا جاتا ہے ، اس کو آخرت کی ابدی سعادتوں سے بھی محروم کردیا جاتا ہے ۔
اسی لئے صوفیہ کرام نے راہِ طریقت کے آداب مرتب فرمادیئے ہیں، اِن آداب کو اختیار کرنا اوران پر عمل کرنا ، سالک کے لئے ضروری ہے۔
سالکین راہِ طریقت دو طرح کے ہوتے ہیں ، ایک ہوتے ہیں مراد اور دوسرے مرید ۔ مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کرلیا جاتا ہے ۔
اللّٰہُ یَجْتَبِیْ إِلَیْہِ مَن یَشَآء  اﷲ جس کو چاہتا ہے منتخب فرمالیتا ہے
(۴۲:۱۳)
قضا و قدر کے فیصلے اُن کو محبت کے راستہ پر کشاں کشاں لے جاکر منزل مقصود تک پہنچادیتے ہیں ۔ ان کی تادیب بالواسطہ یا بلاواسطہ کردی جاتی ہے ، اگر ان کو لغزش ہوجائے تو انھیں فوراً مطلع کردیا جاتا ہے ۔ ان کے اعمال و افعال کی نگرانی کی جاتی ہے اور انھیں راستہ سے اِدھر اُدھر نہیں ہونے دیا جاتا ، یہ لوگ مجذوب سالک کہلاتے ہیں، یعنی بطریق جذب ان کو اﷲ تعالیٰ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں یہ وہ خوش نصیب ہوتے ہیں جو رہنمائے طریقت یا مرشد کے بغیر ہی اﷲ تعالیٰ کے لطف و کرم سے منزل کی راہ پالیتے ہیں لیکن ایسے لوگوں (یعنی مرادوں )کی تعداد بہت کم یعنی آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔
مرید وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ارادے اور اختیار سے طریقت کی راہ پر آتے ہیں اور جدوجہد سے آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کو رہنمائے طریقت یعنی پیرومرشد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایسے لوگوں کی تعداد مرادوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے ان کو صحبت مرشد کی رعایت کرنا ، شرائط صحبت کو ملحوظ رکھنا اور آداب طریقت کو شعوری طورپر سمجھنا ، سیکھنا اور پھر اُن کو برتنا ضروری ہوتی ہے ۔ آداب طریقت کے بغیر انھیں شیخ کی صحبت یا مرشد کی مجلس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔
مریدین کے آداب یہ ہیں :
۱۔   مرید کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرشد کی صحبت میں اپنے دل کو مرشد کی طرف متوجہ رکھے ۔ مرشد کے پاس حاضری کے دوران کسی اور طرف توجہ نہ کرے۔
۲۔    مرشد کی مکمل اقتدا کرے ، کھانے پینے ، سونے جاگنے، چلنے پھرنے اور اُٹھنے بیٹھنے میں مرشد کی پیروی کرے۔ عبادات کو اسی کے طریقے پر ادا کرے ۔
۳ ۔    مرشد پر کسی قسم کااعتراض نہ کرے ، خواہ وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو ۔
۴۔    مرشد سے کرامت طلب نہ کرے ، بلکہ کرامت طلبی کے وسوسے کو بھی دل میں جگہ نہ دے۔ کرامت طلب کرنا اعتقاد و عقیدت کی نفی ہے ۔ انبیاء کرام سے معجزہ کافروں نے طلب کیا ہے ، مسلمانوں نے نہیں۔
۵۔   اگر کوئی شبہ دل میں آئے تو مرشد کے سامنے پیش کردے ، مرشد کی تفہیم سے دور ہوجائے تو بہتر ، ورنہ اپنی فہم کا قصور تصور کرے۔
۶۔    جو خواب دیکھے ، وہ مرشد کے سامنے بیان کردے اور تعبیر اسی سے معلوم کرے ، اگر کوئی تعبیر اس پر منکشف ہوئی ہو تو وہ بھی پیش کردے اور خواب کی صحت و عدم صحت اسی سے معلوم کرے ، اپنے کشف پر اعتماد نہ کرے ۔
…جاری ہے
۷۔    کسی خواب کی تعبیر شریعت کے خلاف نہ لے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے شریعت کی بنیاد آیات محکمات پر رکھی ہے ، خوابوں پر نہیں رکھی۔ خلاف شریعت کوئی خواب معتبر نہیں۔
۸۔    اپنی آواز کو مرشد کے سامنے پست رکھے ، بلند نہ کرے ۔
۹۔    جو فیض حاصل ہو اس کو مرشد کے توسط اور وسیلے سے سمجھے ۔
۱۰۔   اگر مرید کسی وجہ سے کوئی ادب کوشش کے باوجود بجا نہ لاسکے تو وہ قابل معافی ہے لیکن اپنی کوتاہی کا اعتراف دل میں ضروری ہے اگر ادب بھی بجا نہ لائے اور اپنی کوتاہی کو کم سے کم دل سے تسلیم بھی نہ کرے تو وہ فیوض و برکات سے محروم رہے گا اور یہ بڑی بدبختی کی بات ہے ۔
۱۱۔    اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے اور برے اخلاق سے دور رہے ۔
۱۲۔ کسی بھی وقت یاد الٰہی سے غافل نہ رہے ۔
۱۳۔ گفتگو میں لب و لہجہ نرم رکھے ، انکساری کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دے ۔
۱۴۔ اتنا زیادہ نہ کھائے کہ سستی آئے اور نہ اتنا کم کھائے کہ عبادت میں ضعف آئے۔
۱۵۔ کسی میں عیب نہ ڈھونڈھے ، اگر کسی میں کوئی عیب نظر آجائے تو اس کی پردہ پوشی کرے۔ اور اپنے عیوب کو پیش نظر رکھے۔
۱۶۔ چہرہ تبسم آفریں رکھے ۔ ہنسی معمولی درجے کی ہو ۔ قہقہہ ہرگز نہ لگائے ( واضح رہے کہ ہنسی میں آواز نہیں ہوتی ، اگر آواز آجائے تو وہ قہقہہ ہے ) تبسم ( مسکراہٹ)، ضحک (ہنسی) اور قہقہہ کے فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ، تبسم محمود ہے ، ہنسی جائز ہے اور قہقہہ ممنوع۔

TOPPOPULARRECENT